ناگہانی سیاسی موت سے عمران خان کو بچنا ہوگا

ناگہانی سیاسی موت سے عمران خان کو بچنا ہوگا
ناگہانی سیاسی موت سے عمران خان کو بچنا ہوگا

  

لاڑکانہ میں عمران خان کے جلسے کا سب ہی کو انتظار تھا۔ منتظرین میں تحریک انصاف تو تھی ہی، لیکن پیپلز پارٹی ، مسلم لیگ (ن)، فنکشنل لیگ اور قوم پرست رہنماء وغیرہ حاضرین کی تعداد، ان کے جوش و ولولے کو دیکھنے کے منتظر تھے۔ کسی کے لئے حاضرین کی تعداد اہمیت رکھتی تھی، کسی کے لئے لوگوں کا جوش اہم تھا اور کسی کے لئے حاضرین کا وہ انہماک اہمیت رکھتا تھا جو سیاسی جلسوں کی جان ہوتا ہے۔ پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کے لئے یہ جلسہ کئی لحاظ سے کئی سوالات جنم دیتا ہے اور کئی لحاظ سے اہمیت کا حامل بھی ہے۔ پیپلز پارٹی کے لئے زیادہ اس لئے اہمیت کا حامل تھا کہ لاڑکانہ پیپلز پارٹی کے بانی مرحوم ذوالفقار علی بھٹو اور ان کے بعد پارٹی کی قیادت کرنے والی ان کی بیٹی کا آبائی شہر ہے اور ان دونوں کی آخری آرام گاہیں بھی اسی ضلع میں ہیں۔ لاڑکانہ پیپلز پارٹی کا گڑھ اس لئے بھی قرار دیا جاتا ہے کہ 1970ء کے انتخابات کے بعد سے پیپلز پارٹی اس ضلع سے قومی اور صوبائی اسمبلی کی تمام نشستیں حاصل کرتی چلی آ رہی ہے۔ قیام پاکستان سے قبل اور اس کے بعد بھی طویل عرصے تک لاڑکانہ میں محمد ایوب کھوڑو کی سیاسی اجارہ داری ہوا کرتی تھی۔ کھوڑو کی اجارہ داری جنرل ایوب خان کے مارشل لاء کے نفاذ کے بعد ختم ہو گئی تھی۔ کھوڑو نے وزیر دفاع کی حیثیت سے ایک مرتبہ جنرل ایوب خان کو حیدرآباد کے سرکٹ ہاؤس میں ملاقات کے لئے انتظار کرا دیا تھا۔ اس انتظار کی وجہ سے ایوب خان کے دل میں ایوب کھوڑو کے لئے گرہ لگ گئی تھی۔ سیاست دانوں کو نااہل کرنے کے قانون ایبڈو کے تحت ایوب کھوڑو بھی نا اہل قرار دئے گئے تھے۔

ایوب خان کو لاڑکانہ میں ان کے متبادل کی تلاش تھی۔ اسکندر مرزا پہلے ہی ذوالفقار علی بھٹو کو ایوب خان سے متعارف کر چکے تھے، جس کی وجہ سے ان کے لئے راہ ہموار تھی۔ ذوالفقار علی بھٹو کی ایوب خان کی کابینہ میں سب سے کم عمر وزیر کی حیثیت سے شمولیت کے بعد ایوب کھوڑو طویل عرصے تک سیاست میں سرگرم نہیں رہے تھے۔ انہیں مغربی پاکستان میں ون یونٹ کے قیام کا خمیازہ بھی بھگتنا پڑا تھا۔ اس کے علاوہ ان کی وڈیرہ اسٹائل سیاست بھٹو کے چیلنج کے سامنے ٹھہر نہیں سکی تھی۔ ویسا ہی چیلنج جو عمران خان نے پیپلز پارٹی کو کیا ہے۔ 1977ء کے بعد جنرل ضیاء الحق نے لاڑکانہ میں بھٹو مخالف عناصر کی سرپرستی کی کسر نہیں چھوڑی تھی ،لیکن بھٹو کی پھانسی کے بعد ضیاء اور ان کے حامیوں کے لئے لاڑکانہ کے عوام کے دلوں میں گنجائش نہیں رہی تھی۔ 1988ئسے بعد سے بھی ہونے والے انتخابات میں پیپلز پارٹی کے امیدوار ہی کامیاب ہوتے رہے تھے۔ 2008ء کے انتخابات کے لئے جب 21دسمبر2007 ء کو لاڑکانہ میں مرحومہ بے نظیر بھٹو اپنی زندگی کی آخری انتخابی تقریر کر رہی تھیں تو انہیں بھر پور احساس تھا کہ لاڑکانہ کے عوام ان کے نامزد امیدواروں سے مطمئن نہیں ہیں اسی لئے اپنی تقریر میں انہوں نے کھل کر کہا تھا کہ ’’ آپ کی بہن نے ان امیدواروں کو نامزد کر دیا ہے۔ ان سے ماضی میں غلطیاں سر زد ہوئی ہیں لیکن آپ کی بہن آپ سے کہتی ہے کہ انہیں ہی ووٹ دیں ۔ اور میں یقین رکھتی ہوں کہ آپ لوگ سو فیصد ووٹ اپنی بہن کو دیں گے ‘‘ ۔ اب تو بہن ہی نہیں رہی۔

لاڑکانہ میں عمران خان کو جو پذیرائی حاصل ہوئی ہے وہ ان کے جلسے کا اہتمام کرنے والے شفقت انہڑ یا دیگر کی وجہ سے نہیں حاصل ہوئی ہے بلکہ یہ لوگوں کا وہ رد عمل تھا، جس کے وہ طویل عرصے سے منتظر تھے۔ لاڑکانہ میں انہڑ لوگوں کی سیاسی ساکھ کبھی متاثر کن نہیں رہی ہے۔ جلسے کے حاضرین کی تعداد پر بحث بے معنی ہے۔ کوئی ایک لاکھ بتاتا ہے تو کوئی اسے دس ہزار قرار دیتا ہے۔ منتظمین چالیس ہزار کرسیاں لگانے کے دعوی دار ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ لوگوں میں ولولہ کیسا تھا۔ جوش کیسا تھا، انہماک کیسا تھا۔ کیا وہ عمران خان کی تقریر سننے میں دلچسپی رکھتے تھے یا نہیں ، لوگ خود آئے تھے یا لائے گئے تھے۔ تحریک انصاف کا یہ جلسہ ہر لحاظ سے ایک کامیاب جلسہ تھا۔ شرکاء جن میں خواتین کی بھی خاصی بڑی تعداد تھی، عمران خان کی تقریر سننے میں دلچسپی رکھتے تھے۔ تحریک انصاف کے پر چم کے رنگ کے ڈوپٹے، گالوں پر اس کے پرچم بنوانے، ہاتھوں میں اس رنگ کی چوڑیاں ۔ اسی طرح نوجوانوں کی بہت بڑی تعداد کا رخ اس جلسے کی طرف تھا۔ پھر لاڑکانہ اور اس کے اطراف میں رہنے والے عام لوگ جن میں محنت کش طبقے سے تعلق رکھنے والے لوگ شامل تھے ، جلسے میں خود چل کر آئے تھے۔ لوگوں کا اس جلسے میں اس طرح شمولیت یہ ثابت کرتی تھی کہ لوگ تبدیلی چاہتے ہیں۔ چہرے کی تبدیلی نہیں ،بلکہ وہ تبدیلی جس کا ذکر عمران خان گزشتہ ایک سو دن سے تواتر کے ساتھ کر رہے ہیں۔ لاڑکانہ میں جلسہ 21 نومبر کو ہوا۔ اس روز اسلام آباد میں عمران خان کے دھرنے کو یہ ایک سو روز پورے ہوئے تھے۔

پیپلز پارٹی کے اکابرین اور منتخب اراکین کو عمران خان کو کسی محلے کی ان پڑھ خواتین کی طرح کوسنے دینے کی بجائے اپنی اپنی کارکردگی کا جائزہ لینا چاہئے اور یہ سوچنا چاہئے کہ جب وہ ہی اپنی مرحومہ رہنماء کے عوام سے کئے گئے وعدے کی لاج نہیں رکھ سکے تو سندھ کے عوام کیوں ان کی توقیر کریں۔ ایسے نمائندوں کی توقیر جو عوام سے ملاقاتیں کرنے اور ان کے مسائل حل کرنے کے لئے تیار ہی نہیں ہیں۔ ان ہی لوگوں نے کل ایوب کھوڑو کو جو سندھ کی سیاست میں مرد آہن کہلاتے تھے ، شکست دی تھی تو آج کے منتخب نمائندوں کی ان لوگوں کی نظر میں کیا حیثیت اور لوگ تو ان کی حیثیتوں سے بھی واقف ہیں۔ یہ لوگ کھوڑو سے زیادہ تعلیم یافتہ بڑے جاگیردار تو نہیں ہیں۔

بات ہو رہی تھی کہ لوگ نظام حکومت اور طرز حکمرانی میں تبدیلی چاہتے ہیں۔ عمران خان پولیس، اسپتال، بلدیاتی سہولتوں اور قابلیت ، اہلیت اور میر ٹ کا ذکر کر کے لوگوں کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھتے ہیں۔اسی طرح جیسے بھٹو مرحوم اپنی انتخابی مہم کے دوران رکھا کرتے تھے۔ زیادہ اہم بات عمران خان یہ کرتے ہیں کہ حکومت میں عمران خان کے رشتہ دار نہیں ہوں گے۔ عمران خان کی ذات یا قوم کے لوگ نہیں ہوں گے۔ یہ باتیں عوام کو اس لئے اپیل کرتی ہیں کہ وہ طویل عرصے سے ایسے نااہل لوگوں کو بھگت رہے ہیں جو قوم اور قبیلہ کے نام پر، سیاسی اثر کے حوالے سے، سفارش کی بنیاد پر اہلیت کو روندتے ہوئے عوام کے گلے کا طوق بنے ہوئے ہیں۔ عوام یہ بھی قبول کر لیں، اگر یہ لوگ دیانت دار ہوں ، مخلص ہوں، اپنے فرائض کی انجام دہی سے ہی سروکار رکھیں، لیکن یہاں تو معاملہ عجیب ہے کہ ہر ایک کو پیسہ بنانا ہے، جلدی بنانا ہے اور ڈھیر سارا بنانا ہے۔ اسی وجہ سے عوام کی تمام بنیادی سہولتیں ناپید ہو گئی ہیں۔ لاڑکانہ میں شہر کے بیچوں بیچ نہر گزرتی ہے، لیکن پورا لاڑکانہ زیر زمین پانی نکال کر پانی پیتا ہے ۔ وہ پانی جو غیر صحت مند ہے۔ اس پانی میں سنکھیا کی مقدار ضرورت سے زیادہ بتائی جاتی ہے۔ نہر سے پانی فراہم کرنے کا وہ نظام ڈھیر ہوگیا جو بھٹو نے شروع کرایا تھا۔ سابق صدر آصف علی زرداری نے دسمبر2009ء میں دعوی کیا تھا کہ رینٹل پاور پلانٹ کے جنوری کے مہینے سے کام شروع کرنے کے بعد لاڑکانہ میں لوڈ شیڈنگ نہیں ہو گی، لیکن ان کے شوگر ملز کے احاطے میں لگے ہوئے اس رینٹل پاور پلانٹ نے ایک روز بھی کام نہیں کیا ۔ یہ بات حیران کن ہے کہ اس پاور پلانٹ کے لئے گیس خصوصی طور پر شوگر ملز پہنچائی گئی، جس کا فائدہ شوگر ملز کو ہوا کہ اسے گیس پہنچانے کا خرچہ برداشت نہیں کرنا پڑا ۔ یہ ہے کسی صنعتکار کا حاکم وقت ہونے کا قوم کو ایک نقصان۔ عمران خان کی اس بات سے بہت سارے تعلیم یافتہ لوگ اتفاق کرتے ہیں کہ سرمایہ کار، سرمایہ دار، صنعتکار ، زمیندار، اور تاجر کو حکومت میں نہیں ہونا چاہئے۔ نواز شریف اور آصف علی زرداری کے ادوار حکومت کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوگا کہ اقتدار میں ہونے کی وجہ سے بہت سارے ایسے کام جن سے انہیں ذاتی طور پر فائدہ پہنچا حکومت کے خرچے پر کرائے گئے۔

یہ اندازہ تو آپ کو ہو گیا ہوگا کہ لوگ عمران خان کے جلسے میں کیوں آئے تھے۔ لوگ جو تبدیلی چاہتے ہیں ، یہ تو بعد کی بات ہے کہ کیا عمران خان وہ تبدیلیاں لا بھی سکیں گے یا ان کی مقبولیت بھی اس ملک کے سرکاری افسران کی بے تکی، بلا سوچے سمجھے منصوبوں اور پالیسیوں اور ذاتی مفادات کی بھینٹ تو نہیں چڑھ جائے گی۔ جو بات اس وقت نہایت اہمیت کی حامل ہے وہ یہ ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کو ابھی اور آج سے ہی اپنی تنظیم سازی، کارکنوں کی تربیت، امیدواروں کی تلاش، ان کی انتخابی مہم چلانے کے لئے رقم کا انتظام کرنے کی فکر کرنا چاہئے۔ عمران خان کی مقبولیت کا گھوڑا تیز رفتاری کے ساتھ سندھ کے ہر ضلع میں سر پٹ دوڑ رہا ہے۔ اس تماش گاہ میں اگر انہوں نے بھی بھٹو (1977ء والے) ضیاء الحق، محمد خان جونیجو، بے نظیر بھٹو ، نواز شریف، جنرل پرویز مشرف کی طرح انتخابات میں آزمودہ لوگوں کو اپنی جماعت کو بیساکھی بنانے کی اجازت دے دی تو پاکستان کی سیاست اور اقتدار پر گزشتہ 67 سال سے قابض گروہ ان کی بھی سیاسی موت کا سبب بنے گا جو عوام کے لئے کسی ناگہانی سے کم نہیں ہوگا، لیکن سیاسی مبصرین متفق ہیں کہ عمران خان کی صورت میں اگر صرف چہرے کی تبدیلی ثابت ہوئی تو لوگ اس دفعہ خود سب کچھ تبدیل کردیں گے۔ سب کچھ والی بات تو آپ سمجھ ہی گئے ہوں گے۔

مزید : کالم