جنگلی حیات کیلئے محفوظ علاقوں کی دوبارہ حد بندی کرنا ضروری ہوگیا

جنگلی حیات کیلئے محفوظ علاقوں کی دوبارہ حد بندی کرنا ضروری ہوگیا

لاہور(اپنے نمائندے سے)موسمی تغیرات اور تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادیوں کے باعث جنگلی جانوروں اور پرندوں کی پناہ گاہوں میں تبدیلیاں آرہی ہیں جس کے باعث گیم ریزروزاورجنگلی حیات کے لئے محفوظ قرار دیئے گئے علاقوں کی دوبارہ حد بندی کرنا ضروری ہوگیا ہے تاکہ ان کی نسل محفوظ بنا کر انکی افزائش میں اضافہ کیا جاسکے،ڈائریکٹر جنرل جنگلی حیات و پارکس خالد ایاز خان نے یہ بات یہاں محکمہ کی تاریخ میں پہلی بار منعقد کئے جانے والے ہنٹرز سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔اس موقع پر اعزازی گیم وارڈن پنجاب شاہ رخ بٹ ، نواب آف کالا باغ ملک عبدالوحید اور صوبہ بھر سے آئے ہوئے قانونی شکاریوں کے علاوہ محکمہ کے افسران بھی موجود تھے ۔انہوں نے کہا کہ سیمینار کا بنیادی مقصد قانونی شکار کو فروغ دینا اور اسے باقاعدہ سپورٹس کے طور پر رواج دینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ قانونی شکاریوں کو دوران شکار پیش آنے والے مسائل کے حل میں سنجیدہ ہے اور اس ضمن میں تیار کردہ حکمت عملی کو حتمی شکل دی جارہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ قانونی شکار کو فروغ دینے اور غیرقانونی شکار کرنے والوں کی حوصلہ شکنی کے لئے مختصر مدتی ، وسط مدتی اور طویل مدتی پالیسیاں تشکیل دی جارہی ہیں۔

جن پر جلد عملدرآمد شروع کردیا جائے گا،خالد ایاز خان نے کہا کہ صوبہ بھر میں موجود شوٹنگ لائسنس ہولڈرشکاریوں کے ریکارڈ کو کمپیوٹرائزڈ کرنے کا فیصلہ کرلیا گیاہے اور ان کے تمام ریکارڈ کو آن لائن کردیا جائے گا اور بٹن دباتے ہی صوبہ میں موجود کسی بھی شکاری کا تمام ریکارڈ سامنے آجائے گا۔انہوں نے کہا کہ قانونی شکاریوں کا ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ کرتے وقت ان کے پاس شکار کے لئے موجود اسلحے کا بھی اندراج کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت صوبہ میں تقریبا 350ایسے سینٹرز موجود ہیں جہاں خفیہ طریقے سے جنگلی جانوروں اور پرندوں کی خریدوفروخت کا غیرقانونی کاروبار کیا جارہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ان سینٹرز کے مالکان کو لائسنس حاصل کرنے کا پابند بنایا جارہا ہے،ڈی جی وائلڈ لائف نے کہا کہ محکمہ کے پاس صوبہ بھر میں صرف 925 افراد کا فیلڈ سٹاف ہے جس میں واچر، انسپکٹرز، سپروائزر، ڈسٹرکٹ آفیسر اور ڈپٹی ڈائریکٹر شامل ہیں جبکہ محکمہ کے زیر نگرانی 52لاکھ 54ہزار ایکڑ علاقہ ہے اور سٹاف کی کمی کے باعث اتنے بڑے علاقے کی نگرانی کرنا ممکن نہیں۔انہوں نے کہا کہ قانونی شکاریوں کو سہولیات دے کر ان سے اس سلسلہ میں مدد لی جائے گی اور ان سے حاصل کردہ معلومات و اطلاعات کی روشنی میں غیرقانونی شکاریوں کو پکڑنا ممکن ہوسکے گا،خالد ایاز خان نے کہا کہ محکمہ جنگلی حیات قانونی شکاریوں کو دوران شکار پیش آنے والے مسائل کے حل میں سنجیدہ ہے اور اس سلسلہ میں مربوط حکمت عملی ترتیب دی جا رہی ہے۔چولستان میں دسمبر میں ٹرافی ہنٹنگ کے بارے میں انتظامات کا جائزہ لیا جار ہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبہ بھر کے تمام شکاریوں کا ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس میں شکار میں استعمال ہونے والے اسلحے کا ریکارڈ بھی موجود ہوگا۔قانونی شکار کے فروغ اور غیرقانونی شکار کی حوصلہ شکنی کیلئے ضلعی سطح پر تحفظ جنگلی حیات کمیٹیاں بنائی جا رہی ہیں۔ان کمیٹیوں میں محکمہ جنگلی حیات کے افسران، مقامی قانونی شکار اور علاقے کی بااثر شخصیات شامل ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ قانونی شکار کے فروغ کیلئے ضلع کی سطح پر واکس اور سیمینارز کا انعقاد کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ شکار کا لائسنس دیتے وقت شکاریوں کو وائلڈلائف ایکٹ بارے آگاہی فراہم کی جائے گی جبکہ کمیونٹی بیسڈ آرگنائزیشن کے نظام کو مزید بہتر بنایا جا رہا ہے۔قانونی شکاریوں کے تجربات سے فائدہ اٹھایا جائے گا اور ان کی مثبت تجاویز پر عمل کیا جائے گا،قبل ازیں سیمینار میں شریک قانونی شکاریوں نے دوران شکار اور لائسنس کے حصول کے حوالے سے اپنے مسائل پیش کئے جس پر ڈی جی وائلڈ لائف نے انہیں ان کے مسائل کے حل اور ہرممکن تعاون بارے یقین دہانی کروائی

مزید : کامرس