کیا شاعری تاریکی میں زیادہ چمکے گی؟

کیا شاعری تاریکی میں زیادہ چمکے گی؟
کیا شاعری تاریکی میں زیادہ چمکے گی؟

  

ا نسان کے جسم و جاں میں قدرت نے جو مزے چھپا رکھے ہیں، ان میں سے ایک چھینک مارنے کی لذت بھی ہے ۔ اپنی ابتدائی زندگی میں ہم نے ایسے ایسے ہمہ گیر چھینک مارنے والے بزرگ دیکھے جن کی ”پرفارمنس“ اچھے خاصے دو منزلہ مکان کو ہلا دیا کرتی تھی۔ پہلے چھینک کی دھمک سنائی دیتی ، پھر اس سے بھی اونچی آواز میں ”شکر الحمد للہ“....جس میں خدا کی عظمت کا والہانہ اعتراف بھی ہوتا اور سواد اعظم سے اپنی وابستگی کا اظہار بھی ۔ پھر بھی کم لوگوں کو شعور ہے کہ چھینک مارنا جہاں ایک خارجی سرگرمی ہے ، وہاں یہ ایک باطنی تجربہ بھی ہے ، جس میں آپ معرفت کی منزلیں ایک خاص ترتیب کے ساتھ طے کرنے کے پابند ہوتے ہیں ۔

 باطنی رکھ رکھاﺅ یوں اہم ہے کہ اس کے بغیر چھینک کامیابی سے ہمکنار نہیں ہوتی ، بلکہ ویسی ہی ناکامی کا منہ دیکھنا پڑتا ہے جیسی عین وقت پر کمیٹی کا نل پانی کی بجائے ہوا کے بلبلے چھوڑ کر چپ ہو جائے ۔ دیکھئے نا ، بیٹھے بٹھائے آپ کے منہ ، گلے یا ناک کے کسی کونے میں ایک نیم خوشگوار سی سر سراہٹ محسوس ہوئی ، پھر یوں لگا جیسے سانس کی دو تین چھوٹی چھوٹی اکائیاں رک رک کر حلق کے اندر اتر گئی ہوں ۔ ساتھ ہی ایک اندرونی ایس ایم ایس موصول ہو تا ہے کہ دل و دماغ کے کسی خاص مقام پر چھینک ’لوڈ‘ ہو گئی ہے ۔ اب آپ نے لبلبی دبائی کہ باپ دادا کی طرح ایک چھوٹا موٹا زلزلہ برپا کر دیں ، لیکن ”نے ہاتھ باگ پر ہے نہ پا ہے رکاب میں“....بس اتنا پتا چلا کہ چھینک سرے سے کہیں غائب ہو گئی ہے ۔

 میری چھینک جب بھی اپنے وجود کا ابتدائی احساس دلا کر یوںسجے کھبے ہو جائے تو یہ واردات مجھے ایک عجیب حیرت سے دو چار کر دیتی ہے ۔ بہر حال ، تجربے کی گہرائی اس حد تک نجی نوعیت کی ہے کہ بندہ اس میں کسی کو حصہ دار بنانا بھی چاہے تو نہیں بنا سکتا ۔ ایسے موقعوں پر آپ کی شکل تو پہلے ہی معمول سے ہٹ کر بنی ہوتی ہے ، لیکن انسان دوسروں کو کیا بتائے کہ بھیتر کی بات ہے کیا ۔ اسے تو اپنا آپ ایک ایسے سانپ کی طرح لگے گا، جس کے وجود میں پھنکار اٹھی اور پھر پتا نہیں کہاں چلی گئی یا پٹرول سے چلنے والی وہ پرانی کار جو انجن روک دینے پر بھی خاموش ہونے سے پہلے تھوڑی دیر ہنہناتی رہتی ہے، بالآخر ایک ہلکی سی ”پھک“ کے ساتھ بند ہو جاتی ہے ۔

چھینک کے آنے اور آ کر نہ آنے کی بات ذرا لمبی ہو گئی ، وگرنہ باطنی محل وقوع کے مشرق و مغرب کو بدل دینے والی یہ حیرتیں زندگی کے اور تجربوں سے بھی جڑی ہوئی ہیں ۔ جیسے کسی قصباتی بستی میں آپ پرانے فیشن کے بیاہ شادی میں فولڈنگ کرسیوں پہ مورچہ بند ہیں ۔ روٹی کھل چکی ہے اور گھمسان کا رن پڑ رہا ہے ۔ زردہ سلونا کھاتے ہوئے اچانک پیاس محسوس ہوتی ہے اور ہاتھ خود بخود ایلو منیم کے جگ کی طرف بڑھتا ہے ، مگر یہ کیا ۔ جگ جو اٹھایا ہے تو فضا میں ایک جھٹکے کے ساتھ دو فٹ تک اٹھتا ہی چلا گیا ہے ۔ اتنا تو سمجھ گئے کہ جگ کا ہلکا پن اس کے خالی ہونے کی وجہ سے تھا ، لیکن ذرا یہ تو بتائیں کہ جگ کو اٹھانے کے لئے آپ نے جو زور مختص کیا، اس کے اوپر نیچے ہو جانے سے آپ پر کیا گزری ؟

 یہی تجربہ مدتوں بعد ملنے والے کسی دوست کی بدولت بھی ہو سکتا ہے کہ آپ نے اسے بے تکلف ہم جماعت سمجھ کر باتوں کی چٹکی بھری اور جواب میں یک لخت جرنیلی نمودار ہو گئی ۔ کبھی یہ بھی ہوا کہ کوئی آدمی لوگوں کی نظر میں ایک نمایاں مقام رکھتا ہے، مگر آپ نے اسے دیکھا ہوا نہیں ، صرف نام سن رکھا ہے ، اخبار میں ذکر پڑھا ہے یا محض ٹیلی فون ، خط و کتابت اور ای میل کے رشتے نے آپ کے ذہن میں اس کا ایک خاص امیج بنا دیا ہے ۔ ہو سکتا ہے کہ آواز ، لب و لہجہ اور الفاظ کی ادائیگی کے سبب آپ کے تصور میں اس کی شبیہ ماموں عبداللطیف سے ملتی جلتی ہو ، مگر جب ملاقات ہوئی تو وہ شخص اپنی شکل و شباہت ، حرکتوں اور سوچ کی بنا پہ عبداللطیف کی بجائے غلام نبی ٹائپ نکل آیا ۔

 ہم کسی انسان کو کس تناظر میں دیکھتے ہیں اور اس سے کون سے طرز عمل کی توقع رکھتے ہیں ؟ اس کا کوئی بندھا ٹکا جواب نہیں ہے ۔ بانی ءپاکستان کے پرائیویٹ سکرٹری اور آزاد کشمیر کے پہلے منتخب صدر ، کے ۔ ایچ ۔ خورشید کی کتاب میں وہ واقعہ درج ہے جب قائد اعظمؒ نے گل محمد نامی چوکیدار کو اچانک یہ کہہ کر ڈانٹ دیا تھا ....”تم گدھا ہے ، تم بے وقوف ہے، تم ہمارا کام کاہے کو نہیں کرتا.... غصے کا یہ لہجہ اس رات سنا گیا جب ان کے کمرے کا فیوز لگاتے لگاتے گل محمد نے پورے گھر کا فیوز اڑا دیا تھا ۔ اگر کوئی کہے کہ ایک دو پہر قائد کو یکایک نہائت زور کی بھوک لگ گئی اور چونکہ کھانا تیار نہیں تھا ، اس لئے ان کے منہ سے یہ الفاظ اپنے خانساماں کے لئے نکلے تو کون اس کا یقین کرے گا ۔

 قائد اعظمؒ والی کہانی کو کچھ عرصے بعد ستر سال ہو جائیں گے ، مگر چیف جسٹس آف پاکستان کی زیر صدارت اس فل کورٹ میٹنگ کو ابھی دس ہی دن ہوئے ہیں جس میں ”انصاف سب کے لئے “ کے نام سے ایک نغمے کو اپنا لینے اور پاکستان بار کونسل کے اجتماعات میں پیش کرنے کی منظوری دی گئی ۔ یہ نغمہ جسٹس تصدق حسین جیلانی کی تخلیق ہے اور پہلی بار 14 اگست 2006 ءکو سپریم کورٹ کی تقریب میں سنا گیا تھا ۔ روزنامہ ”ڈان“ نے ایک حالیہ اداریے میں یہ نکتہ اٹھایا ہے کہ اگر بار کونسل اپنی پسندیدہ شاعری کو ادارے کا ترانہ بنانا چاہتی تھی تو اس کے لئے عدالت سے باضابطہ استدعا کا طریق کار ان لوگوں کی سمجھ میں نہیں آئے گا، جن کا تعلق قانونی حلقوں سے نہیں....

 ”ڈان“ کا چھیڑا ہوا نکتہ اپنی جگہ دلچسپ سہی ، لیکن قانونی حلقوں اور عدالتی طرز فکر کے مابین جو نازک سا امکانی فرق ہے ، ہو سکتا ہے اداریہ نویس کی آنکھ وہاں تک بھی پہنچ گئی ہو ۔ ہمارے ایک استاد اسی جو ڈیشل مائنڈ سیٹ کے فقدان کو ہماری عدلیہ کے متنازعہ کردار کی جڑ قرار دیا کرتے تھے ۔ مجھے اس مائنڈ سیٹ کا ذائقہ اس وقت محسوس ہوا، جب مَیں نے برطانیہ میں جیوری سروس ادا کرنے سے اس لئے معذرت کر لی کہ قانون کا طالب علم ہونے کی بنا پر مَیں معاملات کا جو ڈیشل ویولینے کی عادت رکھتا ہوں اور کسی مقدمے کا جائزہ صرف عقل سلیم کی بنیاد پر لے ہی نہیں سکتا ، جو بطور رکن جیوری میرا فرض ہے ۔ اس پر مجھے ایک باضابطہ مراسلہ موصول ہوا جس کا مفہوم یہ تھا کہ آپ کی قانون کی ڈگری کے پیش نظر ہم آپ کو جیوری کی رکنیت کے لئے نا اہل سمجھتے ہیں ۔

 تو کیا اپنے جوڈیشل مائنڈ سیٹ کی بدولت اعلیٰ عدالت کا جج بھی شاعری کے تخلیقی عمل کے لئے نا موزوں قرار پائے گا ؟ اردو میں اصول تنقید کی اولین کتاب ”مقدمہ ءشعر و شاعری“ کے مصنف اور نیچرل شاعری کی تحریک کے بانی ، مولانا الطاف حسین حالی شعر کی مدح و ذم کے باب میں یہ کہہ کر ہماری مشکل میں اضافہ ہی کر گئے ہیں کہ زمانہ ءحال میں بعضوں نے شعر کو میجک لینٹرن سے تشبیہ دی ہے ، یعنی میجک لینٹرن جس قدر زیادہ تاریک کمرے میں روشن کی جاتی ہے، اسی قدر زیادہ جلوے دکھاتی ہے ۔ اس طرح شعر جس قدر جہل و تاریکی کے زمانے میں ظہور کرتا ہے، اسی قدر زیادہ رونق پاتا ہے ‘ ۔

 تاریخی طور پر دیکھیں تو بر صغیر میں اعلیٰ عدالتوں کے جج صاحبان کی شعر و ادب میں دلچسپی کی روایت خاصی مضبوط رہی ہے ۔ سید امیر علی کی ” اسپرٹ آف اسلام “سے لے کر شیخ عبدالقادر کے ’ بانگ در ا‘ کے دیباچہ تک کلیدی افکار کی نمائندگی کرنے والی کئی ایسی تحریریں گنوائی جا سکتی ہیں، جن کے مصنفین کو عدالتی پس منظر سے جدا کر کے دیکھنا آسان نہیں ۔ سب سے بڑھ کر ہمارے جسٹس ایم ۔ آر ۔ کیانی ہیں جن کی رحلت کو اسی ماہ پچاس سال ہوگئے ۔ خیر ، مذہب ، فلسفہ ، عمرانی علوم ، یہاں تک کہ ادبی اور سماجی تنقید الگ الگ مضامین سہی ، مگر ان تمام نثری تحریروں کی بنیاد ایسے استدلال پر ہے جس سے ہم سب عام زندگی میں کام لینے کے عادی ہوتے ہیں ۔ اس کے مقابلے میں شاعری کے ”رولے“ ذرا اور نوعیت کے ہیں۔

 سب سے پہلا ”رولا“ تو وہی احمد ندیم قاسمی کا فرمان کہ شاعری رائے کا اظہار نہیں ، جذبے کا اظہار ہے ۔ کہنے کو تو یہ ایک سیدھی سی بات ہے ، مگر اس کا مطلب ہے شعری دانش کی اکائی تشکیل دینے کے لئے منطق اور جذبے کو ایک منفرد تناسب سے باہم ملا دینا ۔ پھر آپ طبعی حقائق کی زمینوں پر کھڑے ہو کر خواب و خیال کی سچائیوں کی طرف ہائی جمپ لگانے کی کوشش کرتے ہیں ۔ اس سے آگے کیفیتوں کی ”نو مین لینڈ“ ہے، جس میں الفاظ کی اوپری پرتوں کو ہٹا کر مفہوم کے معدنی ذخائر کو پا لینے کے لئے پاتال تک اترنا پڑتا ہے ۔ ”ویرانہ ءدل“ کی ان تہہ در تہہ کھدائیوں میں کچھ عجب نہیں کہ شاعر خود اپنے ہی تیشے کی پہلی ضرب سے ”قیں“ ہو جائے ۔

اتنی تشریح کر دینے کے بعد بھی اگر کوئی طالبعلم ضدی بچوں کی طرح مجھ سے گھڑی گھڑی پوچھے کہ بتائیں نا ، جوڈیشل مائینڈ سیٹ والوں کو شاعری کرنی چاہئے یا نہیں؟ تو اس صورت مَیں پہلے تو میں کچھ دیر تک اپنے زمانے کی سب سے بڑی ادبی عدالت کے جج فیض احمد فیض کی طرح محض مسکراہٹ سے کام چلا کر ایک لمبی تاریخ ڈال دوں گا۔ اس کے بعد اگر اصرار زور پکڑنے لگے تو فیض ہی کے انداز میں کہوں گا بھئی: ” ہم سے سند مت مانگو ۔ کوئی ڈھنگ کی لڑائی ہو تو آدمی لڑے بھی “ سائل کہے گا : فیض صاحب ! آپ تو بنچ سے سبکدوش ہی ہو گئے ۔ اس پر آواز آئے گی :”بھئی وہ چھینک تو ایک بار لوڈ کر لی تھی، مگر داغی نہ جا سکی۔“    ٭

مزید :

کالم -