عمران خان کے انقلاب کی حقیقت

عمران خان کے انقلاب کی حقیقت
 عمران خان کے انقلاب کی حقیقت

  

پچھلے دنوں اسلام آباد میں انتہائی اہم حکومتی شخصیت سے ملاقات ہوئی۔ اقتدار کے ایوان میں مختصر وقت گذارنے کے بعد احساس ہوا وہاں مکمل اعتمادپایا جاتا ہے۔ یہ بھی محسوس ہوا وہاں اب کوئی بھی عمران خان کو سنجیدگی سے نہیں لے رہا۔ فارغ ہو کر باہر نکلتے وقت پنجاب پولیس کے ایک سابقہ اعلی افسر سے بھی سلام دعا ہوئی۔ ماضی میں وہ بھی عمران خان کی شعلہ بیانی کا شکار ہو چکے تھے۔ انہیں چھیڑتے ہوئے تبصرہ مانگا تو بولے ’’خان صاحب کے ہاتھوں وقت نکل چکا،اب ان کے ہاں کوئی نہیں آئے گا‘‘۔ آئی جی رینک کے یہ افسر ادب سے بھی شغف رکھتے ہیں، نہ جانے وقت نکلنے سے ان کی کیا مراد تھی؟ چلئے کبھی موقع ملا تو کراچی،کلفٹن والے بھائی خواجہ عاکف سے پوچھیں گے۔ ایک واقعہ ان کے پاس بھی محفوظ ہے۔’’ ک اور ق‘‘ کے فرق کے گرد گھومتا یہ واقعہ پھر کبھی بیان کریں گے۔ فی الحال کچھ ذکر عمران خان کے بارے میں۔

کیا وقتی سکوت کا مطلب پاکستان تحریک انصاف کی مقبولیت میں کمی سے تعبیر ہوگا؟۔ کیا تبدیلی کا خواہشمند معاشرہ عمران خان سے منہ موڑ رہا ہے؟۔ کیا تیسری قوت کا خواب دیکھتے دوبارہ ٹو پارٹی سسٹم کی طرف مائل ہوں گے؟۔۔۔ یا۔۔۔تبدیلی کا نشان ، عمران خان غلط فیصلوں کی بدولت پکی فصل کو اپنے ہی ہاتھوں جلا کر راکھ کرتا رہے گا؟۔ خان صاحب کے سارے غلط فیصلے ایک طرف اور تنظیمی معاملات سے لاتعلقی دوسری طرف؟۔ طویل عرصے سے محسوس ہو رہا تھا پارٹی میں عمران خان کا کردار فقط نئے آنے والوں کی شمولیت پر جذباتی تقریر تک محدود ہو چکا ہے۔ شہروں، قصبوں ، دیہاتوں میں موجود پرانے تنظیمی عہدیداروں کو خدا کے آسرے پر چھوڑ دیا گیا ہے، ابتدائی دنوں کے ساتھیوں کو ،جو ابھی تک میدان میں ڈٹے ہوئے ہیں اور تحریک مخالف پروپیگنڈے پر ایک منٹ کے لئے بھی کان دھرنے پر تیار نہیں۔

ذرا تفصیل سے بات کرتے ہیں۔ پہلا نکتہ تو یہ سونامی کھڑکی توڑ رش کا مرحلہ پھلانگ کر’’طویل وقفے‘‘ کے فیز میں اٹک چکی ہے۔ اٹھان کے ابتدائی دنوں میں یوں محسوس ہورہا تھا، جیسے زرد چہروں اور حسرت کی تصویر بنے لوگوں کے پاس عمران خان کے سواء کوئی آپشن نہیں بچا ۔ پاکستان کے رومانوی، افسانوی اور کنگال نوجوان بھی اندھا دھند عمران خان کے پیچھے بھاگ رہے تھے۔ انہیں ایسا مسیحا نظر آرہا تھا جو پلک جھپکتے تمام محرومیوں کو دور کر دے گا،لیکن وہ وقت آنے سے قبل ہی خان اپنی دشمنی پر خود ہی آمادہ ہوگیا۔ خان کو جہاں اتھارٹی اور گرج چمک دکھانی چاہئے تھی وہاں پارٹی کے اندر ’’جمہوری روایات‘‘ کے خواب میں الجھ گیا ۔ پارٹی الیکشن،اظہار رائے،ضلعی صدور کو تفویض کردہ شتر بے مہار آزادی۔۔۔ پی ٹی آئی ایسے تجربے میں پھنس گئی جس کے نتائج کا کسی کو علم نہیں تھا؟ عام انتخابات سر پر تھے،میدان سج چکا تھا اور مخالفین پروپیگنڈے کی مشینیں لے کر گلیوں میں نکل آئے تھے، جبکہ خان صاحب پارٹی کو ’’ایشیاء میں اپنی نوعیت کی واحد جمہوری پارٹی‘‘ کہلوانے پر تلے ہوئے تھے۔ بہت بہتر ہوتا ،اگر خان صاحب وقتی طور پر عظیم الشان پارٹی بنانے کی سوچ کو لات مارتے اور بڑے فیصلوں کا بیڑہ اٹھا لیتے۔ سب سے پہلے ان مرکزی عہدیداروں سے بازپرس کی جاتی جو ملک کے طول و عرض میں پھیلے’’رائی کے دانے‘‘ جیسے جماعتی اختلافات کو حل کرنے میں ناکام ثابت ہو رہے تھے۔ یہ مرکزی عہدے دار اس قدر نا اہل تھے اپنے مخلص کارکنوں کو اکٹھے بٹھا کر جپھی تک بھی نہ لگوا سکے۔ دوسری توجہ ان بوجھ نما پرانے ساتھیوں پر کرنی چاہئے تھی جو خان کو منکوحہ سمجھتے ہوئے کسی غیر کو پاس پھٹکنے ہی نہیں دیتے تھے۔ تیسرا وار ان ضلعی، سٹی عہدیداروں پر ہونا چاہئے تھا جو یونین کونسل سطح کے اختلافات کی گٹھڑی اٹھائے خان کی تاک میں لگے رہتے تھے اور چوتھا وار اپنی اس میڈیا ٹیم پر جو گھر بیٹھے خود ہی تصور کرچکی تھی یہ پاکستان بھر کے صحافیوں کی آسمانی ذمہ داری ہے وہ خان صاحب کی متوقع جیت کے متعلق لکھتے ہی چلے جائیں۔

اگر خان صاحب احتساب پر آمادہ ہیں تو اپنے ان ساتھیوں سے بھی بازپرس کریں جو آتے جاتے کلین سویپ کی خوشخبریاں سناتے تھے۔ اگر وہ ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھنا چاہتے ہیں تو ان کالم نگاروں اور اینکروں کو بھی آئینہ دکھائیں جنہوں نے خان صاحب کو ماورائی کردار بنانے کی خاطر ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا۔ آج یہ لکھاری کہتے ہیں خان میں فلاں خامی ہے، وہ غلط فیصلوں کا عادی ہے،وہ کسی کی مانتا نہیں۔۔۔تو جناب والا اسے اس سٹیٹ آف مائنڈ تک پہنچانے والا کون ہے؟۔ یہ لوگ خود ذمہ دار ہیں۔ کیا ا نہیں علم نہیں تھا خان ایک اچھا کھلاڑی تو ہوسکتا ہے سیاست دان یا سماجیات کا ماہر قطعا نہیں۔ انہوں نے کیونکر خان کو باور کروایا وہ ایک مقدس وجود کی مانند پاکستان بھر کی آخری امید ہے۔ انہی تحریروں اور تجزیوں نے خان کے دماغ کومن مانیوں کے ساتویںآسمان پر پہنچا دیا ۔ اگر کوئی تنقید کرنے کی جرات کرتا تو اسے مسلم لیگ یا پیپلز پارٹی کا ایجنٹ قرار دے دیا جاتا یا انقلاب کی راہ میں رکاوٹ کہہ کر دھتکار دیا جاتا۔ حقیقت یہ تھی لوگ پیپلز پارٹی سے اکتا چکے تھے،مسلم لیگ پر بھروسہ کرنے کے معاملے میں رائے ڈگمگا رہی تھی۔ ان حالات میں عمران خان نے ٹارزن کی مانند چھلانگیں مارتے ہوئے لوگوں کو باور کراویا میں ہی وہ تاریخ ساز شخص ہوں جس کی قوم پینسٹھ سالوں سے منتظر تھی۔ مجھے موقع دو میں اندھے کو آنکھیں، لنگڑے کو ٹانگیں اور ہیجڑے کو مردانگی لوٹا دوں گا۔ عمران خان اتنے عظیم الشان دعوے کرنے لگے جنہیں سن کر سماجیات کے ماہرین تک انگشت بدنداں رہ گئے۔ یہ سارے دعوے چیخ چیخ کر گواہی دے رہے تھے عمران خان ایک انتہائی ناتجربہ کار اور کچی سوچ کی حامل شخصیت کے مالک ہیں، جس نے معاشرتی بے چینی کے ردعمل میں اصل ہیروز کو بھی ابھرنے سے روکا۔ عمران خان بالادست طبقات کے لئے پریشر ککرکی وسل کی مانند بھاپ اڑانے کے لئے استعمال ہوئے۔ لوگوں کے دلوں میں بھڑکتا الاؤ امیروں کی بستیوں کو جلانے کی بجائے فقط عمران خان کی وجہ سے گندے نالوں میں جا گرا۔ اگر خان صاحب نجات دہندہ ہونے کا دعوی نہ کرتے تو ایک ایسی احتجاجی تحریک کو کوئی نہیں روک سکتا تھا جسے سو فیصد نچلے طبقات کی حمایت حاصل ہونا تھی۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کیا عمران خان انقلابی تھے یا انقلاب کی راہ میں رکاوٹ؟۔ عمران خان کے ماضی کو پرکھیں تو کسی قسم کی انقلابی سوچ یا عمل کا دور دور تک سرا نہیں ملتا۔ ان کا رہن سہن، دوست احبات اور مشاغل ارسٹوکریٹک سوچ کا اظہار کرتے ہیں۔ پتا نہیں انہوں نے عمر کے کس حصے میں کسی انقلابی لیڈر کے بارے میں کوئی فلم دیکھ رکھی تھی یا کسی تاریخی ہیرو کے متعلق کتاب کے چند پیرے رٹ رکھے تھے جو وہ خود کو اٹھتے بیٹھے انقلابی کے روپ میں دیکھنے لگے۔ اگر وہ حقیقتا انقلابی ہوتے تو احتجاج کے جس درجے پر پہنچ چکے تھے وہاں ریاستی حقوق کی خاطر حکمرانوں کو بڑی آئینی تبدیلیوں پر مجبور کر سکتے تھے، لیکن انہیں انقلاب کی الف،ب تک کا بھی علم نہیں تھا۔ ان کی نظروں میں انقلاب کا مطلب فقط ’’وزیر اعظم کا استعفی ‘‘ تھا۔ اگر وہ چاہتے تو کنٹیٹر پر کھڑے ہوکر پولیس نظام میں بنیادی تبدیلیوں کی شرط منوا سکتے تھے۔ اگر وہ چاہتے تو جاگیرداریت اور زمین کی حد ملکیت کی بحث شروع کرواسکتے تھے۔ کئی حل طلب ایشوز ایسے تھے، جن کی خاطر قوم سال ہاسال سے ترس رہی تھی، لیکن عمران خان ان تمام مسائل کو بھلا کر فقط استعفے ، اسمبلیوں کی برخاستگی اور نئے انتخابات جیسے فضول ایشوز میں الجھ گئے۔

چلتے چلتے ایک اور واقعہ سن لیجئے کہ عمران خان کا اپنی پارٹی پر کتنا اختیار تھا یا وہ فیصلوں میں کتنی اہمیت رکھتے تھے۔ پچھلے عام انتخابات سے قبل عمران خان نے پارٹی ٹکٹ بانٹنے کی خاطر امیدواروں کے خود انٹرویوز کرنے کا فیصلہ کیا۔ اسلام آباد کے اس فائیو سٹار ہوٹل میں، میں بھی موجود تھا جہاں انٹرویوز کا سلسلہ جاری تھا۔ خان صاحب نے خیر سے انٹرویوز کیا کرنے تھے وہ ایک جھلک دکھلا کر غائب ہوگئے۔ کبھی امیدوار لابی میں بیٹھتے، کبھی لان میں آلتی پالتی مار کر براجمان ہوجاتے اور کبھی باری کے انتظار میں ہال کے چکر لگاتے۔ اسی دوران غلغلہ اٹھا اور اس وقت کے پارٹی سرخیل اعجاز چوہدری ایک کالم نگار کے ساتھ انٹرویو ہال سے نمودار ہوئے۔ انہیں دیکھتے ہی ایک خوش پوش نوجوان آگے بڑھا اور تکرار کرتے ہوئے کہنے لگا ’’میں سینکڑوں کلومیٹر کا سفر طے کرکے انٹرویو کے لئے حاضر ہوا ہوں، لیکن مجھے کسی نے بلانا تک گوارہ نہیں کیا۔ ٹکٹ نہ سہی، لیکن آپ نے کال کی تھی کم از کم مجھے سن ہی لیا ہوتا‘‘۔ وہ مسلسل تکرار کئے جا رہا تھا اور اعجاز چوہدری اسے گولی دیتے ہوئے دھیرے دھیرے خارجی دروازے کی طرف بڑھتے چلے جا رہے تھے۔ باہر نکلے تو وہ نوجوان جذباتی ہوگیا اور کہنے لگا وہ گھر جا کر کیا منہ دکھائے ۔۔۔ابھی لقمہ اس کے منہ میں ہی تھا کہ خان کے پسندیدہ کالم نگار نے بدتمیزی کے تمام درجے طے کرتے ہوئے کہا’’ تم نے کیا تماشہ لگا رکھا ہے۔ چلے آتے ہیں ٹکٹ مانگنے۔ جاؤ بھاگ جاؤ‘‘۔ اس نوجوان کی آنکھوں میں آنسو آگئے، مارے ندامت پاؤں زمین میں گڑ گئے اور وہ کالم نگار بڑے کروفر سے اعجاز چودھری کے ساتھ پراڈو میں بیٹھ کرنِکل گیا۔ معاملہ کارکن اور پارٹی ٹکٹ کا، لیکن دھتکارنے والا ایک کالم نگار۔ تو جناب خان صاحب آج تحریک انصاف کا جو حشر ہورہا ہے اور جومتوقع ہے، وہ کوئی اچنبھے والی بات نہیں۔ سیاست کا آپ کو علم نہیں۔ فیصلوں کے ردعمل کے علم سے آپ ناواقف ہیں ۔ سیاست کو کھیل کے انداز میں کرنے کے تجربے سے آپ نے باز نہیں آنا۔ کسی کی غمی خوشی میں آپ شریک نہیں ہوتے۔ سیکنڈ کلاس لیڈر شپ آپ کی نا اہل ہے۔ پھر کس بیوقوف نے آپ سے کہہ دیا ایسے انقلاب لائے جا سکتے ہیں۔ کیا انقلاب لمبی لٹوں والے چند ’’فن کاروں‘‘ کے شور و غل سے برپا ہوتے ہیں؟۔ انقلاب اور سرخ رنگ کے روح افزاء شربت میں بڑا فرق ہوتا ہے۔ غلط فیصلے آپ کریں اور شرم لوگوں کو دلائیں۔ پہلے آپ بڑے وثوق سے فیصلہ کرتے ہیں ۔ جب کوئی سمجھانے کی کوشش کرتا ہے تو آپ ڈیڑھ ڈیڑھ فٹ اونچی چھلانگیں مارتے ہوئے اس پر حملہ آور ہوتے ہیں۔ بعد میں جب فیصلہ حلق کا کانٹا بن جائے تو آپ غلطی ماننے کی بجائے الٹا لوگوں کو شرم دلانا شروع کر دیتے ہیں۔ آپ نے لفظ ’’شرم‘‘ کو اس بیدردی سے استعمال کیا ہے کہ وہ اپنی حرمت تک کھو چکا ہے۔کیا آپ کی پارٹی کا ڈھلوان کا سفر شروع نہیں ہوگیا ؟

مزید : کالم