افغانستان میں امریکا نے ایک پٹرول پمپ کتنے ارب روپے میں بنایا؟ قیمت اور وجہ جان کر آپ کے واقعی ہوش اُڑ جائیں گے

افغانستان میں امریکا نے ایک پٹرول پمپ کتنے ارب روپے میں بنایا؟ قیمت اور وجہ ...
افغانستان میں امریکا نے ایک پٹرول پمپ کتنے ارب روپے میں بنایا؟ قیمت اور وجہ جان کر آپ کے واقعی ہوش اُڑ جائیں گے

  


نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی محکمہ دفاع نے شمالی افغانستان میں ایک گیس سٹیشن کی تعمیر پر 4کروڑ30لاکھ ڈالرز (تقریباً4ارب 32کروڑ روپے) خرچ کر دیئے ہیں تاہم یہ وضاحت نہیں کی گئی کہ ایک گیس سٹیشن بنانے پر اتنی بھاری رقم کیوں خرچ کی گئی ہے۔نیوز ویب سائٹ Pogo.orgکی رپورٹ کے مطابق کانگریس کی تشکیل کردہ باڈی سپیشل انسپکٹر جنرل فار افغانستان ری کنسٹرکشن (ایس آئی جی اے آر)کے سربراہ جان سپوکو کا کہنا ہے کہ پنٹا گون نے اس گیس سٹیشن کی تعمیر کیلئے ٹیکس دہندگان کے 43ملین ڈالر وصول کئے ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ دنیا کا سب سے مہنگا گیس سٹیشن ہے۔

مزید جانئے: دنیا کے وہ ممالک جن کے پاس مسلح افواج نہیں

یہ رقم گیس سٹیشن کی تعمیر اور اسے ابتدائی طور پر فعال کرنے کیلئے 2011ء سے2014ء کے درمیان خرچ کی گئی ہے۔ شبرغان کے علاقے میں یہ گیس سٹیشن 2012ء میں کھولا گیا تھا تاکہ یہ دکھایا جا سکے کہ افغانستان میں کاروں میں سی این جی موثر طور پر استعمال کی جا سکتی ہے۔ مارچ میں اس منصوبے پر کام کرنے والی ٹاسک فورس نے آپریشن بند کر دیا۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ افغانستان کے پڑوسی ملک پاکستان میں ایک سی این جی سٹیشن کی تعمیر پر5 لاکھ ڈالر(تقریباً5کروڑ روپے ) سے زیادہ لاگت نہیں آتی۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو افغانستان میں لگنے والے اس گیس سٹیشن پر 140گنا زیادہ لاگت آئی ہے۔

مزید جانئے: امریکی مافیا بھی داعش کے خلاف اٹھ کھڑ۱ ہو۱ ، جرائم پیشہ گروہ کے سربراہ نے اہم اعلان کر دیا

محکمہ دفاع کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ پنٹاگون کی طرف سے ایس آئی جی اے آر کو ایک ریڈنگ روم کے ذریعے دستاویزات تک رسائی کا عمل جاری ہے۔ لیفٹیننٹ کرنل جو سوورز نے کہا ہے کہ اس کے ساتھ ساتھ ہم نے ایس آئی جی اے آر کو یہ پیشکش بھی کی ہے کہ اگر وہ سابق ٹاسک فورس کے کسی اہلکار کا انٹرویو کرنا چاہیں تو اس ضمن میں بھی معاونت فراہم کی جا سکتی ہے۔ واضح رہے کہ نائن الیون کے بعد افغانستان پر حملے کے وقت سے اس کی تعمیر نو کیلئے واشنگٹن کی طرف سے قریب 110ارب ڈالر خرچ کرنے کے دعوے کئے جا چکے ہیں۔

مزید : ڈیلی بائیٹس