اسرائیل ہر ایک یہودی آبادکار پر 8000 ڈالرز خرچ کر رہا ہے

اسرائیل ہر ایک یہودی آبادکار پر 8000 ڈالرز خرچ کر رہا ہے

مقبوضہ یروشلم(ثناءنیوز)اسرائیل نے مقبوضہ مشرقی یروشلم میں یہودی بستیوں کی تعمیر کے لئے اٹھنے والے اخراجات کی مد میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔اسرائیل سے شائع ہونے والے کثیر الاشاعت عبرانی اخبار 'ہارٹز' نے کنیسٹ کی مالیاتی کمیٹی کے حوالے سے بتایا ہے کہ مشرقی یروشلم میں یہودی بستیوں کی تعمیر کے لئے 5.2 ملین ڈالرز کی منظوری دی گئی ہے،جس کے بعد سنہ 2014 میں اس مد میں خرچ کی جانے والی رقم 100 ملین اسرائیلی شیکل تک پہنچ جائے گی۔کنیسٹ کی ہاوسنگ اور تعمیرات کمیٹی نے بتایا کہ منظور کی جانے والی اضافی رقم کو یہودی بستیوں میں نگرانی کے کیمروں اور دوسرے جدید آلات کی خریداری کے لئے استعمال کیا جائے گا۔اخبار نے اسرائیلی وزارت مالیات کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے اپنی رپورٹ میں کہا کہ فلسطینی اراضی پر قائم یہودی بستیوں میں رہائش پذیر ہر ایک آبادکار پر 30000 شیکل خرچ کرنے پڑتے ہیں۔اسرائیل نے سنہ 1967 کی جنگ میں مشرقی بیت المقدس پر قبضہ کرنے کے بعد اسے ریاست میں ضم کر لیا تھا لیکن بین الاقوامی برادری اس فیصلے کو درست نہیں مانتی۔مغربی کنارا اور مشرقی یروشلم میں یہودی آباد کاروں کی تعمیرات بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی ہیں۔

ہارٹز کے مطابق اسرائیلی وزارت ہاوسنگ یہودی آباد کاروں کی سیکیورٹی کا کام سنہ 1990 سے نجی کمپنیوں کے ذریعے کرا رہی ہے۔ اخبار کے مطابق دائیں بازو کی انجمنیں ان علاقوں میں مختلف کمپاونڈ جان بوجھ کر خریدتی ہیں جہاں پر فلسطینی آبادی زیادہ ہوتی ہے، ان عمارتوں کی نگرانی سیکیورٹی اہلکار کرتے ہیں۔

مزید : عالمی منظر