غلط حکمت عملی، کمزور پالیسیاں

غلط حکمت عملی، کمزور پالیسیاں
غلط حکمت عملی، کمزور پالیسیاں

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

ملک میں ہر طرف افراتفری کا دور دورہ ہے، پانچ مہینوں میں ملک کی بڑی بڑی جیلیں توڑ کر پولیس کی وردیاں پہن کر لوگ اپنے حمایتیوں کو چھڑوا کر لے گئے اور کسی بھی سرکاری اہلکار نے جرائم کا ارتکاب کرنے والے لوگوں کا سامنا نہیں کیا۔ وہ اپنی جان بچا کر چھپ گئے، اب آگے اس وفاقی حکومت اور پاکستانی لوگوں کی قسمت میں کیا لکھا گیا ہے، اللہ تعالیٰ ہی اپنے بندوں کے مقدر لکھتا ہے، بندوں کا مطلب انسانیت (انسان) ہے، اس میں مسلم یا غیر مسلم کا ذکر نہیں۔ پاکستانی لوگوں کا ذکر اس لئے لکھ رہا ہوں کہ وزیر خزانہ پاکستان ہر مہینے آئی ایم ایف سے اربوں ڈالر کی قسط حاصل کرنے کی خوشخبری سناتے ہیں اور ساتھ ہی پاکستانی روپے کی قیمت دو تین روپے کم کروا دیتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ ڈالر کی قیمت 1روپیہ زیادہ ہونے سے ساٹھ(60) روپے زیادہ قرضہ ہو جاتا ہے، موجودہ حکومت اگر قرضہ نہ بھی لے تو پھر بھی کھربوں روپے پاکستان کو ادا کرنے پڑیں گے۔ حکومت نے پاکستانی معیشت کو کمزور سے کمزور تر کر دیا ہے۔

پنجاب کے وزیراعلیٰ میاں شہباز شریف کیا اب وفاقی حکومت کے اقدامات سے مطمئن ہیں، اب وہ عوام کا ساتھ کیوں نہیں دے رہے، عوام کا بجلی کے بلوں کے ذریعے، سوئی گیس کے بلوں کے ذریعے وفاقی حکومت نے بھرکس نکال دیا ہے، عوام کے لئے گھر میں بجلی جلانا اور چولہے جلانا مصیبت بن گیا ہے۔ پاکستانی عوام کو جنرل پرویز مشرف کے مقدمے سے کوئی لین دین نہیں، چونکہ عوام جان چکے ہیں کہ حکومت اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے لئے مختلف ایشو شروع کروا دیتی ہے۔ وفاقی حکومت کے زیر اثر تمام علاقوں میں لاقانونیت حد سے گزر چکی ہے۔ صوبہ پنجاب کا شہر راولپنڈی وفاقی حکومت کے ماتھے کا جھومر ہے، راولپنڈی میں پنجاب حکومت کی انتظامیہ مکمل طور پر فیل اور ناکام ہو چکی ہے، بے گناہ لوگ اللہ کو پیارے ہوئے، بے شمار زخمی حالت میں ہیں، راولپنڈی کی پولیس کے آفیسر لاپرواہ اور سفارشی تھے۔

راولپنڈی کے واقعہ نے پنجاب حکومت کے امن و امان کے ڈھنڈورے کا پردہ چاک کر دیا ہے اور پنجاب حکومت کا اس قدر نرم رویہ کہ اس لاپرواہی کے ذمہ داروں کے تبادلے کر دو اور او ایس ڈی بنا دو، جو اربوں روپوں کی جائیدادیں تباہ و برباد ہوئی ہیں، متاثرین کو سرکاری خزانے سے اربوں کی امداد کرو۔ متاثرین کو فوری اور جلدی معاوضہ ادا کرنے کی ضرورت ہے، تاکہ وہ عزت دار لوگ دوبارہ اپنی عزت بحال کر سکیں، اپنے خاندانوں کی کفالت کر سکیں۔ راولپنڈی کے واقعات میں اللہ کو پیارے ہونے والوں کے لواحقین کا معاوضہ، زخمیوں کا معاوضہ اور تباہ ہونے والی املاک کا معاوضہ غیر ذمہ دار اور لاپرواہی کے مرتکب ہونے والے سرکاری اہلکاروں سے وصول کیا جائے تاکہ آئندہ سرکاری اہلکار اپنی ذمہ داری کا احساس کریں، صرف سفارشوں سے تبادلے نہ کروائیں۔

امریکہ کے پاس جدید ٹیکنالوجی ہے، اس نے افغانستان میں اپنے تمام حربے استعمال کر لئے ہیں۔ امریکہ نے افغانستان اور پاکستان کے قبائلی علاقوں میں بے شمار ڈرون حملے کئے ہیں اور کر رہا ہے، لیکن امریکہ پوری طرح مطمئن نہیں ہے، اس لئے وہ افغانستان سے کسی نہ کسی طرح نکلنے کی کوشش کر رہا ہے۔ امریکی اپنی ترجیحات میں ناکام ہو چکے ہیں، لیکن ہماری افغانستان اور طالبان کے بارے میں ترجیحات درست نہیں ہیں۔ وہ مثال” جس کا کھاتے ہیں، اس کے گیت گاتے ہیں“، ہماری حکومت امریکہ کی امداد کو اپنے تمام مسائل کا حل سمجھ رہی ہے، ہماری حکومت ہر روز طالبان کے ساتھ مذاکرات مذاکرات کا اعلان کر رہی ہے، حکومتی خارجہ مشیر کہتے ہیں کہ مذاکرات کے دوران ڈرون حملے نہیں ہوں گے، ابھی اخبار عوام نے پڑھی بھی نہیں ہو گی، صوبہ خیبر پختونخوا کے علاقے میں ڈرون حملہ کر دیا گیا۔ وفاقی حکومت کہتی ہے کہ خیبر پختونخوا کی حکومت کی ناکامی ہے، حالانکہ خارجہ پالیسی وفاقی حکومت کی ہوتی ہے۔

مسلم لیگ(ن) کی حکومت نے بہت وعدے کئے تھے، اب حال یہ ہے کہ تیل، بجلی، گیس ہر چیز مہنگی کی جا رہی ہے۔ بقول وزیر خزانہ یہ معیشت کو ٹھیک کرنے کے لئے ضروری ہے، تو پھر یہ بوجھ صرف متوسط طبقے اور غریبوں پر کیوں ڈالا جا رہا ہے، جو پہلے ہی غربت کی چکی میں پس رہے ہیں، جو لوگ بجلی پیدا کرتے اور اس کی ترسیل کر رہے ہیں، وہ اس قدر خوش حال ہو رہے ہیں، ان کے چہروں پر مسکراہٹیں بکھر رہی ہیں، کہ جیسے پاکستان میں اس سے پہلے اس قدر اچھا دور آیا ہی نہیں۔

 ڈرون حملوں کے خلاف بیان بازی سے امن قائم نہیں ہو گا۔ ریاست اور قانون کی عمل داری کی اکائی ریاست کے ادنیٰ ترین اہلکار کی موثر کارکردگی ہے۔ پولیس کا پیدل سپاہی، ڈاکیہ، بجلی کا میٹر ریڈر اعلیٰ ترین ریاستی اختیارات کے نمونے ہیں۔ اگر پولیس کا پیدل چلنے والا سپاہی مملکت کے قانون کی پاسداری نہیں کر سکتا، تو وہ وزیراعلیٰ یا وزیر داخلہ کے ہر جگہ پہنچ کر بے معنی اعلان کر کے ریاست کے قانون کی عمل داری نہیں کر سکتا، جس طرح آج کل تمام کام اعلانات اور وعدوں پر چل رہا ہے، ہو جائے گا، ہو جائے گا۔

 یہ انتہائی پریشان کن حالات ہیں کہ حکومت اپنے پیدل سپاہی سے، پرانے بوسیدہ اسلحے سے، دہشت گردوں اور تخریب کاروں کا مقابلہ کرنا چاہتی ہے، جبکہ خود تمام سیاسی اکابرین، لیڈر کسی ایک نکتے پربھی اکٹھے نہیں ہو سکتے۔ گزرے ہوئے چند ماہ کا سوچ لیا جائے کہ ملک کی بڑی جیلوں سے سینکڑوں قیدیوں کو آزادانہ طریقے سے ان کے حمایتی اپنے ساتھ لے کر چلے گئے، کراچی میں جاری قتل و غارت کو کسی بھی طریقے سے ختم نہیں کیا جا سکتا، پاکستان کا صنعتکار باہر بھاگ رہا ہے، اب پاکستان کی قیادت کو سوچنا پڑے گا کہ امریکہ ایک سال تک افغانستان سے چلا جائے گا، تو پھر ہمارے ملک کے حالات کس طرح ہوں گے، جبکہ ہم پہلے ہی حالت ِ جنگ میں ہیں اور ملک کے کسی بھی حصے میں امن و امان کی حالت ٹھیک نہیں ہے۔ پاکستان کے عوام کا جینا مشکل ترین ہو چکا ہے، اب ہر طرف سے پاکستان کو بچانے کی جنگ ہے، حکمرانوں کو اپنا سرمایہ واپس پاکستان میں لانا ہو گا، ورنہ کوئی بھی سرمایہ لگانے کے لئے تیار نہیں۔  ٭

مزید : کالم