سُپریم کورٹ کا مستقبل چیف الیکشن کمشنر کے تقرر کیلئے مزید مہلت سے انکار

سُپریم کورٹ کا مستقبل چیف الیکشن کمشنر کے تقرر کیلئے مزید مہلت سے انکار

                       اسلام آباد (اے این این، آن لائن) سپریم کورٹ نے حکومت کو مستقل چیف الیکشن کمشنر کے تقرر کے لئے مزید مہلت دینے سے انکار کردیا ہے اور قائم مقام چیف الیکشن کمشنر کے طور پر جسٹس انور ظہیر جمالی کی خدمات پانچ دسمبر سے واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے، اس سلسلے میں سیکرٹری الیکشن کمشن کو آگاہ کردیا گیا ہے۔ چیف جسٹس ناصر الملک نے دوران سماعت ریمارکس دیتے ہوئے کہاہے کہ بادی النظر میں ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ حکومت عدالتی احکام پر عمل درآمد کرنے میں سنجیدہ نہیں ،چیف الیکشن کمشنرکے تقرر کامعاملہ لٹکایاجارہاہے ۔پیرکوچیف جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے مستقل چیف الیکشن کمشنرکے تقرر سے متعلق کیس کی سماعت کی ۔ سماعت کے آغازپر اٹارنی جنرل سلمان اسلم بٹ نے عدالت کو بتایا کہ قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ علاج کی غرض سے ملک سے باہر ہیں اس لیے چیف الیکشن کمشنر کے نام کو حتمی شکل نہیں دی جا سکی، اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر کے نام پر قائد حزب اختلاف سے ٹیلی فون پر بھی مشاورت ہو سکتی تھی۔ انھوں نے کہا کہ قائد حزب اختلاف ملک میں واپس آئیں گے تو پھر وزیر اعظم غیر ملکی دورے پر چلے جائیں گے اور یہ معاملہ اسی طرح طول پکڑتا جائے گا۔بادی النظر میں ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ حکومت عدالتی احکامات پر عمل درآمد کرنے میں سنجیدہ نہیں ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت اس ضمن میں وزیر اعظم اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کو نوٹس جاری کرے گی۔ اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ حکومت عدالتی احکام پر عمل درآمد پر یقین رکھتی ہے اور اس ضمن میں مخلصانہ کوششیں کی جا رہی ہیں اس پر بنچ میں موجود جسٹس گلزار احمد نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ کیا وہ عدالت میں ایسے کوئی شواہد پیش کر سکتے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہو کہ حکومت عدالتی احکامات پر عمل درآمد کے لیے سنجیدہ کوششیں کر رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ایسی صورت حال میں تو وفاقی حکومت کو ایک گھنٹے کی مہلت بھی نہیں دے سکتے۔ اٹارنی جنرل نے پاکستان تحریک انصاف کا نام لیے بغیر کہا کہ ایک سیاسی جماعت نے جلسوں میں حکومت کی طرف سے چیف الیکشن کمشنر کے عہدے کے لیے دیے گئے ناموں کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا جس کے بعد ان شخصیات نے یہ عہدہ قبول کرنے سے معذرت کر لی۔ عدالت عظمی نے مزید وقت دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ یکم دسمبر کو بلدیاتی الیکشن کیس میں یہ معاملہ بھی زیر بحث آئے گا جس کے بعدسماعت ملتوی کردی گئی ۔چندگھنٹوں بعدعدالت کی طرف سے جاری اعلامیے میں کہاگیاکہ سپریم کورٹ نے جسٹس انور ظہیر جمالی کی بطور قائم مقام چیف الیکشن کمشنر کی خدمات واپس لینے کافیصلہ کیاہے ۔ا علامیے میں کہا گیا کہ 5 دسمبر سے جسٹس انور ظہیر جمالی کی خدمات واپس لے لی جائےں گی اوراس حوالے سے الیکشن کمیشن کو آگاہ کردیا گیا ہے۔واضح رہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے حکومت کومستقل چیف الیکشن کمشنرکی تعیناتی کےلئے حکومت کودی گئی حتمی مہلت چوبیس نومبرکو ختم ہوئی اور یہ تیسرا موقع تھا کہ چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی کے لیے عدالتِ عظمی نے حکومت کو مہلت دی تھی۔ چیف الیکشن کمشنر کا عہدہ گذشتہ 16 ماہ سے خالی پڑا ہے اور اس عرصے کے دوران سپریم کورٹ کے حاضر سروس جج قائم مقام چیف الیکشن کمشنر کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے رہے ہیں۔ 13 نومبر کو سپریم کورٹ نے اس عہدے کو پر کرنے کے لیے اپنی ڈیڈ لائن میں توسیع کرتے ہوئے حکومت سے کہا تھا کہ24 نومبر تک چیف الیکشن کمشنر مقرر نہ ہونے کی صورت میں وہ اپنا جج واپس بلا لے گی۔ خیال رہے کہ الیکشن کمیشن کی سربراہی کے لیے وزیر اعظم نواز شریف اور قائد حزب اختلاف خورشید شاہ کے درمیان دو ریٹائرڈ ججوں کے ناموں پر اتفاق ہوا تھا مگر ان دونوں سابق ججوں تصدق حسین جیلانی اور رانا بھگوان داس نے یہ عہدہ سنبھالنے سے معذرت کر لی تھی۔ اٹھاوریںترمیم کے بعد آئین میں چیف الیکشن کمشنر کے تقررکے لیے وضع کیا گیا طریقہ وسیع تر مشاورت پر زور دیتا ہے اور اس میں یہ بھی قید ہے کہ صرف سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج ہی اس عہدے کے لیے نامزد کیے جا سکتے ہیں۔ آئین کے تحت وزیراعظم قائد حزب اختلاف کے اتفاق رائے سے تین امیدواروں کے نام حکومت اور حزب اختلاف کے ارکان پر مشتمل پارلیمانی کمیٹی کو بھیجتے ہیں اور پھر کمیٹی ان میں سے کسی ایک کو اس عہدے کے لیے چنتی ہے جس کا تقرر پھر صدرِ مملکت کرتے ہیں۔ جسٹس ریٹائرڈ فخرالدین جی ابراہیم کے چیف الیکشن کمشنر کے عہدے سے مستعفی ہونے کے بعد موجودہ چیف جسٹس ناصر الملک سمیت سپریم کورٹ کے متعدد جج اس عہدے پر اپنی ذمہ دایاں ادا کرتے رہے ہیں اور اس وقت سپریم کورٹ کے جج انور ظہیر جمالی اس وقت قائم مقام چیف الیکشن کمشنر کی ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں اور 5 دسمبر تک اگر حکومت مستقل الیکشن کمشنر تعینات نہ کرسکی تو پھر یہ عہدہ خالی ہو جائے گا۔آن لائن کے مطابق سپریم کورٹ نے مستقل چیف الیکشن کمشنر کے تقرر کے کیس میں حکومت کو مزید مہلت دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بس بہت ہوگیا‘ مزید وقت نہیں دیں گے‘ وزیراعظم اور قائد حزب اختلاف کو نوٹس جاری ہوں گے ۔ یہ حکم چیف جسٹس ناصرالملک کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے پیر کے روز جاری کیا۔ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ناصرالملک نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کافی وقت دیا ہے مزید وقت نہیں دیں گے۔ جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ حکومت چاہے تو معاملہ ایک دن میں ہی حل ہوسکتا ہے۔ حکومت کو اضافی ایک گھنٹہ بھی نہیں دے سکتے۔ اگر مخلصانہ کوشش کی گئی ہے تو اس کا ریکارڈ عدالت میں پیش کریں۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ اب نئے سرے سے مشاورت کرنا ہوگی۔ قائد حزب اختلاف بیمار اور بیرون ملک ہیں ان کی واپسی پر معاملہ طے کرلیا جائے گا۔ اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ نے تو کہا تھا کہ 24 نومبر تک تقرر کردیا جائے گا، آپ کو بہت سے مواقع دئیے مزید تاخیر نہیں کرسکتے۔ قائم مقام چیف الیکشن کمشنر کا نوٹیفکیشن بھی واپس لیں گے۔ وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کو بھی نوٹس جاری ہوں گے۔ یہ اتنا بڑا معاملہ نہیں کہ جس میں اتنی زیادہ تاخیر کی جارہی ہے۔ اگر ایک عہدے کیلئے یہ حال ہے تو باقی معاملات کیسے چلیں گے۔ بعدازاں عدالت نے آرڈر لکھواتے ہوئے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر کے تقرر کے حوالے سے حکومت کو مزید وقت نہیں دے سکتے۔ حکومت عدالت میں جواب پیش کرے۔ اس معاملے کی یکم دسمبر کو بلدیاتی انتخابات کے مقدمے میں سماعت کی جائے گی۔ بعدازاں عدالت نے کیس کی سماعت یکم دسمبر تک ملتوی کردی۔

مزید : صفحہ اول