امریکی کھلے ڈُلے اور ہنسی مذاق کرنے والے تھے کوئی بات دل میں نہیں رکھتے تھے،جبکہ برطانوی تھوڑے سنجیدہ،کسی حد تک مغرور اور کینہ پرور تھے

امریکی کھلے ڈُلے اور ہنسی مذاق کرنے والے تھے کوئی بات دل میں نہیں رکھتے ...
امریکی کھلے ڈُلے اور ہنسی مذاق کرنے والے تھے کوئی بات دل میں نہیں رکھتے تھے،جبکہ برطانوی تھوڑے سنجیدہ،کسی حد تک مغرور اور کینہ پرور تھے

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

مصنف:محمد سعید جاوید
قسط:281
ذکر کچھ اور قومیتوں کا
ہسپتال میں 62 مختلف ملکوں کے باشندے فرائض سر انجام دیتے تھے۔ مختلف قومیتوں کے ساتھ کام کیا تو انفرادی رویوں کے علاوہ من حیث القوم کچھ اجتماعی خوبیاں اور خامیاں ہر ایک میں واضح طور پر محسوس ہوئیں۔
امریکی کھلے ڈُلے اور ہنسی مذاق کرنے والے لوگ تھے، وہ کوئی بات دل میں نہیں رکھتے تھے۔ جب کہ برطانوی تھوڑے سنجیدہ،کسی حد تک مغرور اور کینہ پرور ہوتے تھے۔کینیڈا کے باشندے بھی تقریباً امریکیوں ہی کی طرح دوستانہ ماحول میں کام کرتے تھے شاید پڑوسی ہونے کا اثر تھا۔ آسٹریلین اور جرمن وضع دار قسم کے لوگ تھے اور ہر ایک کے ساتھ جلد بے تکلف نہیں ہوتے تھے۔ہالینڈ کے لوگوں کا رویہ عمومی طور پر دوستانہ رہتا تھا۔
دوسری قومیتوں میں عربی بولنے کی وجہ سے تین ملکوں کے لوگوں کی اجارہ داری تھی۔ سب سے زیادہ مصری تھے۔ ان کا ملا جلا سا کردار تھا تاہم پاکستانیوں کے معاملے میں کافی تنگ نظر تھے۔کام زیادہ نہیں کرتے تھے، لیکن اپنی میٹھی اور چکنی چپڑی باتوں اور خوشامدی رویئے سے اپنے آفیسروں خصوصاً سعودیوں کا دل جیتنے میں کامیاب رہتے، ان کا مجموعی کام تین چار گھنٹوں سے زیادہ نہ ہوتا تھا۔ مصری جنون کی حد تک مذہبی ہوتے تھے یا انتہائی درجے کے جدیدیت پسند۔ اگر ایک طرف مصری خواتین عبایہ اور حجاب میں ملبوس ہوتی تھیں تو دوسری طرف وہ بڑے فخر سے مغربی لباس بھی زیب تن کیا کرتی تھیں۔نماز کی حد تک بہت باقاعدگی تھی تاہم سیاست ان کے اپنے اندر بھی بُری طرح سرائیت کر چکی تھی اور جب ان کو دوسری قومیت کا کوئی بندہ نظر نہ آتا تو وہ اپنے ہی بھائیوں کو رگڑا لگا جاتے۔
لبنانی شکل و صورت کے بہت خوبصورت اور اچھی گفتگو کرنے والے ہوتے تھے اور ان کے رہن سہن کا معیار بہت اعلیٰ ہوتا اور لباس میں وہ کسی قدر مغرب کی تقلید کرتے تھے۔ عموماً دوسروں کی طرح کوئی خاص قومیت ان کا نشانہ نہیں بنتی تھی اور زیادہ تر ان کے تعلقات سب سے دوستانہ ہی رہتے۔ سلام دعا ہر کسی کے ساتھ رکھتے لیکن اپنی قوم کے علاوہ مشکل سے ہی کسی اور کے ساتھ قریبی میل جول رکھتے تھے۔
میں نے اپنے قیام کے دوران اگر کسی مسلمان قوم کو محبت اور اخلاق میں بہت بلند پایا تو وہ سوڈانی مسلمان تھے۔وہ بہت ہی دوستانہ ماحول میں رہتے تھے اور کسی کو کوئی ایسی بات نہ کہتے جس سے اس کی دل آزاری ہو۔ پاکستانیوں کے ساتھ ان کا رویہ بہت ہی عمدہ اور آبرو مندانہ تھا۔ مجھے یاد ہے جب پاکستان نے ایٹمی دھماکہ کیا تو انہوں نے بے حد خوشی کا اظہار کیا اور باری باری ہر ایک نے آ کر پاکستانیوں کو ایٹمی طاقت بننے پر مبارک باد دی تھی۔
فلپائن کے لوگ اپنے اپنے میدان عمل میں بہت قابل اور ذہین ہوتے تھے۔ وہ ہر ایک سے بہت جلد بے تکلف ہو جاتے تھے۔ آپس میں بھی ان کا بہت اتحاد تھا۔ قدرے مغرب زدہ ہوتے تھے۔ انھوں نے کبھی بھی انتظامیہ کے لیے پریشانیاں پیدا نہیں کی تھیں۔ بہت ہی فرمانبردار تھے۔ تقریباً سارے ہی ڈیپارٹمنٹوں کے سیکرٹری زیادہ تر فلپائنی لڑکیاں لڑکے ہوتے تھے جن کے پیٹ میں کوئی بات نہیں ٹھہرتی تھی، اس لیے جیسے ہی انتظامیہ کوئی خاص فیصلہ کرتی اور اس کا نوٹیفکیشن ٹائپ ہونے کے لیے ان کے پاس آتا، تو متعلقہآفیسر کے دستخط ہونے سے پہلے ہی وہ اس کے مندرجات سارے ہسپتال میں آگ کی طرف پھیلادیا کرتے تھے، جو اکثر اوقات انتظامیہ کے لیے پریشانی اور خفت کا باعث بن جا یا کرتا۔ بعد میں ایسے حالات سے بچنے کی خاطر اس قسم کی خط و کتابت ٹائپ کرنے والوں کو متعلقہ آفیسر بعض دفعہ اپنے کمرے میں ہی بٹھا لیتے تھے تاکہ گھر کی بات وقت سے پہلے باہر نہ نکلے۔  (جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

ادب وثقافت -