سلام اے شاہ ِشہیداںؓ

سلام اے شاہ ِشہیداںؓ
سلام اے شاہ ِشہیداںؓ

  

آج یوم عاشور ہے۔ کربلا کے ان شہیدوں کی یاد کا دن، جنہوں نے حق اور سچ کی خاطر دنیائے عالم کی تاریخ میں ایک لازوال قربانی رقم کی۔ کربلا کا واقعہ انسانی تاریخ کے ماتھے کا جھومر ہے۔ اگر کسی کو دنیا میں شرف انسانیت کی عظمت کا یقین نہ آئے تو اسے صرف سانحہ کربلا کو یاد کر لینا چاہیے۔ باطل کے سامنے صرف جان بچانے کے لئے سرنگوں نہ کرنے کا جو مظاہرہ میدان کربلا میں کیا گیا، وہ انسان کی عظمت کا ایک ایسا استعارہ ہے، جس پر انسانیت رہتی دنیا تک فخر کر سکتی ہے۔

کربلا کی خوشبو سے یوں تو پوری کائنات مہکی ہے، تاہم اگر شعر و ادب کا تذکرہ کیا جائے تو اس واقعہ نے برصغیر کے ادب پر گہرے اثرات مرتب کئے۔ خاص طو رپر اردو اور فارسی شاعری پر اس کا اثر کچھ اس قدر زیادہ ہوا کہ مرثیے جیسی عظیم صنف نے جنم لیا۔ رزم حق و باطل کا جس انداز سے مرثیے میں اظہار ہوتا ہے، دنیا کی شاید ہی کسی اور زبان میں ہوتا ہو۔ مرثیہ در حقیقت ایک ایسی صنف ہے، جو انسانیت کے ان جذبوں کو مہمیز کرتی ہے، جو اشرف المخلوقات ہونے کی بنیاد بنتے ہیں۔ مرثیے کو عروج میر انیس اور مرزا دبیر کے زمانے میں حاصل ہوا۔ جس انداز سے ان دونوں شاعروں نے سانحہ کربلا کی جزئیات کو سمیٹا اور خانوادئہ رسول کی لازوال قربانی کے لمحے لمحے کو منعکس کیا، وہ اپنی مثال آپ ہے۔ مرثیہ مشکلات میں گھرے انسانوں کی اس جذباتیت، بلند حوصلگی، جرات مندی، عقیدے پر یقین اور حق کی خاطر جان قربان کرنے کی لگن کا محاکمہ ہے۔ میر انیس نے بطور خاص جس باکمال خلاقیت اور ہنر مندی کے ساتھ قافلہ حسینی کو پیش آنے والے لمحات کی تصویر کشی کی ہے، یوں لگتا ہے کہ جیسے ہم سب معرکہ خیر و شر میں شریک ہوں اور وہ سب المیے ہم پر بیت رہے ہوں۔

اردو شاعری کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو مرثیہ سب سے توانا صنف نظر آتی ہے۔ تقریباً ہر شاعر نے اس صنف میں طبع آزمائی کی اور معرکہ حق و باطل کے اس سب سے بڑے مظہر کو اپنے اپنے انداز میں رقم کیا۔ مرثیہ کے دو پہلو ہمیشہ نمایاں رہے ہیں۔ ایک پہلو اس بہادری وشجاعت سے تعلق رکھتا ہے، جس کا مظاہرہ حضرت امام حسینؓ اور ان کے بہتر جان نثاروں نے کیا۔ دوسرا پہلو وہ غم و اندوہ کی کیفیت ہے، جو سانحہ کربلا کو یاد کر کے دل و دماغ میں ابھرتی ہے۔ مرثیہ اور سلام انہی دو کیفیات کے گرد گھومتے ہیں۔ یہ دونوں کیفیات انسانی جذبو ںکے اعلیٰ معیارات کو پیش کرتی ہیں۔ مرثیے کا خمیر ان دونوں کیفیات سے اٹھتا ہے اور مرثیہ نگار جب درد و الم میں ڈوب کر مرثیہ تخلیق کرتا ہے، تو یہ صنف انسانی عظمت کے ان میناروں کو چھوتی ہے، جن کی دوسرے مذاہب والے صرف خواہش ہی کر سکتے ہیں۔

میر انیس و مرزا دبیر نے لکھنو میں بیٹھ کر اس صنف کو بام عروج پر پہنچایا، تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ صنف برصغیر کے طول و عرض میں ایک تخلیقی دھارے کی شکل اختیار کر گئی۔ ہر خطے اور ہر شہر کے سخنوروں نے اس صنف میں طبع آزمائی کرنا اپنے لئے سعادت قرار دیا اور مرثیہ مقبول سے مقبول تر صنف بنتا چلا گیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مرثیہ نگاروں میں ہر مسلک، فرقے، حتی کہ دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے بھی شامل ہیں، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ سانحہ کربلا صرف مسلمانوں کا فخر نہیں، بلکہ پوری انسانیت کے لئے ایک روشنی کا مینار ہے اور ہر مذہب کے ماننے والے اس کی عظمتوں میں ڈوب جانا چاہتے ہیں۔

جس طرح نعت کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ حد درجہ احتیاط مانگتی ہے اور ذرا سی لغزش سے عقیدتوں کے آبگینوں کو ٹھیس پہنچ سکتی ہے، اسی طرح مرثیہ نگاری بھی عام شاعری کے برعکس اظہار میں سنبھل سنبھل کے چلنے کا تقاضا کرتی ہے۔ حضرت امام حسینؓ نہ تو پیغمبر ہیں اور نہ لازوال طاقت کا منبع۔ وہ ایک ایسے بشر ہیں، جنہوں نے ایک مشکل وقت میں باطل سے ٹکرانے کا فیصلہ کیا۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ دنیاوی شکست سامنے کھڑی ہے، انہوں نے باطل کی اطاعت کا راستہ نہیں اپنایا۔ یہ اطاعت انہیں اپنے خاندان سمیت محفوظ و مامون رکھ سکتی تھی، مگر انہوں نے وقتی منفعت کے اس راستے کا انتخاب نہیں کیا ،بلکہ وہ راستہ منتخب کیا، جس پر عقل محو تماشا رہ جاتی ہے۔ اتنے بڑے انسانی فیصلے کو تاریخ کتنا ہی بیان کرتی رہے، اس کی روح تک نہیں پہنچ سکتی، یہ صرف مرثیہ نگار ہے، جو شرف انسانیت کا باعث بننے والے اس واقعے کی روح تک اترتا ہے اور شاعر اس عظیم داستان کے سمندر میں اتر کر وہ موتی تلاش کر کے باہر لاتا ہے، جن کی خیرہ کن چمک آج بھی حق اور سچ کو منور کئے ہوئے ہے۔ مَیں ان شاعروںکو سلام پیش کرتا ہوں، جو حضرت امام حسینؓ اور ان کے پیاروں کو مرثیے کے ذریعے سلام پیش کرتے ہیں۔ یہ سعادت کی بات ہے اور ایسی سعادت اکتساب سے نہیں، بلکہ اس فطری عقیدت سے جنم لیتی ہے، جو امام عالی مقام کی ذات میں پنہاں ہے۔    ٭

مزید :

کالم -