پتھر کے دور کے انسان

پتھر کے دور کے انسان
پتھر کے دور کے انسان

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

 پاکستان کے ایک سیاسی لیڈر دہلی گئے ہوئے تھے۔ بھارت کے سابق وزیر اعظم اندر کمار گجرال نے ان کے اعزاز میں ایک دعوت کا اہتمام کیا ہوا تھا۔ اتفاق سے مَیں بھی کچھ دوستوں کے ہمراہ اس وقت دہلی میں موجود تھا۔ منتظمین نے مجھے بھی دعوت دی کہ دوستوں سمیت آ جاﺅں۔ دہلی کے پنج ستارہ ہوٹل کا خوبصورت ہال تھا جس میں ڈیڑھ سو کے قریب لوگ موجود تھے ۔ شاندار تقریب کے اختتام پر شرکاءکو کھانے کی دعوت دی گئی۔ کھانے کا اعلان ہوتے ہی لوگ اٹھے، مگر میرے پاکستانی ساتھی دوڑتے ہوئے سب سے پہلے کھانے کی میز پر ٹوٹ پڑے۔ لوٹ مارکا سماں لگتا تھا۔ میرے ساتھیوں نے چند لمحوںہی میں کھانے کے ساتھ پورا انصاف کرتے ہوئے اپنی اپنی پلیٹوں میں پہاڑ سجائے اور واپس اپنی نشستوں پر بیٹھ کر کھانے لگے، مگر وہ کمبخت بھارت کے باسی، انہوں نے قطار بنالی۔ ایک شخص سب سے آگے۔ وہ اپنی ضرورت اور پسند کے مطابق چیزیں ڈالتا، آگے بڑھتا، دوسرا اس کے پیچھے، تیسرا اس سے پیچھے۔ کسی کو جلدی نہیں تھی۔ مَیں ان کے انداز پر غور کرتا ہوا قطار میں سب سے پیچھے کھڑا ہوا تو پاکستانی سیاست دان اور جناب گجرال میرے پیچھے تھے۔ مَیں نے ایک نظر ان مطمئن لوگوں کی قطار پر ڈالی اور پھر سامنے نشستوں پر کسی فاتح کی طرح کھانے پر مار دھاڑ کرتے اپنے دوستوں کو دیکھا جن کے کھانے کا انداز ایسے تھا کہ جیسے دوبارہ ملنے کی اُمید نہ ہو۔

سب لوگوں کی طرح میں نے اپنی باری پر پلیٹ میں کھانا ڈالا اور کچھ سوچتا اپنے ساتھیوں کے پاس آیا۔ افسوس ہو رہا تھا ان کے طرز عمل پر۔ دیار غیر میں بھی انہیں انسانی اور اخلاقی قدروں کا کچھ لحاظ نہیں ہوتا۔ ہم اپنی ہر چیز کا تقابل بھارت سے کرتے ہیں تو اس طرز عمل کا بھی کرنا چاہئے۔ میں نے ساتھیوں سے کہا: دیکھو کیسا مہذب انداز ہے، جس انداز سے انہوں نے کھانا لیا ہے۔ سبھی ساتھی کھانے میں بہت مصروف تھے، اس لئے انہوں نے فقط سر ہلانے پر ہی اکتفا کیا۔ تھوڑی دیر بعد ایک صاحب نے عجیب طرح سے منہ کھولا۔ ایک خوفناک سا ڈکار لیا اور پھر بولے: ”تم نے کون سی نئی بات بتائی ہے۔ یہ سب چیزیں انہوں نے ہم مسلمانوں ہی سے لی ہیں“۔ .... اگر ہم مسلمانوں سے لی ہیں تو یہ بات ہمارے لئے انتہائی شرم کا باعث ہے۔ مَیں تو محسوس کر رہا ہوں۔ شاید تمہیں بھی محسوس ہو رہا ہو۔.... مگر سب کھانے میں مگن تھے۔ میری بات سنی ان سنی کر دی گئی۔

کھانے کے ساتھ ایسے وحشیانہ سلوک کو دیکھنا اب ایک عادت ہو چکی ہے۔ ہر شادی کی تقریب میں آسانی سے کھانا حاصل کرنا تھوڑا محنت طلب کام ہوتا ہے جو بھاگ کر میز پر پہنچ جاتے ہیں، ہٹنے کا نام نہیں لیتے اور میرے جیسے بہت سے سوچتے رہتے ہیں کہ اس دھکم پیل میں بچ کر کھانا کیسے حاصل کیا جائے اور ہمارے لیڈر وہ تو اپنی جگہ سے ہلتے ہی نہیں۔ منتظمین انہیں وہیں کھانا دے دیتے ہیں جہاں وہ بیٹھے ہوئے ہیں۔

ہمارے ایک کشمیری دوست انتہائی خوش خوراک ہیں۔ خوب کھاتے ہیں اور کیسے ہضم کرتے ہیں، یہ معمہ آج تک حل نہیں ہو سکا۔ کچھ دن پہلے ایک ہوٹل میں ایک دعوت تھی، ہم دونوں شریک تھے، کھانے کے وقت وہ غائب رہے۔ پتہ چلا کسی کونے میں اکیلے بیٹھے کھا رہے ہیں۔ اتفاق سے اگلے دن ہم پھر ایک جگہ اکٹھے تھے۔ ایک دوست جو ایک دن پہلے بھی شریک محفل تھے، ان سے مخاطب ہو کر کہنے لگے۔ کل کونے میں بیٹھ کر آپ نے کھانے کی حد کر دی۔ کمال ہے اس قدر کھانا بڑی ہمت کی بات ہے۔ کہنے لگے میں ایک طرف اسی لئے بیٹھا تھا کہ خواہ مخواہ کسی کی نظروں میں نہ آﺅں۔ کسی کو نہیں پتہ کہ مَیں نے کیا کھایا، مگر تمہیں بری عادت ہے۔ خواہ مخواہ نوٹ کرتے ہو۔ جواب ملا ”آپ کا خیال ہے کہ کسی کو پتہ نہیں چلا۔ آپ کی خوش خوراکی کے سبب مَیں نے کل ہوٹل والوں کی آنکھوں میں آنسو دیکھے تھے۔ یہ تو خیر ان کی آپس میں چھیڑ چھاڑ تھی، مگر ایسی آنسو پرور نسل بہت بڑی تعداد میں ہمارے درمیان موجود ہے۔

انسانی تہذیب کے ارتقا کے ابتدائی مرحلوں میں ایک شکار کا زمانہ تھا۔ انسان نے ابھی قبیلوں کی صورت میں رہنا شروع نہیں کیا تھا۔ کھیتی باڑی سے اسے واقفیت نہیں تھی، خوراک کے لئے اس کا انحصار پوری طرح شکار پر تھا۔ شکار کے لئے کوئی باقاعدہ ہتھیار بھی نہیں تھے۔ ہڈیوں کو رگڑ کر یا پتھروں سے اس نے شکار کرنا سیکھ لیا تھا۔ ایک شخص کو شکار کے لئے وسیع و عریض علاقے کی ضرورت ہوتی تھی، جس علاقے میں وہ دوڑ بھاگ کے بعد کوئی جانور یا پرندہ شکار کرتا۔ دریاﺅں سے مچھلیاں شکار کرتا۔ بعض اوقات اسے کئی کئی دن بعد شکار ملتا۔ ایک تو بھوک کی شدت اور دوسرا یہ احساس کہ اگلا شکار اسے اب جانے کب ملے گا۔ اس لئے وہ موجودہ شکار کو وحشیانہ انداز میں کھاتا کہ اگر اگلے چند دن کچھ نہ بھی ملے تو گزارہ ہو سکے۔

چونکہ وہ دور تاریکی کا دور تھا۔ قبل از تاریخ کا زمانہ تھا، اس لئے اس دور کے بارے میں ہم بہت کم جانتے ہیں، 20 ویں صدی کے آخر تک افریقہ کے جنگلوں میں کچھ لوگ پائے جاتے تھے جو جدید دنیا سے مکمل طور پر ناواقف تھے اور اُسی تہذیب کے حوالے سے جانے جاتے تھے۔ انسانی تہذیب کے ارتقا کے اس صدیوں کے سفر میں انسان کا خوراک حاصل کرنے اور کھانے پینے کا انداز یکسر بدل چکا ہے، مگر خوراک کو دیکھ کر وحشت طاری ہو جانے والی عادت شاید ہماری فطرت میں رچ بس گئی ہے اور ابھی تک لوگوں نے اسے قائم رکھا ہوا ہے۔

خوراک کی عادت تو اپنی جگہ، پاکستانی معاشرت میں بہت سی چیزیں ابھی تک بدل نہیں پائیں، بلکہ ابھر کر سامنے آ رہی ہیں ،جس سے لگتا ہے ہم شاید پتھر کے زمانے کی طرف لوٹ رہے ہیں۔ انسان کی انسان سے نفرت، لڑائی جھگڑے، پیشوں اور فرقوں کے لحاظ سے انسانی تقسیم، اعلیٰ اور پاکیزہ خیالات کا فقدان، زبان پر بے اعتباری، بلا وجہ غصہ، خواہشات اور خیالات کی بے اعتدالی، ہم ان چیزوں پر قابو نہیں پا سکے، سماج میں تو ہر طرح کے لوگ ہوتے ہیں۔ انسان کو ہر مزاج، ہر فکر، ہر خیال، ہر پیشے اور ہر عقیدے کے لوگوں سے پالا پڑتا ہے۔ اچھے لوگ معاشرے میں اپنا تشخص اور انفرادیت بھی برقرار رکھتے ہیں،لیکن دوسروں کے جذبات اور احساسات کا احترام کرتے ہوئے، برداشت اور روا داری سے خود کو اس معاشرے میں سمو دیتے ہیں۔ افراد کے اسی مثبت رویئے سے قومیں بنتی ہیں۔ افسوس ہم نے ان جذبوں کو پنپنے ہی نہیں دیا، جس کے نتیجے میں ہم ایک قوم نہیں بن سکے، پتھر کے زمانے کی عادات کو ہم فروغ دے رہے ہیں، نتیجہ یہ ہے کہ فطرت ہمیں پتھر کے زمانے کی طرف دھکیل رہی ہے۔  ٭

مزید : کالم