نائن الیون سے قبل پاکستان میں کوئی خودکش حملہ نہ تھا، ساجد میر

نائن الیون سے قبل پاکستان میں کوئی خودکش حملہ نہ تھا، ساجد میر

لاہور ( آئی این پی ) مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے سربراہ سینیٹر پروفیسر ساجد میر نے کہا ہے کہ عالم اسلام کی واحد ایٹمی طاقت کی بے بسی افسوسناک ہے۔ نائن الیون سے قبل پاکستان میں کوئی خودکش حملہ نہ تھا، یہ سب امریکہ کی افغانستان پر جارحیت اور ڈرون حملوں کی پیداوار ہے۔ آج امریکہ افغانستان سے نکل جائے اور قبائلی علاقوں میں ڈرون حملے بند ہوجائیں تو خودکش حملے خودبخود ختم ہوجائیں گے اور ملک امن و امان کا گہوارہ بن جائے گا۔ سعودی عرب کے دورے سے واپسی پر ائیر پورٹ پر میڈیا اور کارکنوں سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ڈرو ن حملوں کی وجہ سے پاک امریکہ تعلقات مزید پیچیدہ ہورہے ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ جنیوا بنیادی انسانی حقوق کمیشن کی توجہ بھی ڈرون حملوں کے انسداد اور روک تھام کی جانب مبذول کرائے۔ قومی سلامتی اورخود مختاری کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ نیٹو سپلائی کی بندش ایک احتجاج ہے مگر سوال یہ ہے کہ اگر پھر بھی حملے بند نہیں ہوتے تو پھر کیا ہو گا۔پوری قوم اس وقت تشویش میں مبتلا ہے۔ امریکہ نے ہماری خود مختاری پارہ پارہ کرکے رکھ دی ہے۔ امریکہ نے ہمیشہ دوستی کے نام پر پاکستان سے دشمنی کا مظاہرہ کیا۔پاکستان کو امریکا کے اتحادی معاہدے سے باہر نکل آنا چاہیے۔امریکہ افغانستان میں شکست کھا چکا ہے اب ہمیں افغانستان سے لڑا کر واپس جانا چاہتا ہے۔ پروفیسر ساجد میرنے کہا کہ جس وقت ہم امریکی امداد کو مسترد کریں گے اسی وقت ہماری معیشت ٹھیک ہونا شروع ہوگی۔ جن پاکستانیوں کا سرمایہ پاکستان سے باہر ہے وہ اپنا سرمایہ پاکستان میں لائیں۔ دیانتدار قیادت اور اسلامی نظام پاکستانی معیشت کو اپنے قدموں پر کھڑا کرسکتا ہے۔ پاکستانی معیشت امریکی امداد کے بغیر چلانے کے لئے ری اسٹرکچرنگ ، بولڈ لیڈرشپ اور معاشی منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہاکہ یہ سوال بھی بڑا اہم ہے کہ دنیا میں اور بھی بہت سے ممالک ہیں جن میں امریکی مفادات کے خلاف کام ہورہا ہے مگر ڈرون حملوں کا رخ صرف پاکستان ہی کی طرف کیوں موڑ دیا گیا ہے۔ یہ جوہری اثاثوں اورپاک کے خلاف سازش کی کڑی ہے۔

                                  ساجد میر

مزید : صفحہ آخر