مےرے بابا....مےرے چودھری صاحب

مےرے بابا....مےرے چودھری صاحب

 چودھری فضل کرےم اےڈ ووکےٹ 1936 ءکو چک نمبر 156 ر۔ب چک جھمرہ ضلع فےصل آباد (لائل پور)چودھری محمد شفےع المعروف لالہ جی ) کھرل سفےد پوش کے ہاں پےدا ہوئے ۔ابتدائی تعلےم گاﺅں سے حاصل کی بعدازاں کھرڑےانوالہ سے مےٹرک کےا گورنمنٹ کالج (لائل پور فےصل آباد ) سے گرےجواےشن کی پنجاب ےونےورسٹی سے اےل اےل بی کی ڈگری حاصل کی ۔1970 ءمےں وکالت شروع کی ۔ وکالت سے عشق کی حد تک لگاﺅتھا ۔ پنجاب ٹی بی اےسو سی اےشن کے صدر پاکستان ٹی بی اےسوسی اےشن کے ممبرر ہے ۔سماجی خدمات پر گولڈ مےڈل (ستار ہ¿ سماج) سے نواز ا گےا ۔تمام وکلاءحضرات اور ججزان کا احترام کرتے 75 سے زائد مقدمات مےں راضی نامے کروائے ۔جو راضی نامہ مےں اب تک مشہور ہےں ۔مےں والد صاحب کو بابا جی ےا بابا جانی کہتا ۔باقی سب بہن ،بھائی اباجی کہتے ۔وجہ ےہ کہ مےرے ساتھ خاص پےار کرتے ۔اور بٹو کہہ کر پکارتے تھے ۔مےں نے 1984 مےں بطور انسپکٹر انکم ٹےکس سروس جائن کی جو 3 ماہ 17 دن کی ۔چودھری صاحب اکثر کہتے بےٹا غلام غلام ہوتا ہے ۔ غلامی چھوڑ دو ۔پھر استعفیٰ دے کر وکالت سے وابستہ ہو گےا ۔بابا جی جنہےں وکالت شروع کرنے پر مےں نے چودھری صاحب کہنا شروع کر دےا ۔آج تک چودھری صاحب ہی کہتا ہوں وکلااور عدلےہ کا احترام کرتے ۔اےک دفعہ جڑانوالہ مےں شمےم جہانگےر صاحب علاقہ مجسٹرےٹ تھے۔ مےری ان سے تلخ کلامی ہو گئی ۔بڑے چودھری صاحب بہت ناراض ہوئے ۔گھر جا کر والدہ محترمہ سے بھی غصے کا اظہار فرماےا ۔اسکے بعد آج تک مےرا عدلےہ ےا ججز سے جھگڑا نہےں ہوا ہے ۔جو صرف چودھری صاحب کی وجہ سے ہے۔ کچہری مےں سب سے پہلے آتے جو آج تک مشہور ہے۔ کسی وکےل صاحب کے ہاں وفات جنازہ وغےرہ ہوتا تو واپسی پرکہتے کہ جنازہ مےں بہت کم وکےل تھے ۔ہمےشہ پوچھتے فلاں وکےل صاحب کے پاس کتنے وکےل صاحب آئے تھے ۔

20 رمضان المبارک 26 نومبر 2002 ءکو روزہ رکھنے کے بعد فرمانے لگے بٹو آج جلدی آناسونہ جانا مَےں اکثر روزہ رکھنے کے بعد نماز پڑھ کر سو جاتا تھا ۔ساڑھے سات بجے عباس منشی بھی آگےا ۔7:40 پر کہنے لگے مَےں واش روم مےں ہو کر آتا ہوں ۔واپسی پر منشی عباس نے کتابےں پکڑےں، ہم دونوں چودھری صاحب کے پےچھے پےچھے گلزار احمد بٹ صاحب ASJ جڑانوالہ کی عدالت کے باہر کھڑے ہو گئے ۔چند وکلاءحضرات آگئے۔ منہ مےں روزہ ہاتھ مےں تسبےح اور چہرہ بالکل قبلہ شرےف کر کے طب نبوی ﷺ پر لےکچر فرمارہے تھے ۔7:55 پر اللہ کو پےارے ہو گئے ۔وکلاءاور عدلےہ سے محبت کا ثبوت ہی تھا کہ تمام وکلاءاور جج صاحبان جنازہ اور قل شرےف مےں شرےک تھے۔ ۔26نومبر 2002 ءکے بعد تقرےباً اےک ماہ بعد آفس نہ گےا کےونکہ مےں چودھری صاحب کے بغےر آفس جاﺅں ےہ توسوچا بھی نہ تھا ۔بہر حال مےں نے سب کو بتا دےا کہ مےں نے آفس نہیں جانا ہے کاروبار کروں گا، ےا گاﺅں چلا جاﺅں گا ۔پھر چودھری عبدالرزاق صاحب ، قاضی ماجد اقبال اور چودھری محمد انور چےمہ صاحب اےڈ ووکےٹس اور چند معزز بزرگ اےڈ ووکےٹس رانا نصےر احمد خاں صاحب رانا محمد اصغر خاں کے حوصلہ بڑھانے اور حکم پر آفس آنا شروع کر دےا ۔خدا کی قسم چودھری صاحب کی دعاﺅں کا اثر ہے کہ آج جو کچھ ہوں ان کی وجہ سے ہوں کہ اکثر خواب مےں عدالتی کام بارے حکم فرماتے ہےں ۔کبھی کوئی مسئلہ ہو تو الحمد اللہ خواب مےں آکر بتا دےتے ہےں ۔مسئلہ حل ہو جاتا ہے ۔اگر آفس سے 2/3 دن غےر حاضر رہوں تو فوراً حکم فرماتے ہےں آفس سے غےر حاضر نہ ہو ۔اللہ تعالیٰ جنت الفردوس مےں اعلیٰ مقام عطاءفرمائے ۔ماں باپ کی خدمت کر ادب احترام کرو خدا کی قسم ناکام نہ ہوگے ۔  ٭

مزید : کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...