سانحہ کربلا کی یاد

سانحہ کربلا کی یاد

  

آج دس محرم الحرام ہے۔ کربلا کے میدان میں نواسہ رسول حضرت امام حسین ؓاور ان کے اہل خاندان کی شہادت کا دن۔ ! یزید کے طرزِ حکومت اور معاملات کی اطلاعات ملنے پر حضرت امام حسینؓ نے اپنے فرض کی پکار پر لبیک کہا ، احتساب کی آواز بلند کرتے ہوئے کوفہ کے سفر کا فیصلہ کیا۔ صاحب اقتدار نے امام حَسنؓ کی زندگی میں ان سے کئے گئے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اپنے بیٹے کو حکومت سونپ کر خلافت کو بادشاہت میں بدل دیا تھا۔ جسے حضرت حسینؓ نے تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔ حضرت حسینؓ کے قیام مدینہ کے دوران گورنر مدینہ نے ان پر یزید کی اطاعت قبول کرنے کے لئے زور ڈالا تو آپ نے انکار کیااور فرمایا :” میرے جیسا کوئی شخض یزید جیسے کسی شخص کی بیعت ہرگز نہیں کرسکتا “۔ اس کے دو دن بعد آپ حج کے لئے مکہ روانہ ہوگئے۔ یہاں آپ کو خبر ملی کہ آپ کے قتل کے لئے ایک لشکر بھیجا گیا ہے، کوفہ کے لوگوں کی طرف سے آپ کو تائید و حمایت میں بہت سے خطوط موصول ہوئے تھے ۔ آپ نے وہاں جانے کا فیصلہ کیاروانگی سے قبل انہوں نے خطبہ دیتے ہوئے فرمایا : ً جس طرح نوعمر بچیوں کے گلے میں پڑا ہوا ہار ہے، اسی طرح موت برحق ہے ، میں اس سفر میں اپنے بزرگوں حضرت یعقوبؑ اور حضرت یوسفؑ کی سنت پوری کررہا ہوں، جو کوئی بھی ہمارے لئے اپنا خون دینا اور ان بزرگ ہستیوں سے ملنا چاہتا ہے اسے ضرور ہمارے ساتھ چلنا چاہئے۔ سفر کے دوران حضرت امامؓ کو کوفہ میں سفیر کے طور پر بھیجے ہوئے اپنے چچیرے بھائی مسلم بن عقیلؓ اور ان کے میزبان کی شہادت کی خبر ملی اور معلوم ہوا کہ کوفہ کے لوگوں نے نظریں پھیر لی ہیں۔ وہاں ابن زیاد کو گورنر مقرر کئے جانے کے بعد صورت حال بدل گئی تھی۔ آپ نے کوفہ کا سفر جاری رکھنے کا فیصلہ کیا اور وہاں کے اہم لوگوں کو پیغام دے کر اپنا ایلچی بھیجا جسے کوفہ کے نواح میں گرفتار کرکے قتل کردیا گیا۔

کوفہ سے دو دن کی مسافت پردو محرم کو حکمران فوج کے ایک ہزار سپاہیوں نے آپ کے قافلے کو کربلا کے مقام پر گھیر لیا۔ عمر بن سعد بھی مٹھی بھر لوگوں کے قافلے کو نشانہ بنانے کے لئے ایک بڑی فوج کے ساتھ کربلا پہنچ گیا۔ گورنر کوفہ ابن زیاد نے عمر بن سعد کو خط لکھا کہ امام حسینؓ کے قافلے کو فرات کا پانی پینے سے روکو اور انہیں ایک قطرہ بھی پینے نہ دو۔ جس کے بعد لشکر کے پانچ ہزار افرادنے دریا کے پانی پر پہرہ لگا دیا اور آپ کے ساتھیوں پر پانی بند کردیا گیا۔ یہ پابندی لڑائی کے خاتمے تک جاری رہی۔ 9 محرم کو عمر بن سعد کو ابن زیاد کا حکم نامہ ملا کہ جنگ فوری طور پر شروع کی جائے اور اس میں مزید تاخیر ہرگز نہ کی جائے۔ 9محرم کی شام کو حضرت امام حسینؓ کے خیموں کی طرف پیش قدمی شروع کی گئی ۔ آپ نے حضرت عباسؓ کو ابن سعد کے پاس یہ پیغام دے کر بھیجا کہ وہ رات بھر کے لئے جنگ سے رک جائے تاکہ وہ اور ان کے ساتھی رات بھر عبادت کرسکیں۔ اس موقع پر انہوں نے اپنے ساتھیوں کو جمع کرکے کہا کہ سب کی شہادت یقینی ہے لیکن جو کوئی بھی انہیں چھوڑ کر جانا چاہے وہ رات کے اندھیرے میں نکل جائے۔ لیکن کوئی ایک شخص بھی آپ کا ساتھ چھوڑ کر جانے کو تیار نہ ہوا۔ اس کے بعد حضرت امامؓ کے ساتھیوں نے رات بھر عبادت کی ۔ دس محرم کی صبح فجر کی نماز کے بعد حضرت اپنے گھوڑے پر سوار ہوئے اور میدان میں اترے ۔ انہوں نے اپنے سامنے آنے والے لوگوں سے کہا کہ انہیں چاہئے کہ وہ رسول پاک کے خاندان کو بچانے کے لئے ان کے لشکر میں شامل ہو جائیں ۔ ان کی تقریر کے بعد تمیم اور ہمدان قبائل کا کمانڈر آپ کے ساتھ مل گیا۔ اس اثنا ءمیں شمر کو کمانڈر بنا کر کربلا میں بھیج دیا گیا۔ مخالف افواج نے حضرت حسینؓ کے لشکر کے ایک ایک فرد کو سنگ دلی سے شہید کر دیا۔ حضرت حسینؓ اور ان کے ساتھیوں نے جس شجاعت اور استقامت سے کئی گنا بڑے لشکر کا مقابلہ کیا اور طرح بچوں تک نے اس جنگ میں داد شجاعت دے کر مثال قائم کر دی۔

 بنی کریم کے خاندان کے بہتر افراد نے شہادت پائی ۔ جنگ کے بعد قافلے کے خیموں پر حملہ کرکے خواتین کی تمام قیمتی اشیا ءچھین لی گئیں ۔ انہیں پہلے کوفہ اور پھر وہاں سے دمشق لے جایا گیا۔ وہاں ان بچوں اور خواتین کو ایک عرصہ تک روکنے کے بعد مدینہ جانے کی اجازت دے دی گئی۔ اس واقعہ پر پورے عالم اسلام میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔ اس المناک واقعہ اور اس کے شہدا ءکو محرم کے دنوں میں یاد کیا اور ان کے صبر، استقامت اور راست بازی کوخراج عقیدت پیش کیا جاتا ہے۔ اہل بیت سے دلی محبت و عقیدت کے اظہار کے لئے یکم محرم سے دس محرم تک عزاداری کی مجالس کا انعقاد کیا جاتا اور تعزیتی جلوس نکالے جاتے ہیں۔ حضرت امام حسینؓ نے اس عظیم قربانی سے واضح کر دیا کہ باطل جس قدر بھی طاقتور ہو اور حق پر قائم افراد بظاہر کتنے بھی کمزور کیوں نہ ہوں انہیں صداقت کی طاقت حاصل ہوتی ہے، انہیں باطل کے سامنے کسی حالت میں بھی نہیں جھکنا چاہیئے۔ موت ہر کسی کو آنی ہے لیکن اگر حق و صداقت کی سربلندی کے لئے موت آ جائے تو یہ ابدی زندگی بن جاتی ہے ۔

 اظہار عقیدت ومحبت کے بعض مروجہ طریقوں سے اختلاف کیا جا سکتا ہے لیکن ایک مسلمان اس اختلاف کی بناءپر دوسرے مسلمان کا دشمن ہر گز نہیں ہوسکتا ۔ مسلمانوں کے مسلمانوں پر خود کش حملوں اور ایک دوسرے کے دشمن بن جانے کی بنیاد نہیں بنایا جاسکتا ۔حضرت حسینؓ کے عقیدت مند سینکڑوں سال سے ان کی یاد اپنے اپنے انداز میں منا رہے ہیں۔ دہشت گردی کے خطرات شاید ہی کبھی اس طرح چھائے ہوں جس طرح اب پاکستان کی فضا کو سوگوار کئے ہوئے ہیں اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ ملت اسلامیہ کے دشمن اپنی کٹھ پتلیوں کو حرکت میں لاچکے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ قو م چوکس رہے اور تاکہ ہم اپنی صفوں میں گھسے ہوئے آلہ کاروں کو ان کے انجام تک پہنچا سکیں۔ خبردار رہنے اور انتظامیہ کی طرف سے دی گئی ہدایات کو پوری طرح پلے باندھنے کی ضرورت ہے۔ صبر حسینؓ اور آپ کی استقامت اس موقع پر ہمارے لئے رہنمائی کا ایک بڑا اور مضبوط ذریعہ ہے۔ اسے ہر دم پیش نظر رکھنا چاہیے۔

مزید :

اداریہ -