یہ شہباز شریف کون ہے؟

یہ شہباز شریف کون ہے؟
یہ شہباز شریف کون ہے؟

  

یہ شہباز شریف کون ہے؟ ....گستاخی معاف؟ مَیں اپنی حیرانی میں غلط صیغہ بول گیا۔ میرا مطلب ہے کہ یہ میاں شہبازشریف کون ہیں؟ مَیں کم از کم پچھلے دس پندرہ سال سے جاننے کی کوشش کررہا ہوں۔اس سے پہلے کہ مَیں اپنے سوال کی تفصیل میں جاﺅں، مَیں یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ مَیں ان کا مخالف تو ہرگز نہیں ہوں ،لیکن مَیں ان کا حمایتی بھی نہیں بننا چاہتا کہ مَیں کوئی سیاسی ورکر نہیں ہوں۔اگر مَیں ایسا بنایا نظر آیا تو میرے آزاد، خود مختار یا غیر جانبدار ہونے کا امیج خطرے میں پڑ جائے گا۔

مَیں نے اپنی ایک ملازمت کی بندش سے آزاد ہونے کے بعد 1998ءمیں دوبارہ لکھنا شروع کیا اور اپنے اس کالم ”تشنہ اظہار“ کا آغاز کیا۔مَیں پچھلے دنوں اپنے سابقہ کالموں کا ریکارڈ کھنگال رہا تھا تو مجھ پر ایک حیران کن انکشاف ہوا اور مَیں بلاوجہ خود کو شرمندہ شرمندہ سا محسوس کرنے لگا۔مَیں نے مسلم لیگ(نواز) سمیت تقریباً تمام بڑی سیاسی جماعتوں اور ان کے قائدین پر زیادہ تر تنقید ہی کی۔کسی کی تعریف کرنے کی باری بہت کم آئی۔مَیں نے میاں نوازشریف پر ان کے وزارت عظمیٰ کے سابق ادوار میں مناسب حد تک تنقید کی۔اس تیسرے دور میں ابھی مَیں انہیں موقع دے رہا ہوں۔تنقید کرنے کی ضرورت پڑی تو لحاظ بالکل نہیں کروں گا۔

اس ساری سابقہ تنقید پر مجھے کوئی شرمندگی نہیں تھی۔شرمندگی اس بات کی تھی کہ میری تنقید مسلم لیگ (نواز) پر ضرور ہوئی، لیکن وہ پنجاب کے اندر کبھی داخل نہیں ہوئی۔میرا مطلب یہ ہے کہ میاں شہبازشریف ہمیشہ میری تنقید سے بچے رہے۔ یہ فقرہ درست نہیں ہے،مبنی برانصاف فقرہ یہ ہونا چاہیے کہ جب بھی ان کا ذکر ہوا تعریف اور بے تحاشہ تعریف کے حوالے ہوا۔مَیں سوچ میں پڑ گیا کہ مَیں ایسا کیوں کرتا رہا؟ کیا میرٹ پر وہ تعریف کے حق دار تھے؟ ہمارے ہاں یہ رواج نہیں ہے کہ آپ کسی کو ذاتی طور پر نہ جانتے ہوں، ان تک آپ کی رسائی نہ ہو اور آپ ہمہ وقت ان کی تعریف پر تلے ہوئے ہوں۔اور میرے جیسا بندہ جو ہر وقت تنقید کی تلوار نکال کر میدان میں کھڑا رہتا ہے اور موقع کی تلاش میں ہوتا ہے کہ کب غینم نظر آئے اور اس کا سرقلم کردیا جائے۔

میاں نوازشریف جب پہلے پہل پنجاب کے وزیرخزانہ بنے تو ان کے پی آر او میرے کلاس فیلو اور دوست گلزار حسین سید یا گلوشاہ تھے۔ان سے گپ شپ ہوئی تو ہمیں خیال آیا، ان کے وزیر کو امریکن سنٹر میں کسی نمائش کے افتتاح کے لئے بلایا جا سکتا ہے۔پھر ایک آدھ موقع آیا تو انہیں دعوت دی گئی جو انہوں نے قبول کرلی۔وہ نمائش کی تقریب میں آئے، لیکن ان سے مناسب تعارف نہ ہو سکا ، پھر کسی اور جگہ صحیح تعارف کرنے کا اتفاق نہ ہوا۔میاں شہبازشریف سے صرف ایک مرتبہ سرسری سی ملاقات ہوئی اور وہ بھی پاکستان سے باہر۔اس سے پہلے یا اس کے بعد ان سے کوئی رابطہ نہ رہا۔جلاوطنی کے دور میں وہ نیویارک میںمسلم لیگ(نواز) کی ایک تقریب میں آئے۔مَیں بھی ان دنوں نیویارک میں رہتا تھا اور ایک مقامی مسلم لیگی لیڈر ناصر بٹ کی وساطت سے اس تقریب میں شریک ہوا،جہاں ان سے علیک سلیک ہوئی اور ہینڈ شیک کیا۔ہاتھ ملاتے ہوئے مَیں نے انہیں بتایا کہ مَیں نے شعیب بن عزیز سے آپ کا بہت ذکر سن رکھا تھا اور آج ملاقات بھی ہوگئی۔انہوں نے شعیب کی تعریف میں ایک جملہ کہا اور آگے بڑھ گئے۔

مَیں نواز لیگ کا اللہ واسطے کا مخالف نہیں ہوں، لیکن اوکاڑہ میں میرے بھائیوں سمیت تمام عزیز و اقارب مجھے ایسا سمجھتے ہیں،کیونکہ وہ سب اس جماعت کے پُرجوش حامی ہیں۔میرے ایک عزیز پنجاب کابینہ میں شامل ہیں اور ایک اور بہت زیادہ عزیز میرے پھوپھی زاد بھائی نواز لیگ کی ٹکٹ پر اوکاڑہ شہر سے صوبائی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے ہیں۔اس ساری تفصیل میں مجھے کوئی ایسی وجہ نظر نہیں آئی کہ مجھ پر میاں شہبازشریف کی باسبب یا بلا سبب حمایت واجب ہو جائے،لیکن مَیں یہ سوچنے پر ضرور مجبور ہوگیا ہوں کہ پتہ نہیں اس شخص میں کیا کمال ہے کہ وہ ہمیشہ میرے جیسے تنقید پسند شخص کی توپوں کا نشانہ بننے سے بچ جاتے ہیں۔ان کا کمال اپنی جگہ ، مگر اس سے مجھے اپنی تنقید کے Credibleہونے کی شہادت مل گئی،یعنی ثابت ہوگیا کہ مَیں اللہ واسطے کی تنقید نہیں کرتا۔اگر کسی کی کارکردگی اچھی ہوگی تو مجھے باﺅلے کتے نے نہیں کاٹا کہ مَیں ضرور تنقید کروں۔

اگر شریف فیملی کے کاروباری معاملات کی بات کریں تو وہ اس کی زد میں ضرور آتے ہیں، لیکن فی الحال تمام متنازعہ معاملات میں ان کے سمیت شریف فیملی قانونی تقاضوں کے مطابق چل رہی ہے۔اگر نواز لیگ کی سابقہ اور موجودہ اجتماعی کارکردگی کا سوال ہو تو وہ اس میں ضرور جزوی طورپر حصہ دار بنتے ہیں۔انصاف کی بات تو یہ ہے کہ اس جماعت کا ریکارڈ آئیڈیل کبھی نہیں رہا، لیکن اگر میدان میں موجود دوسری جماعتوں سے تقابل کریں تو وہ کسی سے کم نہیں ، بلکہ کچھ بڑھ کر ہی دکھائی دیتی ہے۔ پارٹی پر تنقید زیادہ تر اس کے سربراہ کے ماضی کے فیصلوں اور اقدامات پر ہوتی رہی ہے اور میاں شہباز شریف ان حملوں سے بچ کر پتلی گلی سے نکل جاتے رہے ہیں۔

مسلم لیگ(ن) کے اقتدار کے تینوں ادوار میں پنجاب میں قیادت میاں شہبازشریف کے پاس ہی رہی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ان ادوار میں پنجاب حکومت کی انتظامی کارکردگی نے پارٹی ساکھ کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا ۔دوسرے لفظوں میں نوازلیگ کے مخالفین جب اس جماعت اور اس کی حکومت کی کمزوریاں گنواتے ہیں تو وہ چاروناچار بادل نخواستہ ہی سہی پنجاب کی حد تک اسے عوامی مسائل کے حل کے لئے بہترین انتظامی پالیسیوں کا کریڈٹ دینے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔مبصرین کی بھی یہ مشکل ہے کہ اگر وہ اپنی کسی ذاتی ناپسند کی بناءپر شہبازشریف کی انتظامی صلاحیتوں کا اعتراف نہیں کرتے تو ان کی جانبداری اور ناانصافی واضح ہو جاتی ہے ،اس لئے وہ اس حرکت سے باز رہتے ہیں۔

مَیں کسی محتسب کی طرح اونچے پیڈسٹل سے بات نہیں کررہا، لیکن مَیں دوسرے سیاست دانوں کی طرح میاں شہبازشریف کا پرانا ”آبزرور“ ضرور ہوں اور آج کی یہ نشست مَیں نے ان کی کارکردگی کے بارے میں اپنی ”آبزرویشن“ کے نتائج پیش کرنے کے لئے نہیں جمائی۔ مَیں دراصل یہاں خود اپنی انصاف پسندی کاجائزہ لے رہا ہوں کہ کیا وجہ ہے کہ مَیں نے آج تک میاں شہبازشریف کو اپنی تنقید کا نشانہ نہیں بنایا۔میرا ان سے کوئی رابطہ یا تعلق نہیں ہے،جس کی بنا پر مجھے لحاظ داری کرنا پڑے۔اگر مَیں واقعی بہت اصول پرست ہوں تو یہ کیسے ممکن ہے کہ کسی شخص یا حکومت میں کوئی ایسی خامی ہی نہ ہو،جسے منظر عام پر لایا جا سکے۔

یہ سوالات بہت اہم ہیں اور آج مجھے ان کا پوری دیانتداری سے جواب دینا ہے تو پھر سنئے! میرے خیال میں اصول پرستی کے ساتھ حقیقت پسندی بھی اتنی ہی اہم ہے۔اگر میاں شہبازشریف کی ایڈمنسٹریشن کی بات کریں تو ہمیں سب سے پہلے یہ خیال رکھنا ہے کہ ہم ایک کرپٹ سوسائٹی میں بستے ہیں۔اگر پورا آوے کاآوا بگڑا ہوا نہیں ہے تو آپ کم از کم اتنا تسلیم کرلیں کہ نوے فیصد آوے کی حالت خراب ہے۔آپ کو یہ بھی ماننا پڑے گا کہ کوئی ایڈمنسٹریٹر کتنا بھی مخلص، نیک نیت اور دیانت دار ہو اسے اپنی بہترین پالیسیوں کے نفاذ کے لئے اپنے سسٹم پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔پنجاب کے لئے ان کے انتظامی اور ترقیاتی کارناموں کی فہرست کافی طویل ہے۔جہاں اکثریت ان کارناموں کا اعتراف کرتی ہے ،وہاں قدرتی طور پر ان کے کچھ پہلوﺅں پر اعتراضات بھی اٹھائے جاتے ہیں۔مَیں عمومی طور پر ان اعتراضات کو اہمیت نہیں دیتا ،اسی لئے میرے تبصروں میں تعریف تو مل جاتی ہے، لیکن یہ اعتراضات تنقید کا باعث نہیں بنتے۔

جس طرح پنجاب کے لوگوں کی لاپروا عادتیں ہیں اور سرکاری مشینری کاجو حال ہے ،ان سب کے ساتھ نباہ کرکے ڈینگی کے بار بار اٹھنے کے بعد اسے جو قابو میں رکھا گیا ہے،میرے خیال میں میاں شہبازشریف کو سرخرو کرنے کے لئے ان کا ایک یہی کارنامہ کافی ہے۔اس وقت ایک بار پھر ڈینگی نے سراٹھایا ہے، لیکن اس کے خاتمے کی کوشش بھی پوری جانفشانی سے ہو رہی ہے، اس لئے امید ہے کہ یہ قابو سے باہر نہیں ہوگا۔صحت کے علاوہ تعلیم، ٹرانسپورٹ اور دیگر شعبوں میں جو ترقیاتی کام ہوئے ،مجھے ان کی تفصیل بیان نہیں کرنی۔صرف یہ بتانا چاہتا ہوں کہ جس پراجیکٹ کو وہ موزوں سمجھتے ہیں، وہ پوری جانفشانی سے اس کی تکمیل میں جت جاتے ہیں اور اس کے تمام پہلوﺅں پر اتنی گہری نظر رکھتے ہیں کہ ان محکموں کے حکام کے لئے کوتاہی کی گنجائش نہیں چھوڑتے۔مجھے ذاتی طور پر ان کی یہ ادا بہت پسند ہے کہ سیلاب کے دنوں میں وہ دور دور سے جائزہ لینے کی بجائے خود گندے پانی میں گھس جاتے ہیں۔ وزیراعلیٰ کے سیلابی پانی میں داخل ہونے سے مسئلہ زیادہ حل نہیں ہوتا، لیکن ہر طرف بہت مثبت سگنل جاتا ہے۔

بلاشبہ میاں شہبازشریف کی سیاست کا مرکز پنجاب ہے، لیکن سب جانتے ہیں کہ وہ قومی معاملات میں بھی خاصی دلچسپی لیتے ہیں۔انہیں خبر تھی کہ اگر ان کی جماعت برسراقتدار آئی تو اسے سب سے بڑے جس مسئلے کا سامنا ہوگا وہ توانائی کا مسئلہ ہے،جسے حل کرنے کے لئے وہ اپنی انتظامی صلاحیتوں کا استعمال کرنے کے لئے توانائی کی وزارت لینا چاہتے تھے، لیکن بالآخر فیصلہ پنجاب میں ہی رہنے کا ہوا....جیسا کہ مَیں نے پہلے بتایا ہے کہ میاں شہبازشریف کو جاننے کی میری جستجو عرصے سے جاری تھی،لیکن اس کالم کے ذریعے یہ سوال اٹھانے کا فوری سبب میرے عزیز آفتاب اقبال کا میرا پسندیدہ پروگرام ”خبرناک“ بنا۔اس پروگرام میں سندھ کے دورافتادہ علاقے کی ایک سکول ٹیچر شریک تھی، جس کا سرسری سا ذکر ہوا کہ اس کی معذوری دور کرنے کے لئے اس کی ایک ٹانگ کے آپریشن پر شاید اٹھارہ لاکھ لگے گا جو اس کے پاس نہیں تھا۔اگر سندھ کے وزیراعلیٰ کی طرف سے علاج کی پیش کش ہوتی تو مجھے حیرت نہ ہوتی۔بتایا گیا کہ میاں شہبازشریف اس پروگرام کو دیکھ رہے تھے، جنہوں نے تمام اخراجات اٹھانے کی پیشکش کردی ہے۔ تھوڑا غور کرنے پر مجھ پر کھلا کہ اس میں حیران ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔یہی اصل میاں شہبازشریف ہے۔ مَیں نے اپنے آپ سے پوچھا کہ کیا اب بھی مجھے مزید کریدنے کی ضرورت ہے کہ ”یہ شہبازشریف کون ہے“؟۔ ٭

مزید : کالم