اٹلی کی پہلی خاتون خلانورد بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر پہنچ گئی

اٹلی کی پہلی خاتون خلانورد بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر پہنچ گئی

 رو م (آن لائن)اٹلی کی پہلی خاتون خلانورد سمانتھا کرسٹوفوریٹی روسی سویوز راکٹ کے ذریعے بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر پہنچ گئی ہیں۔ روس اور امریکا کے خلانورد بھی ان کے ساتھ ہیں۔سمانتھا کرسٹو فوریٹی کو لیے ایک راکٹ گزشتہ شب عالمی وقت کے مطابق رات نو بج کر ایک منٹ پر قازقستان سے اڑا تھا۔ اس راکٹ میں کرسٹو فوریٹی کے ساتھ روسی خلانورد انٹون شکاپلیروف اور امریکی خلا نورد ٹیری ورٹس بھی ہیں۔ فرا نسیسی خبر رساں ادارے کے مطابق روس کے خلائی ادارے روسکوسموس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس راکٹ نے روس کے بائیکونور کوسموڈروم سے اڑان لی۔قبل ازیں امریکی خلائی تحقیقی ادارے ناسا نے ایک ٹوئٹر پیغام میں بتایا کہ یہ راکٹ کامیابی سے زمینی مدار میں پہنچ گیا ہے۔ اس بیان میں مزید بتایا گیا تھا کہ اس کی اگلی منزل بین الاقوامی خلائی اسٹیشن ہے۔ یہ خلانورد چھ گھنٹے کا سفر طے کر کے بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر پہنچے جب کہ وہ وہاں آئندہ برس مئی تک قیام کریں گے۔اس راکٹ کی روانگی براہ راست نشر کی گئی جس میں ورٹس نے انگھوٹھا اٹھاتے ہوئے خوشی کا اظہار کیا۔ ان کے اس سفر کے لے انہیں خاص خوراک بھی مہیا کی گئی ہے جس میں تقریبا آدھا کلو مچھلی کا اچار اور ایک ایسپریسو مشین بھی شامل ہے۔

روس کے خبررساں ادارے اتا ر تا س نے خلائی اسٹیشن کے ایک اہلکار کے حوالے سے بتایا کہ مچھلی کے اچار کے پندرہ ڈبے ہیں جن میں سے ہر ایک میں تیس گرام اچار ہے، لیکن سیب، مالٹے، ٹماٹر، جمے ہوئے خشک د±ودھ کی ایک سو چالیس خوراکیں، اور چینی کے بغیر چائے (سیاہ) بھی شامل ہیں۔ خلا نوردوں کو بالآخر ایک بہتر کافی میسر آئے گی جو بیس کلو گرام وزنی اس مشین کی بدولت ممکن ہو گی جسے معروف اطالوی کافی بنانے والی لاوازا کمپنی اور خلائی خوراک بنانے میں مہارت رکھنے والی انجینئرنگ فرم آرگوٹیک نے ڈیزائن کیا۔ان دونوں کمپنیوں نے سینتیس سالہ کرسٹوفوریٹی کے بارے میں کہا ہے کہ وہ محض اٹلی کی پہلی خاتون خلا نورد ہی نہیں ہیں جو خلا کے سفر پر ہیں بلکہ وہ خلائی سفر کی تاریخ میں پہلی خلانورد ہیں جو مدار میں اٹلی کی مستند ایسپریسو کا مزہ لیں گی۔

مزید : عالمی منظر