2018 ئ کے بعد صنعتوں ،سی این جی کو مستقل گیس نہیں ملے گی

2018 ئ کے بعد صنعتوں ،سی این جی کو مستقل گیس نہیں ملے گی

                 لاہور(لیاقت کھرل) گیس کے موجودہ ذخائر اگلے تین سال تک کارآمد اور سال 2018ءکے بعد صنعتوں، سی این جی کو مستقل طور پر گیس نہیں ملے گی۔ جبکہ چولہے بھی ٹھنڈے رہیں گے اس بات کا انکشاف وزارت پٹرولیم اور سوئی نادرن گیس کمپنی کے انجینئروں پر مشتمل ماہرین کی تیار کردہ رپورٹ میں ظاہر کیا گیا ہے ۔ انجینئرز کی تیار کردہ رپورٹ میں گیس کے ذخائر میں کمی ہر سال پونے تین لاکھ سے تین لاکھ کنکشن کی فراہمی کو ظاہر کیا گیا ہے۔ جس میں ہر سال گیس کے نئے کنکشن میں تو اضافہ ہو جاتا ہے، لیکن اس کے مقابلہ میں گیس ذخائر نہ بڑھنے پر ہر سال گیس ذخائر میں 120سے 150ملین کیوبک فٹ کمی واقع ہو جاتی ہے گزشتہ دس سے بارہ سالوں میں 25سے 28لاکھ سے زائد گیس کنکشن کی فراہمی سے گیس ذخائر 1860ملین کیوبک فٹ سے کم ہو کر 1340ملین کیوبک فٹ رہ گئے ہیں، ماہرین نے اپنی رپورٹ میں مشورہ دیا ہے کہ اس میں ایران گیس پائپ لائن منصوبہ کو مکمل کرنے سے گیس کی کمی کو دور کیا جا سکتا ہے، یا پھر ایل این جی درآمد کرنا پڑے گی، اور ایل این جی کے ساتھ ساتھ ایل پی جی کے فارمولے پر بھی عملہ کرنا پڑے گا ، وگرنہ 2018ءتک گیس کے موجودہ ذخائر 500سے 660ملین کیوبک فٹ رہ جائیں گے، جس سے پنجاب اور کے پی کے 52لاکھ سے زائد صارفین گیس کی شکل تک کو ترس جائیں گے اور گیس کے جو ذخائر بچ جائیں گے ، اس سے لاہور کے 10سے 12لاکھ صارفین کی ڈیمانڈ بھی پوری نہیں کی جا سکے گی۔ذرائع نے بتایا ہے کہ انجینئروں کی تیار کردہ رپورٹ کو وزیر اعظم کو پیش کر دیا گیا ہے، جس پر ایل این جی اور ایل پی جی اور کمرشل صافرین کی ڈیمانڈ کو پورا کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ جس میں سی این جی سیکٹر کیلئے بھی ایل این جی درآمد کی جائے گی جس میں حکومت معاونت کرے گی، جبکہ ایل پی جی سے بھی گیس بحران پر قابو پایا جائے گا، ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم کے حکم پر انجینئرز کی تجاویز پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کیلئے سوئی گیس کمپنی میں ایل این جی ڈویژن قائم کر دی گئی ہے۔ جبکہ ایل پی جی پر کام کرنے واے شعبہ اور مارکیٹنگ کمپنیوں کا اجلاس طلب کر لیا گیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اگلے سال مارچ سے گیس بحران پر قابو پانے کا عندیہ دیا گیا ہے۔ جبکہ اس حوالے سے گیس کمپنی کے سینئر جنرل منیجر سہیل گلزار کا کہنا ہے کہ گیس کے موجودہ ذخائر انتہائی ناکافی تاہم اس حوالے سے پاک ایران گیس منصوبہ اور ایل این جی منصوبہ سمیت مختلف منصوبوں پر کام شروع کر دیا گیا ہے۔

گیس ذخائر

مزید : صفحہ آخر