بلدیاتی انتخابات اور کھابا گروپ کی موجیں!

بلدیاتی انتخابات اور کھابا گروپ کی موجیں!

پرانے شہر میں شام کے بعد تھڑوں یا باغات میں محافل کا انعقاد معمول کی بات تھی، یہاں دنیا بھر کے مسائل زیر بحث آتے اور یہ محافل ان کے بارے میں فیصلہ دیتیں۔خصوصاً انتخابات کا موسم آ جاتا تو ان مجلسوں میں گویا جان پڑ جاتی۔اب ملک کی قسمت کے ساتھ ساتھ امیدواروں کے مقدر کا لکھا بھی شرکاءمحفل کے ہاتھ میں آ جاتا اور جیت ہار کا فیصلہ بھی یہیں سنایا جاتا۔

آج کل جہاں بم دھماکے، ٹارگٹ کلنگ اور دوسرے مسائل نے عوام کو پریشان اور دکھی کر رکھا ہے، وہاں آئندہ بلدیاتی انتخابات نے بھی اپنا اثر دکھانا شروع کردیا ہے کہ ان محافل میں اب بلدیاتی سیاست زیر بحث آکر امیدواروں کی قسمت کے بارے میں پیشگوئیاں کی جا رہی ہیں۔اندرون شہر تو یقینا اب بھی تھڑہ سیاست جاری و ساری ہو گی، لیکن شہر سے باہر کی آبادیوں میں صورت حال تھوڑی سی مختلف ہو چکی ہے۔یہاں تھڑے بازی تو نہیں ،لیکن پارک کلچر فروغ پا چکا ہوا ہے اور نئی آبادیوں کی پارکوں میں صبح و شام بیٹھک ہوتی ہے۔عموماً یہ وہ حضرات ہیں جو ڈاکٹروں کی ہدایت کے مطابق سیر کرتے ہیں۔سیر صبح والے تو نماز فجر کی ادائیگی کے بعد پارک میں آکر چکر لگاتے ہیں اور پھر ایک آدھ گھنٹے کے لئے نشست بھی جمتی ہے، ان دنوں اصل موضوع تو مہنگائی تھی اور ہے، لیکن اب اس میں بلدیاتی انتخابات کا نیا عنصر شامل ہوگیا ہے، چنانچہ بات چیت کا دائرہ گھوم پھر کر یہیں آ جاتا ہے۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان کی طرف سے صوبائی حکومتوں کی وہ درخواستیں مسترد کردی گئی ہیں، جن کے مطابق بلدیاتی انتخابات مارچ میں کرانے کے لئے کہا گیا تھا۔الیکشن کمیشن نے پنجاب اور سندھ کے لئے 18اور 28جنوری کی تاریخ مقرر کی۔بلوچستان میں یہ انتخابات 7دسمبرکو ہو رہے ہیں جو مقررہ تاریخ پر ہی ہوں گے۔صوبہ خیبر پختونخوا سے کہا گیا ہے کہ وہ بھی جنوری میں انتخابات کے انعقاد کے لئے تیاری کرے۔طوعاً کرعاً یہ بات مان بھی لی ہے۔عدالت عظمیٰ کے مطابق ہی الیکشن کمیشن نے انتخابات کے انعقاد کے لئے تیاریاں کی ہیں اور چاروں صوبوں کے کنٹونمنٹ بورڈز کو بھی مقررہ وقت کے اندر انتخابات کرانے کو کہا گیا ہے۔

اب حالات جو بھی ہوں، انتخابی عمل تو شروع ہو چکا اور لوگوں کو اس بلدیاتی انتخابی وبا نے گھیر ہی لیا ہے، دعوتوں کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا ہے، ابھی گزشتہ روز کا ذکر ہے کہ سیر کے بعد سستانے کے لئے پارک کی بنچوں پر آکر بیٹھے تو محفل یاراں میں بلدیاتی انتخابات ہی زیر بحث تھے۔مصطفےٰ ٹاﺅن کے اس حلقے سے کئی امیدوار ہیں، حاجی مقبول احمد مسلم لیگ (ن) کی ٹکٹ پر چیئرمین یونین کونسل کے انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں، جبکہ چودھری انوارالحق تحریک انصاف کی طرف سے کونسلر کے لئے امیدوار ہیں، اور یوں دونوں ہی اس محفل کی حمائت کے حق دار ٹھہرے ہیں، ایسی ہی صورت حال شہر کے دیگر علاقوں کی ہے۔

جو بات عرض کرنا تھی وہ یہ ہے کہ اسمبلیوں کے انتخابات تو مہنگے تھے ہی یہ بلدیاتی انتخابات بھی کم خرچ والے نہیں ہیں، گزشتہ اتوار کو چودھری انوارالحق نے ناشتہ سے کنویسنگ کا آغاز کیا تو حاجی مقبول احمد نے اتوار کو ناشتہ کرا دیا۔ گزشتہ صبح دنیا جہاں کی سیاست بھول کر یاران محفل اس ناشتے کے مینیو پر الجھے ہوئے تھے۔حاجی خواجہ طارق کی طرف سے یہ پیشکش موجود تھی کہ وہ باورچی خاص سے بکرے کے پائے اور مچھلیوں پر مشتمل کھانا (کُنا) بنوا دیتے ہیں۔جبکہ حاجی مقبول یہاں بھی لابنگ کی فکر میں تھے اس لئے وہ ہر ایک سے رائے لینے لگ گئے۔ہر شخص کی رائے مختلف تھی، اس لئے فیصلہ بھی مشکل تھا جبکہ خود حاجی جو فیصلہ کر چکے تھے اسی کا اعلان بھی انہوں نے کیا کہ مرغ قورمے کی دو دیگیں پکیں گی اور تقریباً ایک سو ہمدرد جمع ہوں گے۔خواجہ طارق بکرے کے گوشت کا قورمہ تجویز کررہے تھے، بہرحال ناشتے میں کچھ بھی ہو اپنی جگہ، اصل مسئلہ یہ ہے کہ یہ انتخابی سلسلہ شروع ہوا تو جلد ہی انتخابی ماحول بھی بن جائے گا اس کا اندازہ اس امر سے بھی لگا لیں کہ اسی علاقے کے ایک دوسرے امیدوار زاہد خان بھی اتوار کو ناشتے کی میز سجا رہے ہیں، اس مہنگائی کے دوران دو ماہ دور والے انتخابات کے لئے ابھی سے اخراجات کا یہ سلسلہ شروع ہو رہا ہے تو اگلے دنوں میں کیا ہوگا، اس کا اندازہ ہی لگایا جا سکتا ہے، اسی لئے تو کسی نے کہا اب تو کونسلر بننے کے لئے بھی لاکھوں ہی خرچ کرنا پڑیں گے۔ اللہ کرے یہ بھی خیر خیریت سے ہو جائیں۔

آج بات دراصل کچھ اور کرنے کا ارادہ تھا لیکن انتخابی عمل کے آغاز نے ہمیں بھی اس طرف توجہ دینے پر مجبور کردیا اور یہ قصہ لے بیٹھے، ورنہ بات تو ٹریفک وارڈن حضرات کی کرنا تھی جو آج کل ٹریفک کے بہاﺅ کو درست رکھنے اور ٹریفک کا نظام سنبھالنے کی بجائے چالانوں والی کاپی کپڑے چالان کرتے نظر آرہے ہیں، ان حضرات نے بھی پرانے پولیس کے ٹریفک کانسٹیبل حضرات کا طریق کار اپنا لیا ہے۔یہ بھی اشارے والے چوک سے آگے ،ذرا پردے میں کھڑے ہو جاتے ہیں اور منتظر رہتے ہیں کہ کوئی شہری ٹریفک سگنل کی خلاف ورزی کرے اور یہ اسے روک کر چالان کر سکیں۔اب یہ سلسلہ کسی ایک چوک یا چوراہے پر نہیں ہرچوک پر ہو رہا ہے۔یہ ٹریفک وارڈنز چوراہوں اور چوکوں میں سامنے کھڑے ہو کر ٹریفک کے بہاﺅ کو درست رکھنے کی بجائے سگنل کے بعد ذرا دور کھڑے ہو کر شہریوں کی غلطیوں کے منتظر ہوتے ہیں۔گزشتہ روز جب گھر سے دفتر کے لئے نکلے تو وحدت روڈ سے جیل روڈ تک ہر چوک میں یہی نظارہ کیا ۔

دلچسپ امر یہ تھا کہ وارڈنز حضرات کی خدمت میں جان چھڑانے کی اپیلیں موٹرسائیکل والوں کو کرتے پایا اور بعض چالان کراکر رخصت بھی ہو گئے۔اس سلسلے میں ایک پرانا گھسا پٹا لطیفہ یاد آ گیا، ایک لڑکی کا نکاح تھا، بھانڈ بھی وہاں چلے گئے اور جگتیں کرکرکے اہل خانہ سے ”ویل“ یعنی خےرات کے طلب گار ہوئے۔اہل خانہ کنجوس تھے پہلے تو انہوں نے نظر انداز کیا، لیکن جب بھانڈ باز نہ آئے اور انہوں نے بڑھ بڑھ کر جگت بازی شروع کردی تو گھر والوں کے چند نوجوانوں نے ان کی پٹائی شروع کردی وہ بھی بھانڈ تھے انہوں نے اپنے میراثی ہونے کا پورا ثبوت دیا۔پیٹتے ہوئے دہائی دی اور کہا ”جب بھی اس لڑکی کی شادی ہوتی ہے۔ہماری شامت آ جاتی ہے“ اس کے بعد کے سین کا اندازہ آپ خود ہی لگا لیجئے کہ کیسا ہوا ہوگا۔یہ پرانا لطیفہ ہمیں یوں یاد آیا کہ ہائی الرٹ ہو اور پولیس کے ناکے لگیں تو شامت موٹرسائیکل والوں کی آ جاتی ہے اور ناکے پر موجود پولیس کے شیر جوان انہی کو گھیرتے ہیں، اب وارڈنز حضرات کے پاس بھی موٹرسائیکلوں ہی کا جھرمٹ نظر آتا ہے اور نوجوان منت سماجت کرتے دکھائی دیتے ہیں۔  ٭

مزید : کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...