اضافی پیسے کمانے کے لیے مفید مشورے

اضافی پیسے کمانے کے لیے مفید مشورے
اضافی پیسے کمانے کے لیے مفید مشورے

  

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک)کیا آپ کچھ اضافی آمدنی کمانا چاہتے ہیں؟ ماہرین نے اس حوالے کچھ ایسے مفید مشورے دیئے ہیں جن میں سے کوئی ایک شاید آپ کے لیے بھی فائدہ مند ہو سکتا ہے۔ میل آن لائن کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ کئی ایسے طریقے ہیں جن پر عمل کرکے بغیر کسی اضافی کوشش کے آپ اضافی آمدنی حاصل کر سکتے ہیں۔ 

ان میں ایک طریقہ یہ ہے کہ ایئر بی این بی (Airbnb)جیسے پلیٹ فارمز کو بروئے کار لاتے ہوئے اپنے گھر کا کوئی اضافی کمرہ یا گیراج وغیرہ کرائے پر دے دیں۔ اس طرح آپ ماہانہ 50سے 250پاﺅنڈ تک کما سکتے ہیں۔ اگر آپ فل ٹائم کسی شخص کو اپنے اضافی بیڈروم میں کرائے پر رکھ لیں تو آپ سالانہ ساڑھے 7ہزار پاﺅنڈ تک کما سکتے ہیں۔ 

ماہرین کا کہنا ہے کہ آپ گھر کی الماریاں اور بالائی کمرے بھی کرائے پر دے سکتے ہیں۔ آپ کے اردگرد ہی ایسے لوگ مل جائیں گے جن کے پاس اضافی اشیاءہوں گی مگر ان کے گھر میں انہیں رکھنے کے لیے جگہ نہیں ہو گی۔ وہ آپ سے اپنی کے گھر کی الماری، سٹور روم اور بالائی کمرہ وغیرہ کرائے پر لے سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ اگر آپ کے گھر کا باغیچہ کافی بڑا ہے تو آپ اس کا کچھ حصہ اپنے ہمسائے یا کسی اور کو کرائے پر دے سکتے ہیں۔ 

ماہرین کے مطابق آپ دوسروں کے پالتو جانوروں کی اپنے گھر میں دیکھ بھال کرکے بھی خاطر خواہ آمدنی کما سکتے ہیں۔ جو لوگ کام پر جاتے ہیں اور پیچھے ان کے پالتو جانور گھر میں اکیلے ہوتے ہیں، انہیں ایسے لوگوں کی ضرورت ہوتی ہے جو ان کی غیرموجودگی میں ان کے جانوروں کا خیال رکھ سکیں۔ یہ کام کرکے آپ ایک جانور کے عوض روزانہ 30پاﺅنڈ تک کما سکتے ہیں۔ 

آپ اپنی کار کو تشہیر کے لیے وقف کرکے بھی آمدنی کما سکتے ہیں۔ آپ اپنی کار کے اوپر مختلف مصنوعات کے اشتہارات آویزاں کر سکتے ہیں، جس کے عوض کمپنیاں آپ کو ادائیگی کریں گی۔ اس مقصد کے لیے آپ ویب سائٹ carquids.comجیسے پلیٹ فارمزسے استفادہ کر سکتے ہیں جہاں سے آپ کو ماہانہ 100پاﺅنڈ تک کے عوض اپنی گاڑی پر آویزاں کرنے کے لیے اشتہارات مل جائیں گے۔ 

اس کے علاوہ اپنی پرانی، ٹوٹی پھوٹی جیولری، برتن، گھڑیاں اور دیگر اشیاءفروخت کرکے اور ٹوٹے پھوٹے ناکارہ موبائل فونز فروخت کرکے بھی کچھ پیسے حاصل کر سکتے ہیں۔ یہ اشیاءSellmymobile.com، mazumamobile.com، envirofone.comاور ’ای بے‘جیسی ویب سائٹس پر فروخت کی جا سکتی ہیں۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -