لاہوربورڈ میں انتظامی اور مالی بے ضابطگیاں

لاہوربورڈ میں انتظامی اور مالی بے ضابطگیاں
لاہوربورڈ میں انتظامی اور مالی بے ضابطگیاں

  

قارئین آج ہم بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن لاہور میں پائی جانے والی انتظامی اور مالی بے ضابطگیوں کے بارے میں پردہ اٹھائیں گے۔ لاہور بورڈ میں سب سے پہلے امتحان دینے والے پرائیویٹ طالبعلموں کی فیسوں، رجسٹریشن اور پروسیسنگ فیس میں کئی گنا اضافہ کردیا گیا۔ اس کے نتیجہ میں کم آمدنی والے والدین کے بچوں کے لئے تعلیم جاری رکھنا ناممکن ہوکررہ گیا۔ دوسری جانب لاہور بورڈ میں ایک مافیا کام کررہا ہے جو نالائق طالبعلموں سے بھاری رقم بٹور کر ایسے طالبعلموں کے (Marks) نمبر بڑھاتا ہے۔ فیل ہو جانے والے طالبعلموں کو کامیاب کراتا ہے اور جن طالبعلموں کے نمبر کم آتے ہیں ان کے نمبر بڑھائے جاتے ہیں۔ یہ تمام گھناؤنا دھندا لاہور بورڈ کے چیئرمین، کنٹرولر آف امتحانات (Controller of examinations) اور سیکرٹری بورڈ کی سرپرستی میں انجام پارہا ہے بورڈ میں اس وقت تینوں افسران کا عرصہ تعیناتی مکمل ہوچکا ہے مگر عارضی طورپر یہ افسران اپنے اثرورسوخ سے بورڈ میں براجمان ہیں۔ وزیرتعلیم پنجاب کو ان افسران کی جگہ اہل اور باصلاحیت افسران دستیاب نہیں ہیں۔ ایسا نہیں ہوسکتا۔ چیئرمین لاہور بورڈ کئی مہینوں سے عبوری طورپر یہ امور سرانجام دے رہے ہیں اور بتایا گیا ہے کہ بورڈ کے کنٹرولر امتحانات کا عارف ہائی سکول لاہور میں تبادلہ ہوچکا ہے مگر وہ بھی بطور کنٹرولر آف امتحانات کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔ سیکرٹری بورڈ بھی عبوری طورپر اپنے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔

تینوں عہدوں پر ابھی تک مستقل باصلاحیت اور ایماندار افسران کی تعیناتی کیوں نہیں کی ہوئی یہ ایک سوالیہ نشان ہے۔ کہا یہ جاتا ہے کہ ان افسران کو چیف منسٹر سیکرٹریٹ کی حمایت حاصل ہے اس لئے انہیں اپنے عہدوں کی مدت پوری ہوجانے کے باوجود لاہور بورڈ سے ٹرانسفر نہیں کیاجارہا ۔ جب کنٹرولر امتحانات اور PROبورڈ سے رابطہ کیا گیا تو کنٹرولر نے بتایا کہ ہاں میرا تبادلہ عارف ہائی سکول ہوا ہے۔ صبح وہاں جاتا ہوں دوسرے وقت یہاں آتا ہوں۔ مجھے ایڈیشنل چارج ملا ہوا ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کوئی تحریری حکم نامہ دکھائیں تو جواب دیا ضروری نہیں۔ PROنے بتایا کہ ان کی سمریاں متعلقہ حکام کے پاس بھیجی ہوئی ہیں مگر ابھی تک فیصلے کا انتظار ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ بورڈ میں ان افسران کے ایما پر مخصوص کارندے یہ کام کرتے ہیں ایسے طالبعلم جو امتحان میں فیل ہوجاتے ہیں یا جنہوں نے ہائر ایجوکیشن میں داخلہ لینے کے لئے اپنے مارکس میں اضافہ کروانا ہوتا ہے بورڈ کے مذکورہ کارندے ایسے طالبعلم کو پرچوں کی دوبارہ پڑتال (Rechecking)کے ذریعے ان سے حل شدہ پرچے کرواتے ہیں۔ فعل طالب علموں کو نئی آنسر شیٹ Answer Sheetمہیا کی جاتی ہے اور اس پر وہی SA/CSO نمبر درج کردیا جاتا ہے جو پہلی آنسر شیٹ پر درج ہوتا ہے۔ ان سے دوبارہ ایسے سوالات کے جوابات لکھوا کر انہیں پاس ہونے کا رزلٹ کارڈ جاری کردیا جاتا ہے۔ری چیکنگ فارم کی شق نمبر 1کے مطابق طالبعلم کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ اصل سند یا رزلٹ کارڈ کی تصحیح کے لئے سیکنڈری سکول /انٹرمیڈیٹ پارٹ I/II علوم شرقیہ برانچ کے متعلقہ آفیسر سے رابطہ کریں۔

قارئین بتایا جاتاہے کہ مذکورہ پرچوں کو پروسیس کرنے کا عمل ایک دن میں مکمل کرلیاجاتا ہے۔ مذکورہ مضامین /پرچوں کے ری چیکنگ کی فوٹو کاپیاں ارباب اختیار کو پیش کی جاسکتی ہیں۔ بورڈ رولز کے مطابق طالب علم کو پرچوں کی ری چیکنگ کرانے کے لئے رزلٹ آنے کے بعد 15یوم میں درخواست دی جاسکتی ہے۔ اس عرصہ میں ہزاروں طالبعلم اپنے پرچوں کی پڑتال کے لئے درخواستیں دیتے ہیں۔ بورڈ کے مخصوص کارندے فیل/ مارکس (Marks)میں اضافہ کروانے کے حوالے سے طالبعلموں یا ان کے والدین سے لاکھوں روپے بٹورتے ہیں تو دوسری جانب ذہین طالبعلموں سے اپنی محنت سے اچھے نمبر لے کر کامیاب قرار پاتے ہیں ان کا مستقبل تباہ کرتے ہیں۔ایسے طالب علم جن کی آنسر شیٹ (Answer Sheet)میں دوران امتحان خالی جگہ رہ جاتی ہے اور اس میں ایک یا دوسوالات کے جوابات لکھے جاسکنے کی گنجائش ہو اس خالی جگہ میں جوابات طالبعلم سے لکھوا کر اس کے عوض تیس سے پچاس ہزار روپے تک بٹورے جاتے ہیں۔ اس پرچہ میں طالبعلم کے نمبر بڑھا دیئے جاتے ہیں۔ ایسے فیل طالبعلم جو ایک سے زائد مضامین میں پاس ہونا چاہتے ہوں ان سے ہر مضمون کے پاس کرانے کا الگ الگ معاوضہ طے کیا جاتا ہے۔ اس طریقے سے بھاری رقوم وصول کی جاتی ہیں جبکہ دوسری جانب عام طالبعلم جب اپنے پرچوں کی پڑتال کے لئے فارم جمع کراتے ہیں تو انہیں پرچہ کی چیکنگ کے لئے جب بلایا جاتا ہے تو ایسے طالبعلموں کو سیکریسی (Secracy Branch)برانچ میں اکیلے بھیجا جاتا ہے۔ دوران چیکنگ طالبعلم کے ساتھ کسی ایک فرد کو جانے کی اجازت نہیں ہوتی۔ طالبعلم کو پرچہ دکھایا جاتا ہے۔ اس کی پہچان کراکے اسے کہا جاتا ہے کہ اس کو چیک کر لو۔ چار سے پانچ منٹ میں پرچہ دکھا کر فارغ کردیا جاتا ہے۔ اگرپرچہ میں طالبعلم اپنے مارکس کے بارے میں سوال کرتا ہے تو اسے سختی سے کہا جاتا ہے کہ ہم اس میں کچھ نہیں کرسکتے جو پرچہ میں مارکنگ ہوچکی ہے وہی فائنل ہے۔ اگر کسی پرچہ میں سوال کے نمبر نہیں لگے ہوتے تو طالبعلم نشاندہی کرتا ہے کہ اس سوال کے نمبر نہیں لگے تو طالب علم کے سامنے اسے کراس (Cancel)کردیا جاتا ہے۔ اس طرح کا معاندانہ رویہ اپنایا جاتا ہے اور طالبعلم کو فارغ کردیا جاتا ہے اور وہ مایوسی کے عالم میں واپس لوٹ آتا ہے۔ ہماری رائے میں ہونا تو یہ چاہئے کہ پرچہ کی ری چیکنگ کے دوران اس کے والدین میں سے ایک فرد کو طالبعلم کے ہمراہ جانا چاہئے

ہماری وزیراعلیٰ پنجاب جناب میاں محمد شہباز شریف سے التماس ہے کہ لاہور بورڈ کے موجودہ افسران کو بورڈ سے فی الفور تبدیل کیا جائے۔ باصلاحیت اور ایماندار افسران کا مستقل تقرر کیا جائے جن بے ضابطگیوں کے بارے میں نشاندہی کی گئی ہے۔ ان کی فی الفور غیرجانبدارانہ تحقیقات کروائی جائے اور ثابت ہونے پر ان کے خلاف تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ اس اقدام سے عوام کا ادارہ پر اعتماد بحال ہوگا۔ سیکریسی برانچ کے عملہ کو فی الفور تبدیل کیا جانا چاہئے۔ اس برانچ میں ایسے ملازمین کا تقرر کیا جائے جو پرچوں کی پڑتال کے دوران طالبعلموں کو خوفزدہ کرنے کی بجائے خوش اخلاقی اور نرم رویہ سے پیش آئیں اور طالبعلموں کی دوران پڑتال پوری طرح تسلی کروائیں۔ اس وقت پنجاب میں 9بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن کام کررہے ہیں ۔ تمام بورڈز میں شفافیت اور ان میں کارکردگی کو بہتر کرنے کے لئے مؤثر اقدامات عمل میں لائے جانے چاہئیں۔ ان تمام بورڈز میں دوران امتحانات سپرنٹنڈنٹس /ڈپٹی سپرنٹنڈنٹس کی تعیناتی متعلقہ ضلع /شہر ہی سے کی جانی چاہئے۔ اس پر عملدرآمد سے ادارہ سے جو T.A/D.A کی بھاری رقم ادا کی جاتی ہے اس میں واضح کمی ہوگی۔ امید ہے ہماری مذکورہ تجاویز کو وسیع تر قومی مفاد میں عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے گا۔

مزید :

کالم -