وزیراعظم کازرعی بجلی پر سبسڈی دینے کا فیصلہ خوش آئند ہے: آرای اے پی

وزیراعظم کازرعی بجلی پر سبسڈی دینے کا فیصلہ خوش آئند ہے: آرای اے پی

لا ہور(وقائع نگار)رائس ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے چیئرمین رفیق سلیمان نے اقتصادی رابطہ کمیٹی کی جانب سے زرعی سیکٹر میں 25 ایکڑسے کم رقبے پر باسمتی چاول کے چھوٹے کاشتکاروںکے لیے دس ارب روپے اورزرعی بجلی پر سبسڈی فراہم کرنے کی تجویز کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم باستمی چاول کے کاشتکاروں کے ساتھ ساتھ نان باسمتی چاول کے کاشتکاروں خصوصا سندھ کے غریب کسانوں کو بھی وفاقی اور صوبائی حکومت کے ذریعے مالی تعاون اور بجلی پر سبسڈی فراہم کرنے کے اقدامات کااعلان کرے یہ بات انہوں نے ریپ کے مرکزی دفتر میں منعقدکیے گئے اجلاس کے موقع پرکہی اس موقع پر سابق چیئرمین رائس ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن عبدالرحیم جانواور سینئر وائس چیئرمین میاں محسن عزیز بھی موجودتھے۔رفیق سلیمان نے کہا کہ باستمی چاول کے مقابلے میں نان باسمتی چاول کی برآمدات کااندازہ گزشتہ مالی سال جولائی 2013 تا جون 2014 تک لگایا جاسکتا ہے گزشتہ مالی سال کے دوران تقریبا سات لاکھ 33 ہزار ٹن باسمتی جبکہ 26لاکھ 27ہزارمیٹرک ٹن نان باسمتی چاول برآمد کیا گیا جس میں سندھ کے کاشتکاروں کا اہم کرداررہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ رواں مالی سال کے جولائی 2014 تا اکتوبر 2014 تک باسمتی چاول تقریباایک لاکھ 97 ہزار میٹرک ٹن جبکہ نان باسمتی چاول چھ لاکھ 24 ہزار میٹرک ٹن برآمدکیا جاچکا ہے لیکن بین الاقوامی مارکیٹ میں جاری مقابلے کی فضاءاور قیمتوں میںکمی کے باعث چاول کی قیمت بری طر ح متاثرہورہی ہے ۔

جس سے باسمتی چاول کے کسانوں ،کاشتکاروں کے ساتھ ساتھ نان باسمتی چاول کے کاشتکاراورکسان بھی متاثرہورہے ہیں ۔رفیق سلیمان نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ کسانوں او رکاشتکاروں کے ساتھ امتیازی سلوک اپنانے کی بجائے تمام صوبوں کے کاشتکاروں اورکسانوں کو یکساں سہولیات،سبسڈی اور مراعات فراہم کرنے کی پالیسی کواپناتے ہوئے سندھ کے غریب کسانوں اورکاشتکاروں کے لیے بھی اقدامات کیے جائیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستانی کی برآمدات میں کمی قابل تشویش عمل ہے کیونکہ ملکی برآمدات ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے لہذا حکومت موجودہ چیلنجوں اورمسائل کومدنظررکھتے ہوئے فوری طورپر برآمدات میں کمی کانوٹس لے ۔

مزید : کامرس