صدارت کا حلف اٹھانے پر کینیڈی نے کہا تھا ”یہ نہ دیکھیے کہ ملک آپ کیلئے کیا کرسکتا ہے، بلکہ یہ دیکھیے کہ آپ ملک کیلئے کیا کر سکتے ہیں“

 صدارت کا حلف اٹھانے پر کینیڈی نے کہا تھا ”یہ نہ دیکھیے کہ ملک آپ کیلئے کیا ...
 صدارت کا حلف اٹھانے پر کینیڈی نے کہا تھا ”یہ نہ دیکھیے کہ ملک آپ کیلئے کیا کرسکتا ہے، بلکہ یہ دیکھیے کہ آپ ملک کیلئے کیا کر سکتے ہیں“

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

مصنف:ڈاکٹر ڈیوڈ جوزف شیوارڈز
ترجمہ:ریاض محمود انجم
 قسط:98
لنچ کے دوران میں نے پیٹر سے پوچھا کہ ”اب جبکہ اس صنعت میں مسابقت بھی بہت زیادہ ہے، اور پھر ناکامی کی شرح بھی انتہائی بلند ہے، تو پھر اس نے کس طرح اپنے کاروبار کو نہایت کامیابی اور بلندی عطا کی۔“
پیڑ نے جواب دیا: ”بہت خوب، یہ ایک طویل اور تقریباً ناقابل یقین داستان ہے، مگر میں اسے نہایت مختصر انداز میں بیان کرتا ہوں۔“
”جب میں ہائی سکول کا طالب علم تھا تو سوکس (Civics) کے استاد نے طالبعلموں سے کہا کہ وہ صدر کینیڈی کا کوئی بھی قول نقل کرے اور ایک آسان مضمون تحریر کرے جس سے یہ معلوم ہو کہ اس قول کا اطلاق ہماری روز مرہ زندگی پر ہوتا ہے۔ پھر یہ کہ اگر اس قول کو عملی طور پر اپنایا جائے تو اس کے باعث ہم زیادہ سے زیادہ کامیابی کیسے حاصل کرسکتے ہیں۔“
پیٹر نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا ”میں نے اپنے صدر کے بہت سے اقوال پڑھ رکھے تھے، اور پھر بالآخر مجھے ایک ایسا قول یاد آگیا جو کسی نہ کسی طرح میرے لیے بے حد اہمیت کا حامل تھا۔ صدارت کا حلف اٹھانے کے موقع پر کینیڈی نے یہ کہا تھا: ”میرے امریکی ہموطنو! ”یہ نہ دیکھیے کہ آپ کا ملک آپ کے لیے کیا کرسکتا ہے، بلکہ یہ دیکھیے کہ آپ اپنے ملک کے لیے کیا کر سکتے ہیں۔“
پیٹر نے اپنا سلسلہ کلام جاری رکھا: ”بہرحال، میں جب بھی میں فارغ ہوتا، میں صدر کینیڈی کے اس قول پر غور کرتا۔ پھر مجھے یہ معلوم ہوگیا اس قول کے ذریعے کینیڈی کی مراد یہ ہے کہ ہم انفرادی حیثیت سے اپنے ملک کی کیا خدمت کر سکتے ہیں۔ دوسرے الفاظ میں، لوگوں کو یہ نہیں چاہیے کہ وہ حکومت سے امداد طلب کریں بلکہ انہیں چاہیے کہ وہ ایک اچھے شہری کی حیثیت سے اپنی مدد آپ کے تحت، جذبہ حب الوطنی سے سرشار ہو کر اپنی فلاح کے لیے کام کرنے کے ذریعے حکومت کی مدد کریں۔“
”کینیڈی کے اس قول پر غور کرتے ہوئے مجھے یہ محسوس ہونے لگا اس قول کا اطلاق انفرادی طور پر مجھ پر بھی ہوتا ہے کہ میں اس وقت کیا کر رہا ہوں۔ اب مجھے معلوم ہوگیا کہ اس کا اصل مفہوم کیا ہے۔ مثال کے طور پر، سکول کے زمانے میں فٹ بال کھیلتے ہوئے بجائے اس کے کہ میں بذات خود ٹیم کی مدد کروں، مجھے دلچسپی صرف اس بات سے تھی کہ میں دوسرے کھلاڑیوں کی مدد سے اچھا کھیلوں اور گول کرتا جاؤں۔ پھر مجھے یہ احساس ہوگیا کہ اس طرح میں دیگر افراد خانہ اور اپنے ساتھی طالب علموں کو پیچھے چھوڑ کر صرف اپنے مفادات ہی کی حفاظت کر رہا ہوں۔“
”کامیابی اور دولت حاصل کرنے کے ضمن میں ”کیسے“ کے متعلق میری سوچ اور انداز فکر کو کینیڈی کے اس مقولے نے یکسر تبدیل کر دیا۔ بچپن میں مجھے یہ سکھایا گیا تھا ”خدا ان کی مدد کرتا ہے جو اپنی مدد آپ کرتے ہیں“ لیکن اب میں نے اپنی زندگی میں ایک اورنہایت ہی فضیح و بلیغ بلکہ دانشمندانہ سبق سیکھا ہے ”خدا ان کی بہت مدد کرتا ہے جو دوسروں کی مدد کرتے ہیں۔“
”مزید براں میں نے اپنی زندگی میں اس اصول کو بھی مرکز نگاہ بنایا ہے ”دوسروں کو زیادہ سے زیادہ دیجیے، دوسروں کے لیے زیادہ سے زیادہ ایثار کیجئے، اور وہ بھی آپ کو زیادہ سے زیادہ دیں گے۔ میں نے ہر کاروباری امور میں اس اصول کو عملی طور پر اپنا رکھا ہے۔“(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

ادب وثقافت -