یہ جگہ پہاڑوں کی بیچ بنی ہوئی تھی جس میں بڑی چٹان اور کنواں تھا،ہم کھنڈرات اور تباہ شدہ وادی کو دیکھ کر جلد مرکزی گیٹ سے باہر نکل آئے

یہ جگہ پہاڑوں کی بیچ بنی ہوئی تھی جس میں بڑی چٹان اور کنواں تھا،ہم کھنڈرات ...
یہ جگہ پہاڑوں کی بیچ بنی ہوئی تھی جس میں بڑی چٹان اور کنواں تھا،ہم کھنڈرات اور تباہ شدہ وادی کو دیکھ کر جلد مرکزی گیٹ سے باہر نکل آئے

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

مصنف:محمد اسلم مغل 
تزئین و ترتیب: محمد سعید جاوید 
 قسط:111
یہ جگہ نیم دائرے کی شکل میں پہاڑوں کی بیچ میں بنی ہوئی تھی جس کے درمیان میں ایک بڑی چٹان اور کنواں تھا۔ چٹان پر یہاں کے حاکم کا گھر تھا جب کہ کنواں پانی کے لیے استعمال ہوتا تھا۔ یہ ایک بڑا ہی عجیب اور حیرت انگیز منظر تھا کہ گھر اور ان کے کمرے پہاڑی چٹانو ں کو کھود اور تراش کر بنائے گئے تھے۔ اس زمانے کے اوزاروں سے چٹانوں میں کھدائی کرنے میں تو کئی کئی برس لگ جاتے ہونگے۔ اس میں کوئی شک ہی نہیں کہ وہ ان گھروں کو بے حد محفوظ سمجھتے ہونگے اور ان کے خیال میں ان کو کسی قسم کی دُنیاوی یا سماوی آفتوں سے نقصان نہیں پہنچ سکتا تھا۔ لیکن اللہ نے ان کو تباہ و برباد کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا اور ان پر ایسا عذاب آیا کہ کوئی بھی ذی نفس اس آبادی میں زندہ نہ بچا تھا۔ یہاں ایک لمحے کے لیے میرے خیالات پاکستان کے حالات کی طرف گئے جہاں ہم سب ان گناہوں میں بری طرح ملوث تھے جن کی وجہ سے یہ عذاب آتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بار بار ان گناہوں سے باز رہنے کہ کہتا ہے،لیکن یہ پیارے نبی محمدﷺ کے کرم سے اور ان کے امتی ہونے کے سبب ہم پر یہ عذاب نازل نہیں کئے جارہے۔  
ہم ان کھنڈرات اور تباہ شدہ وادی کو دیکھ کر جلد از جلد مرکزی گیٹ سے باہر نکل آئے کیونکہ وہاں کے گارڈ نے غروب آفتاب تک ہی ہمیں   اندر رہنے کی اجازت تھی۔ ہم نے وہاں ایک بڑے ریلوے اسٹیشن کے آثار بھی دیکھے جو استنبول سے مدینہ جانے والی ریلوے لائن پر واقع تھا۔ یہ لائن اس وقت فعال تھی جب ترک سعودی عرب کے شمالی حصوں پر حکومت کرتے تھے جن میں مکہ اور مدینہ شامل تھے۔ ہم نے مدائن صالح دیکھنے کے بعد دوبارہ مکہ کا رخ کیا اب ہم جلد از جلد وہاں پہنچنا چاہتے اس لیے جلد بازی میں وہاں سے روانہ ہوئے اور ایک دو جگہ مختصر سا قیام کرکے اگلے دن صبح سویرے مکہ واپس پہنچ  گئے۔ 
بالآخر مکہ پروجیکٹ اور اس کے تمام ذیلی منصوبے مکمل ہوگئے اور میں نے سکھ کا سانس لیا۔ اس سے مجھے ایک بڑی کامیابی کا احساس بھی ہوا  کہ اس دوران مختلف قسم کی رکاوٹیں آنے کے باوجود میں اس کو تکمیل کے مرحلے تک لے آیا تھا۔ یہ میری پیشہ وارانہ زندگی کا ایک بہت ہی جرأت مندانہ اور اہم منصوبہ تھا۔ اور پھر مجھے اس بات پر بھی فخر تھا کہ میں نے مکہ جیسے مقدس شہر کی بہتری کے لیے کام کیا تھا۔ اس سے مجھے ایک تو اپنے عملی تجربے کو وسعت دینے کا موقع ملا، جس میں پلاننگ کے پیچیدہ معاملات کو سمجھنے کے علاوہ غیر ملکی ماہرین کی بڑی تعداد کے ساتھ ایک ٹیم کی شکل میں کام کرنا بھی تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ میں نے اس عظیم الشان منصوبے سے بہت کچھ سیکھا۔ میں اس دوران اس نتیجے پر پہنچا کہ آپ چاہے جتنی بڑی اور شہرت والے ماہرین کی مشاورتی ٹیم بھرتی کر لیں وہ اسی وقت صحیح کام کریں گے جب آپ ان کے سر پر چڑھ کر کھڑے رہیں گے۔ اس منصوبے کی کامیابی کو اقوام متحدہ اور سعودی حکومت کے اعلیٰ افسران نے بہت سراہا۔ اب چونکہ میں نے مکہ جیسا بڑا اور شاندار پروجیکٹ کامیابی سے مکمل کر لیا تھا اس لیے جب تک میں اقوام متحدہ میں رہا، مکہ سے متعلق اگلے تمام منصو بوں کی ذمہ داری بھی مجھے ہی سونپی جاتی رہی۔
1987 کی گرمیوں کی بات ہے کہ ہم لوگوں نے عمرے کا پروگرام بنایا کیونکہ عائشہ پاکستان سے چھٹیوں پر آئی ہوئی تھی اور سمعیہ نے اس کے ساتھ ہی واپس لاہور جانا تھا، کیونکہ وہ اسی کے کالج میں داخلے کے لیے جا رہی تھی۔ ریاض واپسی پر انھوں نے اپنا سامان سمیٹا اور  جانے کے لیے تیار ہو کر اپنی امی وسیمہ کو خدا حافظ کہا۔ لیکن میں نے محسوس کیا کہ وسیمہ کے جذبات میں پہلے کی طرح گرمجوشی نہیں تھی، یہ دیکھ کر میں تو لمحے بھر کو فکرمند ہو گیا اور پھر بیٹیوں کو ائیرپورٹ چھوڑنے چلا گیا۔ واپسی پر میں نے واضح طور پر محسوس کیا کہ وسیمہ کی طبیعت کچھ ٹھیک نہیں لگ رہی تھی۔ اگلے دن صبح  میں اسے ڈاکٹر کے پاس لے گیا۔    (جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

ادب وثقافت -