عمران خان کے لئے ابھی اڑھائی سال باقی ہیں

عمران خان کے لئے ابھی اڑھائی سال باقی ہیں
عمران خان کے لئے ابھی اڑھائی سال باقی ہیں

  


آج کل سوشل میڈیا پر ایک دلچسپ سیاسی پیغام چل رہا ہے، جس پر بہت سارے کمنٹس اور لائیکس بھی دیکھنے کو مِل رہے ہیں۔میسج کچھ یوں ہے کہ ’’پنجاب میں مسلم لیگ (ن)،دیہی سندھ میں پیپلزپارٹی، شہری سندھ میں ایم کیو ایم ، مردان میں جے یو آئی (فضل الرحمن)، فیس بُک اور ٹوئیٹر پر تحریکِ انصاف جبکہ اخبارات میں جماعتِ اسلامی ملک کی مقبول ترین سیاسی جماعتیں ہیں‘‘۔ حالیہ بلدیاتی انتخابات کا تجزیہ کیا جائے تو یہ بات درست نظر آتی ہے ۔ پہلے مرحلے کی طرح دوسرے مرحلے میں بھی پنجاب میں مسلم لیگ(ن) 1056نشستیں لے کر پہلے نمبر، آزاد اُمیدوارجن کی غالب تعداد کو مسلم لیگ(ن) کا اُمیدوار ہی کہا جانا چاہئے، 920نشستیں لے کر دوسرے نمبر پر، جبکہ تبدیلی کی دعویدار تحریکِ انصاف 332نشستیں لے کر تیسرے نمبر پر ہے جبکہ سندھ میں پیپلز پارٹی پہلے اور باقی جماعتیں دوسرے، تیسرے ، چوتھے، پانچویں نمبر پر ہیں۔ یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ پہلے مرحلے میں شکست کے بعد تحریکِ انصاف نے پنجاب اور سندھ کے جن اضلاع میں بھرپورانتخابی مہم چلائی ، خود عمران خان دِن میں دس دس کارنر میٹنگز سے خطاب کر تے رہے، لیکن نتیجہ وہی نکلا کہ دوسرے مرحلے میں بھی شکست مقدر بنی۔

دوسرے مرحلے کے نتائج پر چودھری محمدسرور جن کو پہلے مرحلے میں شکست پر شفقت محمود کی پیروی کرتے ہوئے اپنے عہدے(وسطی پنجاب کی آرگنائزرشپ) سے استعفیٰ دے دینا چاہئے تھا ، کہتے ہیں کہ پہلے مرحلے میں دس فیصد نشستیں ’’نہایت بہتر‘‘ اور اب15فیصد نشستیں ’’بہترین کارکردگی‘‘ ہے؟ اب چودھری صاحب سے یہ کون عرض کرے کہ خود اُن کا کپتان اپنی جماعت کو چاروں صوبوں کی زنجیر کہتا ہے(پی پی پی کی نقل میں) اور کارکردگی اِتنی مایوس کن کہ دس اور15 فیصد نشستوں کو عظیم کامیابی قرار دیا جارہا ہے۔ خود عمران خان اپنے آبائی حلقے عیسیٰ خیل (میانوالی) میں 15میں سے 14سیٹوں پر شکست کھا گئے۔ تو کیا چودھری صاحب نے یہ بات انتہائی ناقص کارکردگی پر اپنی خفت مٹانے کے لئے کی ہے؟ تحریکِ انصاف کو اپنی پے در پے ناکامیوں پر سنجیدگی سے سوچنا ہوگا۔ 2013ء میں جن لوگوں نے عمران خان کو ووٹ دیا ، اب کیا وجہ ہے کہ انہوں نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا ہے۔ شاید’’ تبدیلی‘‘ کے خواہاں لوگ یہ سمجھ چکے ہیں کہ گالم گلوچ، بدزبانی، الزام تراشی اور ابے تبے والا رویہ مُلک و قوم کو کچھ نہیں دے سکتا البتہ نئی نسل کی اخلاقیات کوضرور برباد کرسکتا ہے۔

جہاں تک مسلم لیگ(ن)کی بات ہے تو دھرنے والی سیاست کے دِنوں میں لیگ اور حکومت میں خود اعتمادی کاجو فقدان ہوگیا تھا، اب وہ ختم ہوچکاہے۔ ضمنی انتخابات، کنٹونمنٹ بورڈ اور اب بلدیاتی انتخابات میں شاندار کامیابی نے میاں برادران اور ان کی حکومت کو جِنوں کی طرح کام کرنے میں لگا دیا ہے۔ بڑے میاں صاحب ایک شہر میں کسی میگا پراجیکٹ کا افتتاح کر رہے ہوتے ہیں تو چھوٹے میاں صاحب کسی دوسرے شہر میں موجود ہوتے ہیں۔ حکومت کو اعتماد ہے کہ 2018ء تک بجلی کے بحران پرقابو پالیا جائے گا۔ توانائی کے نئے منصوبوں پر نظرڈالی جائے توحکومت کا یہ اعتماد کچھ ایسا بے جا نظر نہیں آتاکہ جو منصوبے 2013ء کے بعد شروع ہوئے وہ سب 2018ء میں مکمل ہوگئے تو 15000 میگاواٹ بجلی نیشنل گرڈ میں شامل ہوجائے گی۔ حکومت کی یکسوئی اور سول،ملٹری تعلقات میں ہمواری اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ یہ منصوبے ضرور پورے ہوں گے اور پھر جیسے گزشتہ کالم میں بھی عرض کیا تھا کہ ضربِ عضب سے دہشت گردوں کی کمر ٹوٹ چکی، کراچی ، فاٹا، بلوچستان آپریشن مُلک کی روشنیاں واپس لارہا ہے۔ گوادر پورٹ، سی پیک(چائنہ پاکستان اقتصادی راہداری) روزگار کے مواقع ، تعلیم ، صحت اور بنیادی ضروریات پر حکومت کی توجہ ظاہر کرتی ہے کہ مُلک بہتری کی طرف گامزن ہے۔

اب خبریں آرہی ہیں کہ تحریکِ انصاف نے قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ صاحب سے بھی رابطہ کیا ہے کہ اسمبلی میں حکومت کو ٹف ٹائم دیا جائے اور تگڑی اپوزیشن کی جائے۔ ہم تویہی بات بہت عرصے سے کہہ رہے ہیں کہ حکومت کے ساتھ ساتھ اپوزیشن بھی مضبوط ہو، تاکہ حکومت پر تعمیری تنقید ہو سکے اور وہ مزید موثر انداز میں ڈیلیور کرے۔ پنجاب اور سندھ میں بلدیاتی انتخابات میں ناکامی کے بعد خان صاحب اپنا زیادہ وقت خیبر پختونخوا کے معاملات کو دینے لگے ہیں تو یہ اچھی بات ہے۔ عمران خان صاحب کے پی کے میں اپنی کارکردگی دکھائیں، وہاں نیا خیبر پختونخوا بنائیں ، اسے نئے پاکستان کے لئے ماڈل بنائیں اور پھر 2018ء کے انتخابی منشور میں یہی بات کہیں کہ میرے پاکستانیو! میں نے نیا خیبر پختونخوا بنادیا، اب مجھے نیا پاکستان بنانے کے لئے ووٹ دو۔اگلے انتخابات میں ابھی ڈھائی سال ہیں۔ کیا خیبر پختونخوا کے عوام کے لئے خوش قسمتی کے دِن آگئے ہیں کہ اب ان کا وزیراعلیٰ، صوبائی وزراء اور منتخب نمائندے بنی گالہ کی بجائے ان کے شہروں میں ملیں گے۔

مزید : کالم