ہائیڈرو پاور کووہ توجہ نہیں دی جا رہی جسکا یہ شعبہ مستحق ہے

ہائیڈرو پاور کووہ توجہ نہیں دی جا رہی جسکا یہ شعبہ مستحق ہے

لاہور(کامرس ڈیسک) یونائیٹڈ بزنس گروپ نارتھ زون کے چئیرمین اور ایف پی سی سی آئی کے صدارتی امیدوار عبدالرؤف عالم نے کہا ہے کہ ہائیڈرو پاور بجلی کی پیداوار کا سب سے سستا، دیرپااور آلودگی سے پاک زریعے ہے مگر اسے وہ توجہ نہیں دی جا رہی جسکا یہ شعبہ حقدار ہے۔ملک میں مختلف مقامات پر65000 میگاواٹ بجلی کی پیداوار کے منصوبوں کی نشاندہی کی جا چکی ہے جبکہ ماہرین کے مطابق پوٹینشل ایک لاکھ میگاواٹ سے زیادہ کا ہے جسکا فائدہ اٹھایا جائے۔عبد رؤف عالم جو اسلام آباد چیمبر کے فاؤنڈر گروپ کے چئیرمین بھی ہیں نے الیکشن مہم کے سلسلہ میں دئیے گئے ایک ظہرانے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پن بجلی کی پیداواری لاگت سب سے کم 1.25 روپے فی یونٹ ہے جوکوئلے سے بجلی کی پیداوار کی صورت میں12.5 روپے، تیل سے پیداوار کی لاگت16 روپے، ونڈ پاور14 روپے اور شمسی توانائی 22 روپے ہو جاتی ہے۔پن بجلی کے ایک بڑے منصوبے پر اختلافات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک لابی نے درجنوں منصوبوں کو سست روی کا شکار کر دیا تاکہ ملک میں بجلی کی کمی پر مچنے والے شور سے فائدہ اٹھاتے ہوئے جلد از جلد تیل کے بجلی گھر لگوا کر مفادات پورے کئے جائیں۔اس وقت پن بجلی کے 87 منصوبوں کی نشاندہی ہو چکی ہے جو بجلی کی پیداوار کے علاوہ 42 ملین ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کر کے لوڈ شیڈنگ اورسیلاب کے تدارک کے علاوہ فوڈ سیکورٹی کا مسئلہ حل کر سکتے ہیں جن میں تاخیر ملک و قوم کیلئے خطرناک ہو گی۔

صرف دیامربھاشا ڈیم کی تعمیر میں تاخیر سے ملک کو سالانہ تین ارب ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے جو ناقابل برداشت ہے۔ اگلے پندرہ سال میں بجلی کی پیداوار میں پچاس ہزار میگاواٹ کا اضافہ نہ ہوا تو رہی سہی معیشت بھی بیٹھ جائے گی جسکا واحد حل ہائیڈرو پاور ہے۔ انھوں نے کہا کہ ستر کی دھائی تک واپڈا ایک انتہائی فعال، شفاف اور دنیا بھر میں عزت کی نظر سے دیکھا جانے والے محکمہ تھا مگر1976 کے بعد اعلیٰ عہدوں پربددیانت اورنا اہل افراد کی سیاسی بنیادوں پر تعیناتی سے صورتحال بدل گئی۔ جب تک اس محکمے کو دوبارہ اسکا کھویا ہوا مقام دلانے کیلئے اقدامات نہیں کئے جاتے پاکستان میں توانائی کا بحران حل نہیں ہو گا۔

مزید : کامرس