چیف الیکشن کمشنر کے تقرر کیلئے سپریم کورٹ کی ڈیڈ لائن آرٹیکل 217سے متصادم

چیف الیکشن کمشنر کے تقرر کیلئے سپریم کورٹ کی ڈیڈ لائن آرٹیکل 217سے متصادم ...

           لاہور(شہباز اکمل جندران/انوسٹی گیشن سیل) پانچ دسمبر کے بعد چیف الیکشن کمشنر کون ہوگا۔آئین کے تحت قائمقام چیف الیکشن کمشنر صرف سپریم کورٹ کا جج ہی ہوسکتا ہے ۔معلوم ہوا ہے کہ سپریم کورٹ نے حتمی طورپر حکومت کوچیف الیکشن کمشنر تعینات کرنے کے لے5دسمبر کی ڈیڈ لائن دی ہے۔اور اپنے حکم میں عدالت نے قرار دیا ہے کہ قائمقام چیف الیکشن کمشنر کی خدمات واپس لی جارہی ہیں۔لیکن یہ حکم 5دسمبر سے موثر ہوگا۔ذرائع کے مطابق سپریم کورٹ گزشتہ ہفتوںسے حکومت پر مستقل چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی کے لیے زور دے رہی ہے۔عدالت نےاس سے قبل چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی کے لیے حکومت کو 28اکتوبر اور بعد ازاں13نومبر اور اس کے بعد24نومبر کی ڈ یڈ لائن دی تھی۔ لیکن حکومت مستقل چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی میں ناکام رہی ہے ۔تاہم بادی النظر میں سپریم کورٹ کی طرف سے حکومت کو دی جانے والی ڈیڈ لائن آئین سے متصادم ہے۔ آئین کے آرٹیکل217کے تحت کمشنر کی غیر حاضری پر عدالت عظمیٰ کا کوئی جج جسے چیف جسٹس نامزد کرے کمشنر کے فرائض انجام دیتا ہے۔معلوم ہواہے کہ سپریم کورٹ نے مستقل چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی کے لیے حکومت کو پہلے 28اکتوبر کی ڈیڈ لائن دی ۔ پھر 13نومبربعد ازاں 24نومبر کی ڈیڈ لائن دی اور اب عدالت نے قائمقام چیف الیکشن کمشنر کے طورپر فرائض انجام دینے والے سپریم کورٹ کے جج جسٹس انور ظہیر جمالی کی باضابطہ واپسی کا حکم جاری کردیا ہے۔ جو کہ پانچ دسمبر سے موثر ہوگا۔ذرائع کے مطابق سابق چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر ) فخرالدین جی ابراہیم کے 31جولائی 2013کو مستعفی ہونے کے بعدسے سپریم کورٹ کے جج چیف الیکشن کمشنر کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔لیکن سپریم کورٹ کی طرف سے حکومت کو دی جانے والی یہ ڈیڈ لائن دستور کے آرٹیکل 217سے متصادم بتائی جاتی ہے۔مذکورہ آرٹیکل کے مطابق کسی وقت جبکہ کمشنر کا عہدہ خالی ہو یا کمشنر غیر حاضر ہو یا کسی وجہ سے اپنے امور و فرائض انجام دینے سے قاصر ہو تو عدالت عظمیٰ کا کوئی جج جسے چیف جسٹس نامزد کرے کمشنر کی حیثیت سے کام کرے گا۔ایسے میں سپریم کورٹ کی یہ ڈیڈ لائن آئین کے برعکس تصور ہوگی۔اور مستقل چیف الیکشن کمشنر کی غیر حاضری میں سپریم کورٹ کے جج کو ہی چیف الیکشن کمشنر کے فرائض انجام دینا ہونگے۔

مزید : صفحہ اول