آبروئے اسلام، امامِ عالی مقامؑ

آبروئے اسلام، امامِ عالی مقامؑ
آبروئے اسلام، امامِ عالی مقامؑ

  

شاعرِ انقلاب حضرتِ جوش ملیح آبادی نے فرمایا:

اے حسینؑ ابنِ علیؑ اے بندئہ یزداں صفات

نُور سے تیرے جھمکتی ہے جبینِ کائنات

محو ہو جائیں اگر دنیا سے تیرے واقعات

گُنبدِ تاریخ پر چھا جائے ہیبت ناک رات

٭٭٭

بُھول سکتا ہی نہیں انسان قربانی تری!

حافظے کے فرق کا جُھومر ہے پیشانی تری

تاریخ انسانی اُس عظیم قربانی کو بھلا کیسے بُھلا سکتی ہے جو ریگزار کربلا میں راہِ خدا کے مسافروں، دینِ محمدی کے سچے پیروکاروں، حق کے پرستاروں نے دینِ اسلام کی بقاءو سر بلندی کے لئے دی۔ یہ وہ قربانی تھی، جس نے اسلام کو نئی زندگی دی اور رہتی دنیا تک زندہ و پائندہ کیا۔ مولانا محمد علی جوہر نے دو مصرعوں میں یوں پوری تاریخ رقم کر دی:

قتلِ حسینؑ اصل میں مرگ یزید ہے

اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد

دراصل یزیدی عہدِ حکومت میں دینِ اسلام کی کھلم کھلا تکذیب کی جانے لگی تھی۔ امامِ عالی مقامؑ کے نانا کے دین کی حقانیت کو چیلنج کیا جانے لگا تھا۔ ایسے حالات میں دینِ اسلام کی بقا اور اس کو اپنی اصل شکل و صورت میں بحال رکھنا، نواسہءرسول، جگر گوشہءبتول حضرت امام حسینؑ کا مِشن ٹھہرا اس مقدس مشن کی تکمیل، اُنہوں نے بہرحال کرنا تھی سو، جانوں کی قربانی دے کر کی!

امام عالی مقام حضرت حسینؑ کی زندگی کے مقاصدِ عالیہ کا نچوڑ ان روشن نکات میں مضمر ہے۔

کتاب و سنت کے قانون کو صحیح سیاق و سباق کے ساتھ رائج کرنا۔

اسلام کے اصل نظامِ عدل کو از سر نو قائم کرنا۔

 اسلام میں خلافت و ملوکیت کی بدعت و بالادستی کو قبول کرنے کے بجائے خلافت و نبوت کے لئے جہاد کرنا۔

حق کے مقابل زور و زر کی نمائش کا خاتمہ۔

حق کی خاطر اپنے جان و مال اور اولاد تک کی قربانی دینا۔

خوف و دہشت و مصیبت و آلام کی فضا میں نہ گھبرانا، ہر وقت خالقِ حقیقی کا شکر گزار رہنا اور

تیغوں کے سائے میں بھی سجدہ ریز ہونا۔

یہی وہ نکات تھے جو امام عالی مقام کی زندگی کا مرکز و محور تھے۔ حضرت وقار انبالوی نے سجدئہ شبیریؑ کو اپنے لازوال شعر میں یوں محفوظ کیا:

اسلام کے دامن میں اور اس کے سوا کیا ہے

اک ضربِ ید اللہیؑ اک سجدئہ شبیریؑ

(یہ شعر غلط طور پر علامہ اقبالؒ سے منسوب کر دیا جاتا ہے)

امام حسین کی زندگی دینِ اسلام کا بول بالا کرنے کی عملی تفسیر تھی وہ بلاشبہ محافظ دینِ متین تھے، آبروئے اسلام تھے!

امامِ عالیؑ مقام نے 72 جاں نثار ساتھیوں سمیت اپنے اور اپنے خانوادے کے پاک خون سے چمنِ اسلام کی اس طرح آبیاری کی کہ رہتی دنیا تک یادگار رہے گی۔

ریگِ کرب و بلا پر ان نفوس قدسیہ کا جو خونِ نا حق بہا وہ رائیگاں ہرگز نہیں گیا۔ شہدائے کربلا کے لاشے جو کربلا کی زمین پر تین دن تک بے گورو کفن پڑے رہے۔ انہوں نے تاریخ حریت کا ایک ایسا چمکتا دمکتا باب رقم کیا، جس کے حوالے سے شاعر، ادیب، دانشور سدا خامہ فرسائی کرتے رہیں گے۔ مولانا ظفر علی خان نے فرمایا:

اے کربلا کی خاک اس احسان کو نہ بُھول

تڑپی ہے تجھ پہ لاشِ جگر گوشہ بتولؑ

کربلا کیا ہے؟.... سانحہءکربلا کیا ہے؟ یہ سمجھنے کی ضرورت ہے۔ مختصراً یہ کہ سانحہءکربلا کوئی قصہ کہانی نہیں، ایک حقیقی تاریخی واقعہ ہے۔ سارے عالم امکاں کے لئے ایک عہد ساز واقعہ ہے۔ کربلا صرف میدانِ جنگ کا نام نہیں، بلکہ ایک درس گاہ عزم و عمل کا نام ہے۔ کربلا ایک جذباتی ردعمل نہیں، بلکہ عقل و شعور کی معراج ہے۔

کربلائ، زندگی کے نشیب و فراز میں، ہر انسان کو اُس کی ذمہ داریاں سُجھاتی ہے۔ ان ذمے داریوں پر عمل پیرا ہونے کی ترغیب کے لئے شجاعت اور بلند حوصلہ عطا کرتی ہے۔ جہالت کی تاریکیوں سے نکال کر علم کی روشنی کی طرف لاتی ہے۔ انقلابی جوش و جذبے کی قدر کرتے ہوئے انہیں عقل و شریعت کے تابع بناتی ہے۔ غرض بقولِ مولانا ماہر القادری:

کربلا آزمائش کا معیار ہے

حشر تک کے لئے فیصلہ ہوگیا

مسافرانِ کربلا میں شیر خوار بچے ، بوڑھے، جوان، عورتیں، مرد سب ہی امامِ عالی مقامؑ کے ہمرکاب تھے۔ آخر یہ کون لوگ تھے؟ کیوں اور کس مقصد کے لئے میدانِ کربلا میں اکٹھے ہوئے تھے؟

دراصل جب امام عالی مقامؑ سے سوالِ بیعت کے جواب میں تمام زبانی کلامی ”حجتیں“ تمام ہوگئیں اور باطل قوتوں پر تلقین و وعظ و نصیحت کا کوئی اثر نہ ہُوا تو حق کا پرچم تھامنے والوں کو عزم و عزیمت کے چراغ جلانے کے لئے باوقار ہستیوں کے ساتھ میدانِ و غا میں آنا لازمی ٹھہرا کہ دعوتِ مبارزت ملنے کے بعد مُنہ موڑنا، خانوادئہ رسالت کے شایان شان نہ تھا۔

امامِ عالی مقام نے تو ہوَسِ جاہ و منصب کبھی دل میں رکھی ہی نہ تھی۔ اُنہوں نے تو حکومت و حکمرانی سے دستبرداری اختیار کر لی تھی اور اپنے والدِ گرامی شیرِ خدا، حضرت علی مرتضیٰ، مُشکل کُشا کی طرح اپنے دورِ عُزلت کو علوم و فنون کی ترویج و اشاعت اور دین محمدی اور سنتِ نبوی کی تبلیغ میں صرف کرنے کو شعار بنا رکھا تھا، مگر ظالم زمانے کو یہ بھی گوارا نہ ہُوا....!

حاکمِ وقت یزید اس فکر میں غلطاں رہا کہ اپنی غاصبانہ حکومت و خلافت کو تسلیم کرا کے، اپنی پوزیشن اور اپنے ناجائز حقِ خلافت کے استحکام پر نواسہءرسول مقبول کی مُہر تصدیق ثبت کرالے۔ یوں وہ امامِ عالی مقامؑ سے بیعت کا طالب رہا اور جو اب اپنے لئے مفیدِ مطلب نہ پا کر امامِ مظلوم کو ایک ایسی جنگ میں ملوث کر لیا، جسے یزید کے گماشتوں نے آگے چل کر ”دو شہزادوں کی جنگ“ قرار دینا تھا۔

یہ جنگ ہرگز ہرگز ”دوشہزادوں کی جنگ“ نہ تھی۔ دراصل نہرِ فرات کے کنارے دو اصول ایک دوسرے سے ٹکرائے تھے۔ دو نظریے متصادم تھے۔ حق و باطل کی دو قوتیں برسر پیکار ہوئی تھیں۔ حضرتِ علامہ اقبالؒ کے لفظوں میں:

مدعائش سلطنت بُودی اگر

اُو نہ کر دی با چُنیں ساماں سفر

حق پرستوں کا مو¿قف تھا کہ اس دنیا میں بادشاہی، قانون سازی اور کبریائی کا حق صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی ذاتِ والا تبار کو ہے۔ اللہ کے برگزیدہ بندے ہی اُس کے قانون کو صحیح شکل و صورت میں نافذ کر کے اس رُوئے ارض پر نظم و نسق قائم رکھ سکتے ہیں!

باطل گروہ کا کہنا تھا کہ ”بادشاہت کا حق ہمارا ہے۔ ہم جو چاہے کر سکتے ہیں، کیونکہ ہمارے پاس فوج ہے، خزانہ ہے اور کچھ لوگ ہماری ہاں میں ہاں ملانے کو بھی حاضر ہیں“۔ یہ دراصل حق و باطل کی آویزش تھی۔ سچ اور جھوٹ کی لڑائی تھی۔ حق پرستوں اور باطل زادوں کی کشمکش تھی۔ کاسہ لیسوں ابن الوقتوں، غلط کو صحیح اورصحیح کو غلط جاننے، ماننے والوں کے سامنے ڈٹ جانے والوں کی داستانِ عظمت تھی۔ حق پرستوں، حق شعاروں کے رہبر و رہنما اور سالارِ اعظم سید الشہدائ، امام عالی مقام حضرت حسینؑ کی سربلندی و سرفرازی کی جیتی جاگتی تعبیر تھی۔

اس جنگ میں حق و باطل کا، کفر و اسلام کا معرکہ ہی سر نہیں ہُوا، بلکہ اس جنگ نے اٹل فیصلہ دے دیا کہ:

شہید مرتا نہیں،

شہادت تو زندگی کو دوام دیتی ہے

موت سے آشنا نہیں ہے

 فلسفہءشہادت کو زبانِ حال سے عملی طور پر بیان کرنے والے شہیدِ اعظم امام حسینؑ نے کثیر لشکر یزیدی سے نبرد آما ہونے کا فیصلہ بلاوجہ نہیں کر لیا تھا۔ اُن کے سامنے ایک واضح مقصد تھا، ایک نصب العین تھا۔ انہوں نے اتمام حجت کے تمام مرحلے طے کر لئے تھے بلکہ مکالمہ و مذاکرہ کے آخری مرحلے تک پہنچ گئے تھے، مگر جب تمام حرفِ ملائم اکارت جاتے دکھائی دئیے تو حق پر ڈٹ جانے اور جانوں کی قربانی پیش کر کے دین حق کو بچانے کا راستہ اختیار کئے بغیر کوئی چار نہ تھا۔

 امام عالی مقامؑ بِلا سبب، بلاجواز، جدال و قتال آخر کیوں کرتے؟ وہ تو پیغمبرِ آخر الزماں، رحمت اللعالمین کی گود میں پلے ہوئے تھے، انہیں علم تھا کہ دشمنانِ دین صرف اور صرف ان کے خون کے پیاسے ہیں کیونکہ اُن کے ہوتے ہوئے نا خوب کو خوب نہیں بنایا جاسکتا، یزید کو من مانی کرنے کی کھلی چھٹی نہیں مل سکتی۔ چنانچہ یہ حقیقت ہے کہ طاغوتی قوتیں امامؑ کو اپنی راہ سے ہٹانے کے لئے شروع ہی سے کمر بستہ رہیں۔

یکم سے دس محرم تک کے عشرے میں امامِ عالی مقام نے اپنے عزم و استقامت میں معمولی سی لرزش بھی نہ آنے دی۔ نویں محرم کی شب میں جسے شبِ عاشورہ بھی کہا جاتا ہے۔ آپ نے اپنے تمام انصار کو جمع کیا اور چراغ بجھا کر کہا کہ رات کی تاریکی میں جو میرا ساتھ چھوڑ کر جانا چاہئے، چلا جائے۔ حضرتِ امام حسینؑ نے اس موقع پر جو خطاب کیا، وہ آج تک یوں فروزاں ہے:

”مَیں کسی کے اصحاب کو اپنے اصحاب سے زیادہ نیک اور اپنے اہلِ بیت سے زیادہ اچھے کسی کے اہل بیت کو نہیں پاتا۔ خدا تم سب کو جزائے خیر عطا فرمائے! یہ رات کا سناٹا ہے، اس کو غنیمت جانو اور تم میں سے ہر ایک میرے اہلِ بیت کے مردوں میں سے ایک ایک کو اپنے ہمراہ لے کر چلا جائے اور مجھے دشمنوں کے لشکر کے پاس چھوڑ دے، کیونکہ انہیں میرے سوا کسی اور سے غرض نہیں ہے“۔

حضرت امام حسینؑ کے بھائیوں، اولاد اور حضرت عبداللہ ابنِ جعفر کی اولاد نے امام کے جواب میں عرض کیا:

”کیا ہم آپ کو چھوڑ کر چلے جائیں تاکہ آپ کے بعد زندہ رہیں؟“

خدا ہرگز ایسا دن ہمیں نصیب نہ کرے“.... ان کلمات کو سب سے پہلے حضرت عباسؑ بن علیؑ نے ادا کیا اور باقی افراد نے بھی ان کی پیروی کرتے ہوئے یہی کچھ کیا۔

اس کے بعد حضرت امام حسینؑ، حضرت مسلم ؑبن عقیل کے بیٹوں کی طرف متوجہ ہوئے اور اُن سے مخاطب ہو کر ارشاد فرمایا:

”تمہارے لئے شہادتِ مسلم ؑہی کافی ہے، مَیں تمہیں جانے کی اجازت دیتا ہوں، تم لوگ چلے جاو¿“....!

امام عالی مقام کے اعزاءو انصار نے عرض کیا:”اے فرزندِ پیغمبر! لوگ جب ہم سے پوچھیں گے تو ہم اُن کو کیا جواب دیں گے؟“.... کیا اُن کو جواب دیں گے کہ ہم نے اپنے مولا ا ور اُن کی حمایت و نُصرت میں دشمن کی طرف ایک تیر بھی نہیں چلایا، ایک نیزہ بھی نہیں پھینکا، ایک تلوار بھی نہیں چلائی“۔ ہر گز نہیں، خدا کی قسم ہم لوگ آپ سے جُدا نہیں ہوں گے۔ ہرگز نہیں....! ہم آپ کی حفاظت آخری دم تک کریں گے، یہاں تک کہ ہم راہِ خُدا میں شہید ہو جائیں، آپ کے بعد خدا ہمیں زندہ نہ رکھے“!

غرض تمام اعزاءو اقرباءاور انصارانِ حسینؑ نے باری باری اسی طرح کے خیالات کا اظہار کیا۔ سب کے سب عزم و استقامت و استقلال کے پہاڑ تھے اور کسی خوف و خطر کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے اپنی جگہ سے ذرّہ برابر بھی کھسکنے کو آمادہ نہ تھے....!

یہ سب کے سب جاں نثارانِ حسینؑ، امامِ عالی مقام کے مقصدِ شہادت کا ادراک رکھتے تھے۔ اس لئے یہ ممکن ہی نہ تھا کہ اُن میں سے کوئی ایک بھی اُن کا ساتھ چھوڑتا، چنانچہ چراغ گُل ہو جانے اور رات کی تاریکی میں شناخت ظاہر نہ ہونے کی ضمانت کے باوجود کسی کے پائے استقلال میں لغزشِ خفی بھی دکھائی نہ دی۔ بے شک:

چلے جو عزم شہادت سے کربلا والے

دکھا گئے ہمیں راہِ خدا ، خدا والے

حضرت امام حسینؑ کا عقیدہ تھا، ایمان تھا، اعتقاد تھا، ایقان تھا کہ ”اگر جسم موت کے لئے بنائے گئے ہیں تو کسی بہادر شخص کا راہِ خدا میں تلوار سے مارا جانا زیادہ پسندیدہ عمل ہے“۔ چنانچہ آپ نے روز عاشور خطاب میں فرمایا:”یا آلِ احمد! تم پر سلام ہو، کیونکہ مَیں دیکھتا ہوں کہ مَیں آج تم سے رُخصت ہوں گا۔ دیکھیں تمام ملعون جنہوں نے ناشکری کی ہے، وہ منافق ہیں۔ اپنے جہل سے وہ مجھے فنا کر کے کیا پائیں گے؟.... اللہ تعالیٰ کے حلم نے ان کو مغرور کر دیا ہے۔ اللہ بڑا کریم و حلیم ہے اور کبھی جلدی نہیں کرتا“....!

واقعی اللہ تعالیٰ کے ہاں دیر ہے، اندھیر نہیں، امامِ عالی مقام حضرت حسین علیہ السلام، آج بھی صبر و استقامت کا استعارہ ہیں۔ وہ محافظِ اسلام کی حیثیت سے زندہ تابندہ و پایندہ ہیں، جبکہ یزیدی قوتوں کا نام بھی داخل دشنام ہو چکا ہے:

یزید کا تو نشاں تک نہیں رہا ناصر!

حسینؑ آج بھی دونوں جہاں میں زندہ ہے

مزید :

کالم -