امریکی پالیسیاں بری طرح ناکام ہوئیں ،حکومت کیخلاف’ داعش‘ بنائی گئی،بھارت امن کی خواہش کو کمزوری نہ سمجھے: وزیردفاع خواجہ آصف

امریکی پالیسیاں بری طرح ناکام ہوئیں ،حکومت کیخلاف’ داعش‘ بنائی گئی،بھارت ...
امریکی پالیسیاں بری طرح ناکام ہوئیں ،حکومت کیخلاف’ داعش‘ بنائی گئی،بھارت امن کی خواہش کو کمزوری نہ سمجھے: وزیردفاع خواجہ آصف

  

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) وفاقی وزیردفاع خواجہ آصف نے کہاہے کہ خطے میں امریکی پالیسیاں بری طرح ناکام ہوئی ہیں ، شام میں حکومت کیخلاف بنائی گئی ’داعش‘ آج اسلام کی بدنامی کا باعث بن رہی ہے ، پاکستان آج بھی بھارت کے ساتھ دوستانہ تعلقات چاہتاہے لیکن امن کی خواہش کو کمزوری نہ سمجھاجائے ۔

تقریب سے خطاب اور میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے وزیردفاع خواجہ آصف نے بتایاکہ امن اور معیشت ایک دوسرے سے منسلک ہیں ، دنیا میں ایک سپر پاور ہے جس کی وجہ سے حالات خراب ہورہے ہیں ،داعش کو شام میں حکومت کیخلاف بنایاگیاتھا لیکن آج وہ اسلام کی بدنامی کا باعث بن رہی ہے ،داعش کے لوگوں کو جنیوامیں ملاقات کے لیے کیوں بلایاگیاتھا؟

وزیردفاع نے کہاکہ افغانستان میں امن کے بغیر پاکستان میں امن ممکن نہیں ، افغانستان میں امن کے لیے پاکستان کو کردار اداکرناہو گا۔

اُنہوں نے بتایاکہ وزیراعظم نواز شریف آج سارک کانفرنس میں شرکت کے لیے کھٹمنڈوروانہ ہورہے ہیں ،پاکستان نے دہشتگرری کے خلاف پاکستان نے بہت قربانیں دیں ، قبائلی علاقوں میں دہشتگردی کے خلاف جنگ جاری ہے جس دوران تمام شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کررہے ہیں،دہشتگردی پر قابوپانے کے لیے پاکستان روس سے جدید اسلحہ خریدے گا۔

خواجہ آصف کاکہناتھاکہ انتہائی پسندی اور توانائی پاکستان کے دوبڑے مسائل ہیں ، نواز شریف دوارب لوگوں کی خواہش کے مطابق امن چاہتے ہیں ۔اُن کاکہناتھاکہ امریکہ کے ساتھ دفاع سمیت مختلف معاہدے کیے لیکن مستقبل میں جوبھی معاہدے کریں گے ، اپنی ضروریات کو مدنظررکھیں گے ، دودہائیوں سے امریکہ نے پاکستان پر اعتماد نہیں کیاگیا، تعلقات بہتر گہرے ہیں مگر تسلسل نہیں رہا، اب جوبھی معاہدے کریں گے ، اپنی ضروریات کو مدنظررکھیں گے ۔

وزیردفاع نے کہاکہ برصغیر میں امن چاہتے ہیں ، مسائل مذاکرات سے حل کرناچاہتے ہیں ،سارک کانفرنس میں بھارت تلخی کم کرے ، پاکستان آج بھی بھارت کے ساتھ دوستانہ تعلقات چاہتاہے ،بھارت سے عزت ووقار کے ساتھ امن چاہتے ہیں لیکن امن کی خواہش کو کمزوری نہ سمجھاجائے ، امیدہے کہ باھرت سے دوطرفہ تعلقات بہترہوں گے ۔

مزید : قومی /Headlines