سیاست کے رنگ نرالے، خوش قسمتی کب تک؟

سیاست کے رنگ نرالے، خوش قسمتی کب تک؟
سیاست کے رنگ نرالے، خوش قسمتی کب تک؟

  

ملک کی حکمران بڑی سیاسی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی اپنے قیام سے اب تک مختلف مراحل سے گزرتی چلی آ رہی ہے۔ اس کے باوجود اگر کوئی بات ایسی ہے، جس کا تسلسل ابتدا سے تاحال قائم ہے تو وہ قیادت کی جادوگری یا شخصیت کا سحر ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو اور محترمہ بے نظیربھٹو کے ساتھ بھی اہل لوگ تھے اور کوئی کمی نہیں تھی، لیکن ان کی شخصیت کا سحر ہر دم سامنے آتا رہا۔ یہی صورت حال محترمہ بے نظیر بھٹو کے ساتھ تھی۔ وہ بھی اپنے اہل اور وفادار ساتھیوں کے ہوتے ہوئے بھی اہم فیصلے خود ہی کرتی تھیں اور کبھی کبھی مشکل ترین مراحل کو بھی خود ہی عبور کرتی تھیں، حتیٰ کہ وہ ایسے حضرات کو بھی اعتماد دے دیتیں جو فوجی حکام سے تعلقات والے ہوتے۔ بعض رہنماو¿ں کے بارے میں تو ہمیں بھی علم ہے جو کسی میجر جنرل یا اہم عہدے پر متعین بریگیڈیئر کی دوستی کا اعتراف بھی کر لیتے اور محترمہ ان کو تعلقات برقرار رکھنے کی ہدایت کر دیتی تھیں، تاہم وہ ہمیشہ خبردار رہتیں اور ایسے لوگوں کے بارے میں خبر بھی رکھتی تھیں۔ آج یہ صورت حال آصف علی زرداری کو درپیش ہے جو خوش قسمتی سے بھٹو کی پارٹی کو سنبھالے ہوئے ہیں اور محترمہ کے گدی نشین ہیں۔

ان کے پاس میاں رضا ربانی اور چودھری اعتزاز احسن سے لے کر سید خورشید شاہ جیسے لوگ موجود ہیں اور یہ ضرورت کے وقت کام بھی آتے ہیں، لیکن نہ معلوم وہ زیادہ اعتماد کچھ اور حضرات پر کرتے ہیں۔ اس کا اندازہ اسی سے لگالیں کہ وزارت عظمیٰ تبدیل ہوگئی، عبدالرحمن ملک کی حیثیت متاثر نہیں ہوئی۔ اس کے علاوہ یہ بھی کچھ کم حیرت انگیز نہیں کہ مخدوم یوسف رضا گیلانی عدلیہ کے ذریعے نہ صرف وزارت عظمیٰ سے گئے، بلکہ نا اہل بھی ہوگئے، لیکن راجہ پرویز اشرف خوش قسمت ہیں کہ وہ اس انجام سے دو چار نہیں ہوئے۔ فاروق نائیک کو سینیٹ کی چیئرمین شپ سے وزیر قانون بنایا گیا، پھر انہوں نے وہ کارنامہ کر دکھایا، جس کے سبب راجہ پرویز اشرف آج بھی وزیراعظم ہیں۔ اس کامیابی سے وہ پھولے نہیں سماتے، لیکن وہ شاید بھول گئے کہ یہ سب کچھ ہوا تو ذہانت کسی اور کی کام کر رہی تھی اور اب تو یوں احساس ہوتا ہے کہ سب دارومدار آصف علی زرداری پر ہے کہ وہ ہر بگڑے کام کو خود سنوارتے ہیں۔ وہ متحدہ کی ناراضی ہو، اے این پی کا غصہ یا چودھریوں کی شکایتیں.... اب ایک اور مشکل مرحلہ درپیش ہے۔

عدالت عظمیٰ نے دہری شخصیت کے حوالے سے آئینی پوزیشن واضح کر دی، رحمان ملک بال بال بچے ہیں۔ اس کے لئے ان کو سینٹ کی رکنیت سے مستعفی ہونا اور برطانوی شہریت ترک کر کے پھر سے سینیٹر بننا پڑا۔ ڈاکٹر عاصم حسین کو یہ گُر نہیں آتا تھا۔ انہوں نے بالآخر سینیٹ کی رکنیت چھوڑنا ہی مناسب جانا۔ عدالت عظمیٰ کی زد میں بہت سے منتخب اراکین آئے۔ ان میں پیپلز پارٹی کے علاوہ مسلم لیگ (ن)، متحدہ قومی موومنٹ اور مسلم لیگ (ق) کے اراکین بھی شامل ہیں اور یہ بھی مدنظر رہے کہ جو جماعت دباو¿ استعمال کرنا جانتی ہے، وہ زیادہ متاثر ہوتی نظر آ رہی ہے کہ اسے آئندہ انتخابات میں ایسے حضرات کو اسمبلیوں میں پہنچانا ہے جو دہری شہریت کے حامل ہیں۔ متحدہ قومی موومنٹ نہ صرف بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے کی حامی ہے، بلکہ دہری شہریت والوں کے لئے پارلیمینٹ اور وزارتوں کے دروازے کھولنے کے حق میں بھی ہے، چنانچہ پیپلز پارٹی نے اپنی اور اپنے اتحادیوں کی ضرورت کے پیش نظر آئینی ترمیم کا فیصلہ کر لیا۔ اس مقصد کے لئے بل تیار ہوا۔ ذمہ داری خوش قسمت فاروق نائیک کی تھی اور ہے کہ وہ وزیر قانون ہیں۔

انہوں نے اس خوش فہمی کہ وہ بہت کچھ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، آئینی ترمیم کا بل پہلے سینیٹ سے منظور کرانے کی حکمت عملی اپنائی کہ سینیٹ میں اتحادیوں سمیت حکمران جماعت کو دو تہائی اکثریت حاصل ہے، بل ایجنڈے پر آگیا۔ فاروق نائیک خوش فہمی میں ہی رہے اور یہ یقین کر لیا کہ تمام اتحادیوں کو اعتماد میں لئے بغیر ایک اتحادی جماعت کی خواہش اور حمایت کافی ہے۔ یہ بل ایجنڈے پر لے آئے۔ یہ بل بدھ کو پیش ہونا تھا ، لیکن نہ ہو سکا اور جمعرات کے ایجنڈے میں شامل ہوگیا۔ جب وقت اذاں آیا تو فاروق نائیک حیران ہوگئے۔ ان کو معلوم ہوا کہ مسلم لیگ (ن) ہی نہیں، اتحادی جماعتیں اے این پی اور مسلم لیگ (ق) بھی بل کی حمایت کرنے پر تیار نہیں ہیں، چنانچہ ان کو چیئرمین سے استدعا کر کے اسے موخر کرانا پڑا۔ دوسری صورت میں بل مسترد ہو جاتا کہ دو تہائی اکثریت نہیں رہی تھی۔ اب اس صورت حال کو خود آصف علی زرداری ہی سنبھالیں جو ابھی ابھی ڈی 8 ممالک کانفرنس سے فارغ اور مطمئن و مسرور ہیں۔

عام انتخابات کا چرچا ہے۔ سیاسی جماعتیں اپنی صفیں سیدھی کر رہی ہیں۔ مسلم لیگ (ن) اور مسلم لیگ (ق) ایک دوسرے کے اراکین کو توڑ رہی ہیں یا پھر کچھ لوگ خود بھی وفاداری تبدیل کر رہے ہیں کہ اختلاف اور ٹکٹ ہمزاد ہیں۔ ٹکٹ کی بہتر پیش کش میں بہت کشش ہے۔ ایسے میں پیپلز پارٹی کو اتحادی ساتھ رکھنا مشکل ہو رہا ہے۔ اس کے لئے بھی خود آصف علی زرداری کو بار بار مداخلت کرنا پڑتی ہے۔ جیسے وہ متحدہ اور مسلم لیگ (ق) کو ساتھ رکھنے کے لئے کرتے ہیں۔ اسفند یار ولی سے دوستی ہے تو مولانا فضل الرحمن سے بھی تعلقات خراب نہیں کئے، البتہ سندھ میں اپنے اتحادی گنوا چکے ہیں۔ نیشنل پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (فنکشنل) اور مسلم لیگ (ق) الگ ہو چکیں۔ سندھ میں ایک طرف پیر پگارو کی قیادت میں اتحاد بنتا جا رہا ہے تو دوسری طرف مسلم لیگ (ن) بھی ٹیلنٹڈ کزن ممتاز بھٹو کو پارٹی میں شامل کر کے قوم پرستوں تک اپنی رسائی موثر بنا رہی ہے۔ ادھر اے این پی کی یہ حالت ہے کہ سب سے اہم اتحادی جو کئی وزارتوں کے حامل چلے آ رہے ہیں، کہتے ہیں کہ آئندہ عام انتخابات میں مسلم لیگ (ن) سمیت کسی بھی جماعت کے ساتھ سیٹ ایڈجسٹمنٹ ہو سکتی ہے۔

بلور برادران کی یہ منطق اپنی جگہ، اے این پی میں ایک بہت مضبوط لابی پیپلز پارٹی کے ساتھ ایڈجسٹمنٹ کے حق میں نہیں، ان میں خود وزیراعلیٰ امیر حیدر ہوتی بھی شامل ہیں۔ آصف علی زرداری ان کو کھونا نہیں چاہیں گے، لیکن متبادل کے طور پر انہوں نے مولانا فضل الرحمن کو رکھا ہوا ہے جو متحدہ مجلس عمل بحال کر چکے ہوئے ہیں۔ اس سارے قصے میں انور سیف اللہ کا ذکر نہیں کیا گیا کہ وہ ایسے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں جو کبھی اقتدار سے دور نہیں رہا۔ ان کے بھائی سلیم سیف اللہ ہم خیال ہیں اور وہ خود اے این پی کو ناراض کرنے کے لئے پیپلز پارٹی خیبر پختون خوا کے صدر ہیں۔ ادھر مسلم لیگ (ن) بھی اب سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر آمادہ ہے۔ قیادت کے مطابق ہم خیال ساتھ ہیں، فنکشنل لیگ سے بات جاری ہے اور جماعت اسلامی سے سیٹ ایڈجسٹمنٹ ہو سکتی ہے۔جہاں تک جماعت اسلامی کا تعلق ہے تو متحدہ مجلس عمل سے مایوس ہو کر مسلم لیگ (ن) یا تحریک انصاف سے اتحاد کے حوالے سے بحث کر رہی ہے۔ شوریٰ اور قائدین میں اختلاف ہے۔ مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف کے حوالے سے بحث اور غور جاری ہے۔ فیصلہ بہرحال شوریٰ کرے گی، اگرچہ لیاقت بلوچ اور فرید پراچہ مسلم لیگ (ن) کے لئے محنت کر رہے ہیں، تاحال شوریٰ نہیں مانتی۔

اس سارے قصے میں تحریک انصاف کا اپنا انداز ہے۔ عمران خان کسی جماعت سے اتحاد کے حق میں نہیں، البتہ حکومتی اتحاد اور مسلم لیگ (ن) مخالف دھڑوں یا جماعتوں کو ساتھ لے سکتے ہیں۔ فی الحال تو وہ جماعتی انتخابات کی تاریخ رقم کر رہے ہیں۔ اس حوالے سے اختلافات کو خود سنبھالنے میں مصروف ہوگئے ہیں۔ اس امتحان سے سرخرو ہوں گے تو ان کے سونامی کا پتہ چلے گا کہ کہاں تک پہنچا، ہمیں تو ایئر مارشل اصغر خان کی تحریک استقلال کا زمانہ یاد آ رہا ہے....اس پر پھر کبھی بات کریں گے۔     ٭

مزید :

کالم -