ہاکی کے مقابلوں میں شکستیں

ہاکی کے مقابلوں میں شکستیں

  

سپر ہاکی ٹورنامنٹ میں ہفتے کے روز پاکستان کی ٹیم کو روایتی حریف بھارت کے ہاتھوںدوسے پانچ کے تناسب سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ ٹیم کی مسلسل تیسری ہار ہے۔ پہلے دو میچ آسٹریلیا اور انگلینڈ سے ہوئے اور دونوں میں مخالف ٹیمیں فتح یاب ہوئیں۔ یوں یہ مسلسل تیسری شکست ہے اور اب پاکستان ہاکی ٹیم کا اس ٹورنامنٹ میں کوئی اور مقام نہیں۔ اس سے پہلے انڈر انیس ہاکی ٹورنامنٹ میں ہماری ٹیم کو پانچویں پوزیشن ملی تھی۔

ہاکی کے منتظمین حضرات، کوچ اور مینجر وغیرہ نے انڈر انیس کی کارکردگی بھی بہتر قرار دے دی تھی اور اب سینئر ٹیم کو بھی سراہا جائے گا۔ یہ افسوس ناک صورت حال ہے۔ پاکستان عالمی چیمپئن اولمپک چیمپئن اور چیمپئن ٹرافی کا فاتح رہ چکا ہے جبکہ ایشیئن چیمپئن تو اب بھی ہے۔ جب یہ ٹورنامنٹ جیتا گیا تو تعریفوں کے پل باندھ دئیے گئے۔ وفاقی حکومت نے پذیرائی کی۔ اس وقت کے وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے استقبالیہ دیا اور انعامات بھی دئیے جبکہ پنجاب حکومت نے بھی دل کھول کر پذیرائی کی۔ نوے شاہراہ قائداعظم پر شاندار تقریب ہوئی۔ زبردست پذیرائی کی گئی۔ انعامات اور ہاکی کے فروغ کے لئے نئی ٹرف سمیت مالی گرانٹ بھی دی گئی۔

ایشاءکپ جیتنے کے بعد بہت بڑے بڑے دعوے کئے گئے۔ اب بھی چیف کوچ چودھری اختر رسول نے اس ٹیم پر بہت بھروسہ کیا اور اسے بہت اچھی ٹیم قرار دیا تھا، لیکن میدان میں جو پرفارمنس دی گئی۔ اس سے قوم مایوسی ہوئی۔ ہم کھیل کے کھلاڑیوں کے انداز کی طرح کسی کو ہٹانے یا بنانے کا مطالبہ نہیں کرتے، لیکن یہ ضرور کہیں گے کہ ہاکی کے زوال کی وجہ کھلاڑیوں کی نرسری ختم ہونے کے علاوہ سینئر کھلاڑیوں اور ہاکی فیڈریشن کے درمیان تنازعات بھی ہیں جو مختلف اقدامات کے باوجود طے نہیں پائے اور اس کے اثرات ٹیم کی پرفارمنس پر نظر آ رہے ہیں۔

ہاکی ہمارا قومی کھیل شمار ہوتا ہے اور اس میں بھی ہم رسوائی مول لیتے چلے جا رہے ہیں۔ دعویٰ کیا گیا کہ جو نیئرز سے سینئربنائے جائیں گے، لیکن عملی شکل شکست در شکست ہے۔ ایسے میں ضروری ہو گیا ہے کہ اس قومی کھیل کو تحفظ دینے کے لئے صحیح اور مثبت اقدامات کئے جائیں۔ کھیل کے کھلاڑیوں کے لئے نرسری کا انتظام ہو تو تنازعات ختم کر کے قومی جذبے کو بروئے کار لایا جائے۔ ذاتی پسند نا پسند پر اہلیت کو ترجیح دی جائے۔ ہم کھیل کے کرتا دھرتا حضرات سے یہی گزارش کر سکتے ہیں اور یہ اپیل بھی کرتے ہیں کہ اپنے مستقبل کا فیصلہ بھی وہ خود ہی کر لیں۔

 وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے گزارش ہے کہ وہ کھیلوں کے شعبے کی طرف توجہ دیں۔ ضروریات پوری کرنے کے علاوہ کھلاڑی پیدا کرنے کے ذرائع بھی بنائے جائیں، وفاق کے علاوہ چاروں صوبوں میں بھی کھیل کی وزارتیں ہیں۔ ان کا کردار بھی واضح ہونا چاہئے۔ پاکستان کو کھیلوں کے میدان میں مسلسل ہزیمت کا سامنا ہے۔ یہ قومی وقار کے خلاف ہے اس کا سد باب ضروری ہے۔

مزید :

اداریہ -