قومی مفادات کو سیاست کی بھینٹ نہ چڑھایا جائے

قومی مفادات کو سیاست کی بھینٹ نہ چڑھایا جائے

تحریک انصاف اور اتحادی جماعتوں نے نیٹو سپلائی کے خلاف پشاور میں رنگ روڈ پر دھرنا دیا، جس کے باعث پشاور میں نیٹو سپلائی بند ہو گئی۔ اس موقع پر موجود ہزاروں شرکا ءنے ڈرون مار گرانے کا مطالبہ بھی کیا۔ دھرنے میں تحریک انصاف،جماعت اسلامی، عوامی جمہوری اتحاد، دفاع پاکستان کونسل اور عوامی مسلم لیگ کے رہنماﺅں اور کارکنوں اور خواتین سمیت شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ آج کراچی میں بھی دھرنا دینے کا اعلان کیا گیا۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت کی قربانی دیں گے، لیکن اصولوں سے منحرف نہیں ہوں گے۔انہوں نے وزیراعظم میاں نواز شریف سے کہا کہ وہ لیڈر بنیں قوم ساتھ دے گی، تحریک انصاف کی حکومت شہید ہونے نہیں غازی بننے جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت بھی سپلائی روکنے پر غور کرے۔ وفاق نے ڈرون مار گرائے تو اس کا ساتھ دیں گے۔ ڈرون حملوں کی بندش کے سلسلے میں امریکی حکومت کی یقین دہانی تک دھرنا جاری رہے گا۔ اگر ہمارے احتجاج پر ڈرون حملے بند نہ ہوئے تو پاکستان کے ہر شہر میں جا کر ان کے خلاف احتجاج کریں گے۔

ایک طرف اگر تحریک انصاف اور اتحادی جماعتوں کی طرف سے قومی حمیت اور مسائل کے پیش نظر پاکستان کی آزادی و خود مختاری کا منہ چڑانے والے ڈرون حملے بند کرانے کے لئے احتجاج کیا جا رہا ہے تو دوسری طرف متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین نے عین اس موقع پر اپنے ایک خطاب میں ایسی باتیں کہہ دی ہیں، جو ڈرون حملوں کی مخالفت کرنے والوں کی کھلی مخالفت اور امریکہ کی حمایت میں ہیں۔ انہوں نے اپنی مختلف تنظیمی کمیٹیوں کے اجلاس سے حسب معمول ویڈیو لنک کے ذریعے لندن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی وفاقی حکومت ڈرون حملے بند کرا سکتی ہے نہ فوج کو انہیں گرانے کا حکم دے سکتی ہے۔ وفاقی و صوبائی حکومتیں اور سیاسی جماعتیںحملوں کے خلاف احتجاج کراتی ہیں ، ڈالرز بھی امریکہ سے لیتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈالروں کی بھیک مانگنے میں تحریک انصاف آگے آگے ہے۔ وفاق ، تمام سیاسی و مذہبی جماعتیں اعلان کریں طالبان اسلام اور پاکستان کے دشمن ہیں، اگر حکام و مسلح ادارے دہشت گردوں کے حملے نہ رکوا سکے تو ہم خود جہاد کا اعلان کرنے میں حق بجانب ہوں گے۔

اسی روز لاہور میں قومی ادبی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خاتمے پر سیاست نہیں ہونی چاہئے۔ سیاست دانوں ، میڈیا اور انتظامیہ کو ایک پالیسی پر عمل پیرا ہونا ہو گا۔ بھارت سے تعلقات کے سلسلے میں انہوں نے کہا کہ پھارت سے ویزا کی پابند ی ختم کرنا چاہتا ہوں، امن چاہتے ہیں، بھارت ایک قدم بڑھے ہم دو قدم آگے بڑھیں گے۔

تحریک انصاف اور اس کی اتحادی جماعتوں کی طرف سے امریکہ کی طرف سے کئے جانے والے ڈرون حملے رکوانے کے لئے احتجاج پاکستانی عوام کی اکثریت کے جذبات و احساسات کی ترجمانی ہے۔ احتجاج ان کا سیاسی حق بھی ہے اور ذمہ داری بھی۔ عمران خان کی طرف سے ڈرون حملے بند کرانے کے سلسلے میں وفاقی حکومت پر زور دینا ایک مناسب اقدام ہے، اپنے دھرنوں کے ذریعے علامتی طور پر نیٹو سپلائی کا بند کرنا بھی ایسا خطرناک کام نہیں، لیکن ان کی طرف سے خیبر پختونخوا حکومت کو اپنے طور پر یہ سپلائی بند کرنے کا مشورہ زیادہ مستحسن نہیں۔ ملکی دفاع اور امور خارجہ کے سلسلے میں وفاقی حکومت کو ایک طرف کر کے اگر صوبائی حکومتیں اپنے طور پر ایسے اقدامات کرنے لگیں تو پھر وفاق اور ملکی اتحاد کا کیا بنے گا؟ جب قومی اتحاد اور یکجہتی کا سوال ہو تو رہنماﺅں کے درمیان اختلافات دور نہ ہونے کی صورت میں سب سے بڑے رہنما ہی کی بات تسلیم کرنا ہوتی ہے۔ پاکستانی آئین بھی صوبوں اور چھوٹے موٹے سیاسی گروہوں کو خارجہ پالیسی اور دفاع ملک کے معاملات طے کرنے کے بجائے وفاقی حکومت ہی کو یہ اختیارات دیتا ہے۔ جب کوئی آئین اور قانون کو ایک طرف چھوڑ کر اپنی ہی لائن پر ہر کسی کو لانے کے لئے چل پڑے گا، تو پھر قومی اتحاد کا کیا بنے گا جس کی کہ ان نازک ملکی حالات میں ہمیں بے حد ضرورت ہے؟ اس موقع پر یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ حکومتی جماعت مسلم(ن) گزشتہ دور میں ڈرون جہازوں کو مارگرانے کا مطالبہ کرتی رہی ہے اس سلسلے میں پارلیمنٹ میں منظور کی گئی قرار داد میں خود اس کی طرف سے یہ اضافہ کرایا گیا تھا۔

اب مسلم لیگ(ن) کو اپنے سابقہ موقف سے پھر جانے کا طعنہ دیا جا رہا ہے، لیکن یہ اہم معاملہ طعنوں اور سیاسی پوائنٹ سکورنگ کا نہیں اس کا تعلق قومی سلامتی اور ملکی وقار سے ہے، جس کے سلسلے میں ہماری حکومت مناسب پالیسی اختیار کئے ہوئے ہے۔ روس اور چین سمیت دنیا کا کوئی بھی ملک امریکہ سے جنگ کی پالیسی اختیار نہیں کر سکتا۔ ہم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکی اتحادی بننے کے بعد دہشت گردوں اور افغانستان میں اتحادی افواج پر حملے کر کے پاکستان بھاگ آنے والوں کی تائید و حمایت نہیں کر سکتے، امریکہ اپنے مطلوب افراد کی پاکستان میں موجودگی کی اطلاع ملنے پر ان کے خلاف کارروائی کرنے سے باز آنے کو تیار نہیں۔ ان کی طرف سے اپنے مجرموں کے خلاف ایسی کارروائیاں انتہائی جدید ٹیکنالوجی والے ڈرون طیاروں کے ذریعے کرنے کا یہ جواز فراہم کیا جا رہا ہے کہ ایسے حملوں کے ذریعے وہ بمباری کے ذریعے بڑے پیمانے پر تباہی مچانے کے بجائے محتاط انداز میں صرف مطلوبہ افراد تک ہی پہنچتے ہیں، امریکہ اگر افغانستان میں اپنی افواج کے خلاف جنگ میں مصروف افراد کی پاکستان میں موجودگی برداشت نہیں کرتا تو اس کے لئے ہمیں متبادل حل سوچنا ہو گا۔ پاکستان بھی دہشت گردوں کے خلاف جنگ میں امریکہ کا اتحادی ہے اور دنیا بھر کے دہشت گردوں کی مخالفت کی پالیسی پر گامزن ہے ، ہم نہ اپنے ہاں دہشت گردی پسند کرتے ہیں نہ دوسروں کے ہاں دہشت گردی کرنے والوں کو پاکستان میں پناہ دینے کو تیار ہیں۔ اس ضمن میں ہم اپنے علاقوں میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کے خلاف فوجی آپریشن بھی کر چکے ہیں اور مزید آپریشن کرنے کو اپنے قبائلی عوام کی مزید ناراضگی اور بغاوت مول لینے کے مترادف سمجھتے ہیں۔ اپنی اس پالیسی کی وجہ سے ہم قبائلی عوام کی ناراضگی اور پاکستان میں مسلسل دہشت گرد حملوں کا سامنا کر رہے ہیں، لیکن ہم افغانستان کے اندر جا کر جنگ کرنے والوں کو پاکستان کے اندر پناہ گاہیں بنانے کی اجازت دے سکتے ہیں نہ ان کواپنی سرزمین پرتحفظ کی ضمانت دے سکتے ہیں۔ جھگڑا اِسی بات کا ہے۔

 افغانستان میں طالبان کے حامیوں کی بھاری اکثریت موجود ہے، جس کے ساتھ امریکہ افغانستان سے جانے سے قبل بات چیت کے بعد انہیں جمہوری طریقے سے افغانستان کی آئندہ حکومت میں حصہ دینے کو تیار ہے، پاکستان بھی طالبان اور اتحادیوں میں مصالحت کے بعد آئندہ افغانستان میں ایک مضبوط اور مستحکم جمہوری حکومت کے قیام کا حامی ہے اور افغانستا ن کے امن سے اپنے امن کو جڑا ہوا محسوس کرتا ہے۔ اس موقع پر جب کہ اتحادی افغانستان میں ایک وسیع البنیاد حکومت کے قیام کے لئے طالبان سے مذاکرات کے لئے پاکستان کا تعاون بھی حاصل کرنا چاہتے ہیں پاکستان اپنی سرزمین پر طالبان کے دہشت گرد حملے بند کرانے کے لئے خود بھی پاکستانی طالبان سے مذاکرات چاہتا ہے جو مذاکرات کی میز پر آنے کے لئے تیار نہیں ہوتے امریکہ کی طرف سے اس طرح کے مذاکرات کو ڈرون حملوں کے ذریعے مسلسل ناکام بنایا گیا ہے، جس کے خلاف پاکستانی قوم بجا طور پر غم و غصہ کا بھرپور اظہار کر رہی ہے۔ غم وغصے کی اس فضا میں ایم کیوایم کے قائد کی طرف سے ڈالروں کی بھیک لینے کی بات کرنا اور یہ کہنا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں ڈرون حملوں کے خلاف احتجاج کرتی ہیں اور ڈالر بھی امریکہ سے لیتی ہیں، اپنی ہی قوم کے مُنہ پر طمانچہ مارنے والی بات ہے۔ امریکہ ہمیں مختلف مقاصد کے لئے امداد ضرور دیتا ہے مختلف اقوام کی جانب سے امداد و تعاون کا سلسلہ پوری دنیا میں جاری ہے، ہمارے عوام کا یقین ہے کہ امریکہ ہمیں جتنی امداد دیتا ہے مختلف طریقوں سے اس سے سینکڑوں گنا زیادہ مفادات بھی حاصل کرتا ہے ، اسی لئے عوام کی بھاری اکثریت ایسی امداد کے بجائے ملک کو اپنے پاﺅں پر کھڑا کرنے کے حق میں ہے،عمران خان کے احتجاج میں عوام کی بڑے پیمانے پر دلچسپی سے قوم کی غیرت اور اناءکے رویے سامنے آگئے ہیں۔ امریکہ کو بھی یہ حقیقت سمجھ لینی چاہئیے اور ملک کے اندر اور باہر اس سے ہمدردی رکھنے والے لوگوں کو بھی یہ جان جانا چاہئے کہ محنت کش اور جفاکش پاکستانیوں کی قوم گدا گر نہیں، بلکہ سیاست دانوںاور بدعنوان حکمرانوں کے روپ میں گداگروں کی ایک نسل ہمارے ہاں ضرور موجود ہے۔

 جدید ترین اسلحہ سے مسلح اور دنیا بھر کی ایجنسیوں کی تربیت اور رہنمائی میں کام کرنے والے دہشت گردوں کے ساتھ ہماری فوج اور ایجنسیاں اپنی بہترین صلاحیتوں اور بھرپور وسائل کے ساتھ نبرد آزما ہیں، لیکن اس کے باوجود حکومت ان کے ساتھ مذاکرات پر مجبور ہے۔ کیا الطاف بھائی یہ بتا سکتے ہیں کہ ان کے پاس آخر اس ”جہاد عظیم“ کے لئے وسائل، فوج اور تربیت یافتہ افراد کہاں سے آ گئے؟ بہتر ہو کہ الطاف بھائی جوش خطابت میں اپنے جماعتی مفادات کے ساتھ قومی مفاد اور جذبات کو بھی پیش نظر رکھا کریں۔ ٭

مزید : اداریہ

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...