انسانی حقوق کی پامالیاں،کالے قوانین اور ایمنسٹی رپورٹ

انسانی حقوق کی پامالیاں،کالے قوانین اور ایمنسٹی رپورٹ
انسانی حقوق کی پامالیاں،کالے قوانین اور ایمنسٹی رپورٹ

  

بھارت کی قابض افواج اوردیگر پیراملٹری فورسز نے مقبوضہ کشمےر میں ریاستی دہشت گردی کا جو سلسلہ شروع کر رکھا ہے، اسے دنیا کے انسان دوست حلقے وقتاً فوقتاً ہدف تنقید بناتے رہتے ہیں، اسی سلسلے کی ایک کڑی کے طور پر ”ایمنسٹی انٹر نیشنل“ نے چند ہفتے قبل.... PSA Still a lawless law ....کے عنوان سے رپورٹ جاری کی ہے، جس میں انڈین سیکیورٹی فورسز کی جانب سے نافذ کئے گئے، تازہ”پبلک سیفٹی ایکٹ“ یعنی پی ایس اے کے غیرانسانی پہلوﺅں کو اجاگر کیا گیا ہے۔ اس سے پہلے ”سٹیزن کونسل آف جسٹس“ یعنی Citizen's Council of Justice نے بھی اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں بدترین قسم کی انسانی حقوق پامالیوں کا مرتکب ہو رہا ہے۔

اس صورت حال کا جائزہ لینے والے مبصرین نے کہا ہے کہ ایک جانب اقوام متحدہ نے کچھ روز قبل، یعنی 25 اکتوبر کو اپنے قیام کی سالگرہ منائی ہے، مگر اس کے ادارے سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر موجود کشمیریوں کوحق خود ارادیت دئیے جانے کی قرار دادوں کا ذکر تک نہیں کیا گیا، بلکہ دہلی سرکار نے پروپےگنڈے کے زور پر یہ تاثر پیدا کر دیا ہے کہ کشمیر میں پاکستان کی شہ پر تحریک آزادی چلائی جا رہی ہے، مگر زمینی حقائق اس سے قطعاً مختلف، بلکہ متضاد ہیں۔ اس تمام پس منظر کا جائزہ لیتے ہوئے انسان دوست حلقوں نے کہا ہے کہ بھارت کے حکمران مقبوضہ کشمےر میں ریاستی دہشت گردی کا جو سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں، اسے 28اگست 2012ءکو شدید دھچکا لگا، جب پےرا ملٹری فورس....CRPF....(سنٹرل ریزرو پولیس فورس) کے سر براہ این سی آستھنا نے (N.C.Asthana) یہ چشم کشا انکشاف کیا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارت مخالف جذبات بالکل فطری ہیں اور اس کے محرکات مکمل طور پر ہندوستان کے اندر ہیں اور مقبوضہ ریاست میں جاری تحریک کو بیرونی سر پرستی حاصل نہیں۔

این سی آستھنا کا تعلق ریاست ”کےرالہ“ سے ہے۔ 52 برس کے یہ اعلیٰ بھارتی پولیس افسر 1990ءاور 2010ءمیں مقبوضہ ریاست میں قابض بھارتی فوج اور پیرا ملٹری فورسز میں انتہائی ذمہ دارانہ اور اہم عہدوں پر فائز رہے ہیں۔ انہوں نے یہ انکشاف اپنے ذاتی مشاہدات کی روشنی میں کئے ہیں۔ انہوں نے اپنی اہلیہ انجلی نرمل کے ساتھ مشترکہ طور پر ایک کتاب بھی تحریر کی ہے، جو آئندہ چند ہفتوں میں شائع ہو کر مارکیٹ میں آنے والی ہے، اس کتاب کا عنوان ....India's Internal Security: The Actual Concernsہے ....و اضح رہے کہ ان کی اہلیہ انجلی نرمل نے پولیس ایڈمنسٹریشن میں پی اےچ ڈی کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے، لہذا ان کی تحریر کو سرسری کہہ کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

 28 اگست 2012ءکو سی آر پی ایف کے سربراہ نے بھارت کی کثیر الاشاعت نےوز ویب سائٹ اور ہفت روزہ تہلکہ ڈاٹ کام کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے اسمبلی الیکشن میں ٹرن آﺅٹ یا سیاحوں کی آمد میں اضافے سے ہرگز یہ مراد نہیں لی جا سکتی کہ مقبوضہ ریاست کے لوگوں نے بھارت سے علیحدگی کی جدوجہد کو فراموش کر دیا ہے اور اپنا مستقبل دہلی سرکار سے وابستہ کرنے پر آمادگی ظاہر کر دی ہے، ان کے بقول بھارت سرکار کو بھی اس غلط فہمی یا خوش فہمی سے باہر نکل آنا چاہیے۔ اس ضمن میں انہوں نے واضح کیا کہ جب بھی کوئی حریت پسند (انہوں نے اس بابت علیحدگی پسند کا لفظ استعمال کیا ہے) انڈین آرمی کے ساتھ مقابلے میں مارا جاتا ہے تو اس کے جنازے میں ہزاروں کشمیری شامل ہو کر اپنے غم و غصے کا اظہار کرتے ہیں اور اس موقع پر بالعموم ”آزادی، آزادی“ کے نعرے لگائے جاتے ہیں۔ بھلے مرنے والے کا ظاہری تعلق مقبوضہ ریاست سے نہ ہو۔ اس سے بخوبی اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارت سے علیحدگی اور آزادی کے احساسات کتنے فطری اور شدید ہیں۔

اپنے اسی انٹروےو مےں اےن سی آستھنا نے ےہ بھی کہا ہے کہ بھارت کے دےگر علاقوں کے رہنے والے مسلمانوں مےں بھی عدم تحفظ کے احساسات انتہائی شدےد اور فطری ہےں، کےونکہ بھارت مےں رہنے والے مسلمانوں کی وفاداری کو رےاست انتہائی شک کی نظر سے دےکھتی ہے اور دہشت گردی کی کسی بھی چھوٹی بڑی واردات کے بعد متعلقہ علاقے کے سےنکڑوں مسلمانوں کو گرفتار کرکے بدترےن تشدد کے بعد جےلوں مےں ڈال دےا جاتا ہے۔ بعد مےں ان گرفتار شدگان کی بھاری اکثرےت کا تعلق بھی مذکورہ دہشت گردی سے ثابت نہےں ہوتا۔ ”تہلکہ“مےگزےن کو دئےے گئے انٹروےو مےں انہوں نے اس حوالے سے مصدقہ اعداد و شمار بھی بےان کئے ہےں۔ موصوف نے ےہ بھی انکشاف کےا ہے کہ بھارتی مسلمانوں اور کشمےرےوں کے ساتھ ہونے والی ان ناانصافےوں مےں بھارتی ذرائع ابلاغ بھی برابر کا حصہ ڈال رہے ہےں اور دےگر مو¿ثر اور بالادست طبقات کی مانند ہندوستانی مےڈےا بھی مسلمانوں اورکشمےرےوں کے خلاف بے بنےاد الزام تراشی کرکے حصہ بقدر جثہ ڈال رہا ہے۔ اس بے باکانہ مو¿قف کے بعد انہوں نے ےہ سوال اٹھاےا ہے کہ اےسے مےں بھارت کی اندرونی سلامتی کے لئے آنے والے دنوں مےں کےا خدشات لاحق ہوسکتے ہےں، ان کا اندازہ کرنا شاید زےادہ مشکل نہےں۔

غےر جانبدار مبصرےن نے اس حوالے سے کہا ہے کہ اپنی رےٹائرمنٹ کے بعد توکئی اعلیٰ بھارتی فوج، پولےس اور خفےہ اداروں کے افسران ماضی مےں بھی کئی راز طشت ازبام کرتے رہے ہےں، مگر سی آر پی ایف کے سربراہ نے حاضر سروس ہوتے ہوئے اپنے ضمےر کی آواز پر جس طرح کان دھرے ہےں، وہ اپنی مثال آپ ہے۔ واضح رہے کہ ان دنوں موصوف کو نکسل تحرےک کوکچلنے والی فورس ”کوبرا“ کا سربراہ بنانے کا امکان ظاہر کےا جا رہا تھا، مگر اب کئی تنگ نظر حلقے دہلی سرکار سے ان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کر رہے ہےں۔ توقع کی جانی چاہےے کہ اس صورت حال کے سامنے آنے کے بعد مو¿ثر عالمی قوتےں اورانسانی حقوق کے اداروں کے علاوہ پاکستان مےں دہلی سرکار کی امن پسندی کا گن گانے والے اپنی رائے پر ضرور نظر ثانی کرےں گے۔     ٭

مزید :

کالم -