"عمران خان زندہ لاش، دھمکانے والے کے حق میں فیصلہ دینے کی روایت نہ ڈالی جائے" مریم نواز کی پریس کانفرنس

"عمران خان زندہ لاش، دھمکانے والے کے حق میں فیصلہ دینے کی روایت نہ ڈالی جائے" ...
سورس: Screen Grab

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کا کہنا ہے کہ  عمران خان ایک زندہ لاش ہے، عوام نے اسے  زناٹےدار تھپڑ مارا جس کی گونج ہرجگہ سنائی دی، اداروں سے گزارش ہے کہ فتنےکے ہاتھ مضبوط نہ کریں، یہ روایت مت ڈالیں کہ جو ڈرائے دھمکائےگا اسی کے حق میں فیصلہ دیں، سپریم کورٹ  کے  حکم کی سیاہی خشک نہیں ہوئی تھی کہ انہوں نے فیصلےکی دھجیاں اڑائیں ، ڈی چوک پر گرین بیلٹ کوآگ لگائی اور املاک کو نقصان پہنچایا،تحریک انصاف سیف ایگزٹ کی خواہش مند ہے، انہوں نے لانگ مارچ سے بچنے کیلئے ایاز صادق سے رابطہ کیا، نواز شریف نے کہا جتھہ لے کر آنے والوں کی دھمکی میں نہیں آؤں گا۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز کا کہنا تھا کہ  عمران خان ایک زندہ لاش ہے،مسلم لیگ ن کا مینڈیٹ چھیننےکا بدلہ آج پنجاب نےلیا، آج قوم کے زناٹےدار تھپڑ کی گونج سنائی دے رہی ہے۔  یہ شخص کبھی بھی اپنے محسن کو ڈسے بغیر نہیں رہ سکتا، اسٹیبلشمنٹ نے انگلی پکڑ کرکرسی پربٹھایا تو انہی پر شرمناک حملےکر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کےفیصلے میں ان کےلیے محفوظ راستہ تھا، انہوں نے  سپریم کورٹ کو یقین دہانی کرائی تھی کہ بے امنی نہیں ہوگی لیکن ابھی حکم کی سیاہی خشک نہیں ہوئی تھی کہ انہوں نے فیصلےکی دھجیاں اڑائیں، انہوں نےڈی چوک پر گرین بیلٹ کوآگ لگائی، املاک کو نقصان پہنچایا، ہم توپہلے ہی کہہ رہےتھےکہ یہ فساد ہے، فتنہ ہے، اسے روکا جائے، آج سپریم کورٹ نے دیکھا ہوگا کہ کس طرح ان کےاحکامات کوپاؤں تلے روندا گیا۔

مریم نواز کا کہنا تھا کہ اداروں کو ادب سےگزارش کررہی ہوں فتنےکے ہاتھ مضبوط نہ کریں ، اس نے پوری دنیا کے سامنے اپنے آپ کو بے نقاب کر دیا ہے، اس قسم کے فتنےکو فیڈ نہیں کرنا چاہیے، اس طرح ڈیل کرنا چاہیے جس طرح قرآن پاک نے حکم دیا ہے۔

لیگی نائب صدر نے دعویٰ کیا کہ  دو روز قبل تین پی ٹی آئی رہنما حکومت سے ملنے آئے، ان کی باتوں کا لب لباب یہ تھا کہ سیف ایگزٹ دیں، انہوں نے کچھ لو اور کچھ دو کی بنیاد پرڈیل کی درخواست کی اور ایاز صادق سے رابطہ کیا،  نواز شریف نے کہا کہ جتھہ لے کر آنے والوں کی دھمکی میں نہیں آؤں گا۔

انہوں نے کہا کہ کرسی چھن جانے پرعمران خان کا ذہن ہل گیا ہے، اسٹیبشلمنٹ آئین وقانون کے دائرے میں اگرکام کرے گی تو بہترین فیصلہ ہے، حکومت بنانے اور گرانے کا اختیارصرف عوام کو ہونا چاہیے، میری نظر میں حکومت کومدت پوری کرنی چاہیے، میں الیکشن کی حامی تھی لیکن معیشت اس وقت نازک موڑ پر ہے، لوڈشیڈنگ نے پھر سر اُٹھا لیا ہے، حالات کو بہتر کرنے کے لیے کم سے کم دو سال کا وقت چاہیے ہوتا ہے، کسی کی دھونس، دھمکیوں کے ذریعے الیکشن نہیں کرائیں گے۔

مزید :

اہم خبریں -قومی -