ایران کو جوہری تنازعہ پر دی گئی حتمی مہلت میں اضافے پر غور شروع

ایران کو جوہری تنازعہ پر دی گئی حتمی مہلت میں اضافے پر غور شروع

                        ویانا(آن لائن) مغربی ممالک ایران کے متنازع جوہری پروگرام سے متعلق عارضی معاہدے کو مستقل شکل دینے کے کسی معاہدے پر پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں اور حوالے سے جاری بات چیت کے لیے دی گئی حتمی مہلت میں اضافے کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔آسٹریا کے شہر ویانا میں ایران کے جوہری پرگرام کے حوالے سے بات چیت ہو رہی ہے اور اس حوالے سے کسی معاہدے پر پہنچنے کے لیے پیر تک کی مہلت تھی لیکن ابھی تک کسی معاہدے پر اتفاق رائے نہیں ہو سکا ہے۔بات چیت میں ایران کے علاوہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل اراکین، جرمنی اور یورپی یونین شریک ہیں اور اس بات چیت کا مقصد ایران کے جوہری پروگرام کے متعلق عارضی معاہدے کو مستقل شکل دینا ہے۔امریکہ اور جرمنی دونوں نے کہا ہے کہ طرفین ان کے درمیان موجود ’بڑی خلیج‘ کو کم کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ بات چیت میں شامل فریقین نے کہا کہ وہ بات چیت کی مہلت بڑھانے کے امکان پر بات کر رہے ہیں کیونکہ کسی معاہدے سے ابھی بہت دور تھے۔اس سے پہلے ایک ایرانی خبر رساں ادارے نے بات چیت میں شامل ایک اہلکار کے حوالے سے بات تھا کہ’ پیر تک کسی معاہدے تک پہنچنا ناممکن ہے۔دوسری جانب امریکی صدر براک اوباما نے ’اے بی سی‘ ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے کہا کہ معاہدے سے ہو سکتا ہے کہ ایک طویل عمل شروع ہو جس میں ایران کے دنیا اور خطے کے ساتھ تعلقات تبدیل ہونا شروع ہوں۔تاہم انھوں نے تسلیم کیا کہ دونوں جانب قابل ذکر خلیج موجود ہے اور ایرانی صدر حسن روحانی کو ملک کے اندر کی سیاست سے نمٹنا ہے۔ادھر امریکہ کے محکمہ خارجہ کے ایک سینیئر نے نامہ نگاروں کو بتایا ہے کہ’ ہماری مرکزی توجہ معاہدے کے قریب پہنچنے پر ہے لیکن یہ ایک قدرتی بات ہے کہ مہلت سے 24 گھنٹے پہلے ہم مختلف تجاویز پر بات کر رہے ہیں جن میں سے ایک مہلت بڑھانا بھی ہے۔‘ویانا میں موجود فرانس کے وزیر خارجہ لورانں فیبیوس نے کہا ہے کہ’میں بات چیت کے نتیجے کا پہلے سے اندازہ نہیں لگاو¿ں گا مگر ہم مسلسل کام کر رہے ہیں۔ جرمن وزیرِ خارجہ فرینک والٹر شٹائن مائر نے ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے اب تک ہونے والی بات چیت کو ’تعمیری‘ قرار دیا لیکن انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’ہمیں اس حقیقت کو بھی نہیں چھپانا چاہیے کہ ہمارے درمیان بہت سے پہلوو¿ں پر بڑی خلیج ہے۔‘دوسری جانب جوہری پروگرامز پر نظر رکھنے والے بین الاقوامی ادارے آئی اے ای اے کا کہنا ہے کہ ایران اپنی مشتبہ فوجی سرگرمیوں کے بارے میں خدشات دو کرے جو کہ اس کے جوہری پروگرام سے منسلک ہو سکتی ہیں۔ایران نے آئی اے ای اے سے کہا تھا کہ وہ اگست تک اس بارے میں تفصیلات فراہم کرے گا ۔

تاہم اس نے ایسا نہیں کیا یہاں تک کہ معائنہ کاروں کو ایک اہم فوجی اڈے پارچن میں جانے کی اجازت بھی نہیں دی۔

مزید : عالمی منظر