ہسپتال میں ملازمت کے دوران میں نے انسانیت کو انتہا کی بلندیوں پر دیکھا، کسی بھی انسان کو بچانے کے لیے ڈاکٹر کسی بھی حد تک جانے کو تیار رہتے تھے

 ہسپتال میں ملازمت کے دوران میں نے انسانیت کو انتہا کی بلندیوں پر دیکھا، کسی ...
 ہسپتال میں ملازمت کے دوران میں نے انسانیت کو انتہا کی بلندیوں پر دیکھا، کسی بھی انسان کو بچانے کے لیے ڈاکٹر کسی بھی حد تک جانے کو تیار رہتے تھے

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

مصنف:محمد سعید جاوید
قسط:280
ہر مریض کے کمرے میں ٹیلی ویژن، کیمرہ، بجلی سے کھلنے اور بند ہونے والے پردے اور جگہ جگہ ایمرجنسی بٹن لگے ہوتے۔ جس کو دباتے ہی متعلقہ محکموں سے ضروری عملہ فوراً وہاں پہنچ جاتا اس دوران مریض کے کمرے میں لگائے ہوئے ٹی وی سیٹ اور سپیکر پر اُس کو یا اُس کے تیماردار کو ضروری ہدایات دی جاتی رہتی تھیں۔
اس ہسپتال میں ملازمت کے دوران میں نے انسانیت کو انتہا کی بلندیوں پر دیکھا۔ کسی بھی انسان کو بچانے کے لیے ڈاکٹر کسی بھی حد تک جانے کو تیار رہتے تھے۔میری آنکھوں دیکھا واقعہ کچھ یوں ہے کہ ایک سعودی مریض کو خون دینے کے لیے کچھ پاکستانی مزدور بھی لائے گئے۔ لیبارٹری میں خون کے معائنے کے دوران انکشاف ہوا کہ ان میں سے ایک مزدور کوخون کا کینسر ہے۔اطلاع ملتے ہی متعلقہ ڈاکٹر نے اس مزدور کو اگلے ہی دن داخل کر کے فوری علاج شروع کرنے کے احکامات جاری کر دئیے۔ مریض کے ساتھ آیا ہوا سعودی جو ان کا کفیل بھی تھا، اس بات کو آسانی سے ہضم نہیں کر پا رہا تھاکہ اس ہسپتال میں، جہاں مقامی افراد بھی کسی واسطے کے بغیرداخل نہیں ہو سکتے تھے، وہاں ایک پاکستانی اور وہ بھی ایک مزدورکو کیسے داخلہ مل گیا۔ وہ اس وقت تو ان کو لے کر چلا گیا، لیکن اگلے دن اس نے مذکورہ مزدور کو ہدائت کے مطابق ہسپتال جانے کی اجازت نہیں دی۔ ڈاکٹر نے اپنی ڈائری میں دیکھا اور فوراً ہی فون کروا کر اس سعودی کو پیغام بھیجا کہ اگر اس نے ا ٓج ہی اس لڑکے کو داخلے کے لیے نہ بھیجا تو بادشاہ کے دفتر میں اس کی شکایت کر دی جائے گی۔ یہ عام طور پر سعودیوں کے لیے سب سے بڑی دھمکی ہوتی تھی۔ پھر وہ مزدور آیا اور اس کا مہنگا ترین علاج یعنی بون میرو ٹرانسپلانٹ ہوا جس کی کل لاگت اس وقت کوئی 10 لاکھ ریال کے قریب تھی۔ اس کے علاج کا سارا خرچہ بادشاہ نے اپنی جیب سے ادا کیا اور وہ 40 دن ہسپتال رہ کر اللہ کے فضل و کرم سے مکمل طور پر صحت یاب ہو کر پاکستان واپس چلا گیا۔ اس سے بڑھ کر انسانیت اور بھلا کیا ہو گی۔
وقت کے ساتھ ساتھ ہسپتال وسیع ہوتا گیا اور ملازموں کی تعداد میں بھی اضافہ ہو گیا۔ بڑی تعداد میں پاکستانی بھی آ گئے تھے۔زیادہ تر پاکستانی جو اچھے عہدوں پر تھے، دکھاوے کی حد تک آپس میں ٹھیک ٹھاک رہتے تھے، لیکن موقع ملتے ہی ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیتے تھے لیکن یہ سارا کاروبار اندرون خانہ ہی ہوتا تھا۔ تاہم نچلے درجے کے ملازمین میں یہ ان دیکھی دشمنیاں اکثر کھلم کھلا جنگ کی صورت میں منظرِ عام پر بھی آ جاتی تھیں۔ ایک دفعہ تو عین کھانے کے دوران 2 پاکستانی اس بات پر جھگڑ پڑے کہ ٹماٹو کیچپ کی بوتل پہلے کون لے گا۔ یہ تو محض بہانہ تھا، ان کے بیچ کوئی پچھلی رنجش چل رہی تھی۔ انھوں نے پہلے تو ایک دوسرے کو خوب بُرا بھلا کہا پھر یکدم اٹھ کر کھڑے ہو گئے اور ٹرے میں رکھے ہوئے چھریاں کانٹے بھی اٹھا لیے، بدقسمتی سے اس میز پر اس دن میں بھی موجود تھا اور کچھ دوسرے لوگ بھی تھے۔ ہمیں علم تھا کہ امریکی آفیسر قاعدے قانون کے کتنے سخت ہوتے ہیں اس لیے اگر وہ یہ حالات دیکھ لیتے تو وہاں موجود لوگوں کو گھر جانا پڑتا، مگر اللہ کا کرم ہوا کہ یہ بات جنگ میں مبتلا فریقین کو بھی جلد سمجھ آ گئی۔ وہ خاموش ہو کر بیٹھ گئے اور انھوں نے اپنا حساب کسی اور وقت کے لیے اٹھا رکھا۔
  (جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

ادب وثقافت -