شرمندہ اقدار

شرمندہ اقدار

”چوری میرا پیشہ ہے اور نماز میرا فرض“.... کئی عشرے پہلے یہ فلمی مکالمہ تالیوں کی گونج میں سینما گھروں سے باہر آیا اور پھر لوگوں کے ذہنوں میں اس طرح سما گیا کہ بڑی تعداد نے اسے اپنی زندگی کا جزو بنا لیا۔ کسی مفتی سے رجوع کئے بغیر پیشے اور فرض کو الگ الگ خانوں میں بانٹتے چلے گئے۔ عبادت اپنی جگہ اور ذریعہ معاش یا روزگار اپنی جگہ، خواہ وہ ہیرا پھیری ہو یا جعل سازی یا سماجی طور پر ناپسندیدہ ذریعہ، شروع شروع میں تو بیشتر لوگ اپنی غیر جائز آمدنی پریشیمان اور نادم بھی رہتے تھے۔ پھر نہ جانے یہ تبدیلی کیسے آئی کہ لوگوں نے خیرات، ملاقات اور عبادات کو اپنی پیشہ ورانہ بد دیانتیوں کی تلافی کے بطور قبول کرنا شروع کر دیا۔ دوسروں کے کام آنا ضرورت مند افراد کی مدد یتیموں اور بیواﺅں کی کفالت، نفلی عبادات نذر و نیاز اپنی اصل میں جن بنیادی باتوں سے مشروط ہیں ان باتوں کو بھلا دیا گیا۔ انہی دنوں ایک فلمی نغمے نے بھی ذہنوں میں جگہ بنائی:

اپنے لئے تو سب ہی جیتے ہیں اس جہاں میں

 ہے زندگی کا مقصد اوروں کے کام آتا

اوروں کے کام آنا ذاتی ایثار و قربانی سے مشروط ہے۔ ناجائز ذرائع سے حصول اور طریقوں سے نہیں، لیکن جب معاشرے نے رشوت خوری ذخیرہ اندوزی، بے ربط منافع خوری اور کاروباری بد دیانتی کو قبول کر لیا تو سفید پوش اور محدود آمدنی رکھنے والوں نے ان صورتوں کو بھی جائز بنا لیا۔ جو بد دیانتی کے زمرے میں آتی ہیں۔ یہ بھی دوسروں کے کام آنا چاہتے تھے۔ لہٰذا ان میں جو اپنے دفتری عہدے یا گریڈ کی مناسبت سے میڈیکل ، فیول اور دیگر ماہانہ مراعات رکھتے تھے انہوں نے ان مدوں میں ملنے والی رقوم کو اپنا حق سمجھا اور اپنی صوابدید پر یہ حق اپنے ضرورت مندوں اور رشتہ داروں تک منتقل کرنا شروع کر دیا۔ ممکن ہے انہوں نے یہ سب ”نیک نیتی“ سے کیا ہو، لیکن میڈیکل یا فیول کی رعایت ان کے لئے تھی اور بہتر یہی تھا کہ سہولت ذاتی ضرورت کے مطابق ہی حاصل کی جائے۔ پھر میڈیکل اینڈ جنرل اسٹور کے اشتراک نے ادویہ کے نام پر عام استعمال کی اشیاءکاحصول آسان بنایا۔ کاروباری مفاد نے پینل سسٹم کو ایک نیا رخ دیا اور یوں نجی شعبے میں ایک نئی مافیا نے جنم لیا جو عام لوگوں کو خاطر میں ہی نہیں لاتی ہے۔

 یوں بھی نجی مراکز صحت میں علاج کرانا پینل سے محروم خوشحال گھرانوں کی استطاعت میں نہیں۔ ان مراکز میں بھی جہاں او پی ڈی کے اخراجات قابل برداشت نظر آتے ہیں، جوں جوں وقت گذرتا ہے تیزی سے خالی ہونے والی جیب علاج ادھورا چھوڑنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ تعلیم صحت اور سیاست کو خدمت اور عبادت قرار دیا جاتا ہے، مگر اب تینوں شعبے چند استثنائی صورتوں کے سوا کاروبار بن گئے۔ نتیجہ یہ ہے کہ لوگ دھڑلے سے کاروبار کرتے ہیں۔ جبکہ سہواً اور قصداً کوتاہیوں یا کہہ لیجئے بد دیانتیوں کے ازالے کی خاطر غریبوں اور ضرورتمندوں کے لئے حصہ نکالتے رہتے ہیں۔ یہ اپنی بے تحاشا آمدنیوں سے کاروباری دائرہ وسیع کرتے ہیں بڑے پیمانے پر اثر انداز ہونے والی شخصیات کی پذیرائی کے لئے ہم نصابی سرگرمیوں کی آڑ میں تقریبات سجاتے ہیں۔ اپنے سکولوں میں زیر تعلیم بچوں کے والدین کے اثر و رسوخ سے بھرپور فوائد کشید کرنے والے آمدنی اور ترقی کا اپنا ہدف رکھتے ہیں اور اسے حاصل کرنے کے لئے ”پیشہ ورانہ“ ہتھکنڈے ہی نہیں ،بلکہ غیر مناسب انداز بھی اپناتے ہیں۔

جنہوں نے صحت کا شعبہ اپنایا، انہوں نے بھی کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ ایمرجنسی میں ضرورت سے زیادہ ادویہ اور سامان منگوانا اور بچ رہنے والا سامان ہڑپ کر لینا غیر ضروری لیبارٹری ٹیسٹ تاکہ طے شدہ کمیشن بڑھتا رہے۔ ایڈوانس وصولی کے بعد کوشش کہ اخراجات اس حد تک ہوں کہ دینے کے بجائے کچھ اور وصول کیا جا سکے۔ مہنگے داموں علاج کے بعد کوئی بھی گارنٹی نہیں آپریشن غلط ہو یا درست کسی کو پروا نہیں۔ شجاع آباد میں جگہ جگہ پرائیویٹ ہسپتال کھل رہے ہیں، جہاں غیر تربیت یافتہ سٹاف ڈلیوری آپریشن کرتے ہیں۔ ایسے ہسپتالوں میں زچہ و بچہ کی اموات ضلع ملتان میں سب سے زیادہ ہیں اس طرف کسی ادارے کا دھیان نہیں۔بے بس مجبور خواتین جو غلط آپریشن کی وجہ سے ماری جاتی ہیں ان کے لواحقین کوئی کارروائی بھی نہیں کراتے۔ یہ بات اب سب کو پتہ ہے کہ نجی ہسپتال اور نجی تعلیمی ادارے کاروبار بن گئے ہیں۔ مگر یہ بھی تو سوچئے کہ ایساکیوں ہوا؟ اس کی ذمہ داری کس پر ہے؟

اس کی ذمہ دار حکومتیں ہیں۔ پہلے یہ شعبے وفاق کے پاس تھے ، اب یہ صوبوں کے پاس ہیں۔ لیکن نہ وفاق نے انہیں اپنی ترجیحات میں شامل کیا اور نہ صوبوں نے۔ صحت اور تعلیم پر بجٹ کا کم سے کم حصہ خرچ کیا جاتا ہے۔ ہمارے سرکاری ہسپتالوں کی حالت دیکھ لیجئے۔ ہمارے سرکاری تعلیمی اداروں کا معیار دیکھ لیں۔ ہم قومی دولت بڑی بڑی سڑکیں بنانے ،اونچے اونچے پل اور فلائی اوور بنانے پر خرچ کر دیتے ہیں ۔ مگر صحت اور تعلیم کی طرف توجہ نہیں دیتے۔ جو پوری قوم کے صحت مند، مضبوط اور مستحکم مستقبل کی ضمانت ہیں۔ تعلیم اور صحت کی سہولتیں حاصل کرنا ہر انسان کا بنیادی حق ہے اور حکومت کا فرض ہے کہ وہ سہولتیں ہر آدمی کو بہم پہنچائے۔ مگر اس شعبے میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ ہمارے سامنے ہے۔ سرکاری ہسپتال ہوں یا نجی ہسپتال، مریضوں کی کثرت ڈاکٹروں کو ہر قسم کے تجربات کے مواقع فراہم کرتی ہے۔

 عام زندگی میں ڈاکٹروں کی بڑی تعداد زیادہ سے زیادہ مریضوں کا علاج اپنا فرض سمجھتی ہے اور ہر مریض سے بھاری مشاورتی فیس وصول کر کے چند منٹ میں مرض کی تشخیص اور دوا کی تجویز جیسا اہم کام نمٹا کر NEXTکی آواز لگا دیتی ہے۔ مریض اگر کچھ کہنا چاہے تو اسے اگلے وزٹ کے لئے ٹال کر کمرے سے باہر جانے پر مجبور کر دیا جاتا ہے۔ یوں بھی جن مریضوں نے بھاری فیس جمع کرا کے اپائٹمنٹ لیا ہے انہیں دیکھنا ڈاکٹر کی مجبوری ہے۔ دیکھنے کے لئے چند لمحے ہی کافی ہیں۔ مگر مریض کے ساتھ آنے والوں کو بھی مطمئن کرنا ہے۔ لہٰذا دوچار منٹ کی برداشت ضروری ہے۔ سننے میں یہ بھی آیا ہے کہ کچھ ڈاکٹر معاف کیجئے گا اسپیشلسٹ بڑے اطمینان سے مریض کا معائنہ کرتے ہیں اور فی منٹ کے لحاظ سے فیس وصول کرتے ہیں۔ اس صورت حال میں مریض پر منحصر ہے کہ وہ کتنی فیس ادا کرنا چاہتا ہے۔اب غیر سرکاری ہسپتالوں میں انعامی اسکیم بھی شروع کر دی گئی ہے۔ اس اسکیم کے بارے میں ایک اشتہار جو اخباروں کے ساتھ ہمارے گھروں میں پھینکا گیا ہے، اس میں لکھا ہے۔ ہسپتال میں نارمل ڈلیوری یا کوئی بھی آپریشن کروائیں اور جیتیں بذریعہ قرعہ اندازی ہزاروں روپے کے انعامات ، بمپر انعام موٹر سائیکل، یہ کوپن ہمراہ لانے پر کوئی فیس نہیں۔

 یوں تو ہر روز ہی اخباروں میں طرح طرح کے اشتہارات شائع ہوتے ہیں۔ جیسے بیوٹی پارلر کے اشتہار، ریستورانوں کے اشتہار، تعلیمی اداروں کے اشتہار، جنہیں ہم ایک نظر دیکھتے ہیں اور پھینک دیتے ہیں، لیکن ہسپتال کے اس اشتہار کو دیکھ کر ہم چونک گئے۔ افسوس یہ وقت بھی آنا تھا کہ اب ہسپتال بھی انعامات کی بارش کرنے لگے؟ جب تک ہم برطانوی قواعد و ضوابط کی پابندی کرتے تھے، اس وقت تک کسی ڈاکٹر یا ہسپتال کی طرف سے اشتہار دینا طبی ا ٓداب و اخلاق کے خلاف سمجھا جاتا تھا، مگر پھر خدا جانے کیا ہوا کہ ڈاکٹروں اور ہسپتالوں نے اشتہار دینا شروع کر دیا۔ فلاں ڈاکٹر صاحب اب فلاںہسپتال چلے گئے ہیں۔ فلاں ہسپتال میں فلاں فلاں بیماریوں کا علاج کیاجاتا ہے۔“

 ہمیں تو اپنے مہربان ڈاکٹر محمد سلیمان قریشی جیسے قدیم طبی اخلاق و آداب کے پاسدار بزرگ یاد آ رہے ہیں۔ ان جیسے ڈاکٹروں نے تو کبھی اپنا اشتہار نہیں دیا۔ ان کی تو اپنی اہلیت و قابلیت ہی ان کا اشتہار ہے۔ دور دور تک سے بیماری صرف اس لئے ان کے پاس آتے ہیں کہ ان کے ہاتھ میں شفا ہے۔”طب کے تمام شعبے میں آج بھی ایسے ڈاکٹر موجود ہیں، جنہیں اشتہار دینے کی ضرورت نہیں ہے کہ ان کے ہاتھ کی شفاہی ان کا اشتہار ہے۔ وہ پرانا مقولہ انہی کے بارے میں ہی تو ہے کہ ”مشک آنست کہ خود بیوید نہ کہ عطار بگوید“.... مشک کی خوشبو عطار نہیں بتاتا وہ خود ہی اپنی خوشبو بکھیرتی ہے۔اب وہ ہسپتال بن رہے ہیں جو ڈاکٹروں کی مہارت اور قابلیت کے بجائے انعامات کے ذریعے مریضوں کو اپنی طرف متوجہ کر رہے ہیں۔“ آپریشن کر ائے اور بڑے بڑے انعامات پائیے“۔ اب یہ نعرہ ہو گا ہسپتالوں کا۔  ٭

مزید : کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...