فضائی دہشت گردی کا جِن (1)

فضائی دہشت گردی کا جِن (1)

پنجابی میں ایک ضرب المثل ہے کہ خاتون کا گورا رنگ اس کے ہزاروں عیب چھپا لیتا ہے۔۔۔ امریکہ ایک ایسی ہی خاتون ہے جس کا نہ صرف رنگ گورا ہے بلکہ فَرفَر انگریزی بھی بولتی ہے! بعض اوقات تو یہ خیال بھی آتا ہے کہ خود خدا بھی ان امریکیوں (اور سفیدفام روسیوں) کے ساتھ ملا ہوا ہے وگرنہ دنیا بھر کی اقوام پر بالعموم اور مسلم امہ پر بالخصوص انہوں نے جو ظلم و ستم ڈھائے اور اب تک ڈھا رہے ہیں ان کا کوئی نہ کوئی بدلہ تو ان کو ضرور ملتا ۔لیکن ربِ کائنات نے تو ان کو ایسی ایسی نعمتوں سے نواز رکھا ہے جو یادش بخیر کبھی ہم مسلمانوں کا مقدر ہوا کرتی تھیں۔ لیکن ۔۔۔ابھی نہیں تو کبھی نہیں۔۔۔ امریکہ کو ہی دیکھ لیں۔ اس کے دونوں ساحلوں پر خدائے بحر و بر نے اپنے دو عظیم بحور (بحرالکاہل اور بحر اوقیانوس) پھیلا دیئے ہیں۔ اس کی خشکی پر ایسا کون سا ارضی گراؤنڈ فیچر ہے جو اپنی پوری جغرافیائی آب و تاب سے چمک نہیں رہا۔ اس کے پہاڑ، آبشار، ندیاں، نالے، جنگل، سبزہ زار، صحرا اور بستیاں سب دیکھنے سے تعلق رکھتی ہیں۔اسی لئے تو ایک پاکستانی شاعر نے امریکہ کے بارے میں یہ شعر کہہ کر گویا پوری مسلم امہ کی ترجمانی کردی تھی:

خدا تیری طرف تھا ورنہ جتنے میرے نالے تھے

ستم گر! کون کہتا ہے کہ خالی جانے والے تھے

لیکن وہ جو کہتے ہیں ناں کہ ہر سورج غروب ہو جاتا ہے اور ہر دوپہر، شام میں ڈھل جاتی ہے تو فطرت کا یہ اٹل اصول تو آخر امریکہ جیسی قتالہ ء عالم پر بھی لاگو ہونا ہے۔ خونِ ناحق کا انتقام اس سے آخر کسی نے تو لینا ہے۔ کوئی قیس تو ہو گا جو ’’بروئے کار‘‘ آئے گا۔۔۔یہ اور بات ہے کہ ہم جیسے بے بس لوگ صرف فطرت کے انتقام کا انتظار ہی کرتے رہتے ہیں لیکن اپنی طرف سے اس انتقام کی تکمیل میں کوئی حصہ نہیں ڈالتے۔ ظلم کو ہاتھ سے روکنے کی بجائے صرف اس کو دل میں برا بھلا کہہ کر حدیثِ نبویﷺ پر عمل پیرا ہو لیتے ہیں۔۔۔ صدیوں سے مسلم امہ نے یہی وتیرہ اپنایا ہوا ہے۔ کوئی ہمیں کتنا بھی ستالے، ہم ’’ھل من مزید‘‘ کہہ کر حریصِ لذتِ آزار رہتے ہیں۔ آسمان کی طرف بار بار نگاہیں اٹھاتے ہیں اور یہ نہیں جانتے کہ آسمان والا اس وقت تک زمین والوں کے جبر و جور سے صَرفِ نظر کرتا رہتا ہے جب تک کوئی حد سے تجاوز نہیں کرتا۔ وہ مسلمان اب کہاں ہیں جو قیامت کا انتظار نہیں کیا کرتے تھے، خود قیامت بن جایا کرتے تھے!۔۔۔ ان کا راسخ عقیدہ وہی تھا جو مولانا روم نے بیان کیا ہے:

پس قیامت شو، قیامت را بہ بیں

دیدنِ ہر چیز را شرط است ایں

کالم کی یہ تمہید اس لئے باندھنی پڑی کہ مجھے یوں محسوس ہو رہا ہے کہ جس خدائے بزرگ و برتر نے امریکہ والوں کو اپنی بے پایاں عنایات سے نواز رکھا تھا وہ اب مزید ان کا کفران برداشت نہیں کر سکتا۔کسی مس امریکہ کو تخلیق کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ اس کی نگاہِ ناز پر کوئی لائسنس ہی نہ ہو اور اسے ایان علی کی طرح سب کچھ فری (Free) کر دیا جائے۔ آخر کسی مظلوم کی آہ پر تو مشیتِ ایزدی برہم ہوتی ہی ہوگی! یہ جس واقعہ کا ذکر کرنے لگا ہوں وہ میشتِ ایزدی کی اسی برہمی کا شاخسانہ ہو سکتا ہے جس کا آغاز مشرق وسطیٰ کے ایک مسلمان ملک ،مصر کی طرف سے ہوا اور بعدازاں پیرس کے دھماکوں کی صورت میں بھی بارِ دگر نمودار ہوا۔

پہلا واقعہ جو ایک روسی ہوائی جہاز کے صحرائے سینا کے اوپر فضا میں کریش کر جانے کا ہے اس کا نوٹس دنیا نے کماحقہ طور پر نہیں لیا۔ یہ جہاز 31اکتوبر 2015ء کو مصر کے ایک پر فضا شہر، شرم الشیخ سے 224 روسی سیاحوں کو لے کر پیٹرز برگ (روس) جا رہا تھا کہ صحرائے سینا پر فضا میں دھماکہ ہوا، جہاز دو ٹکڑے ہو گیا اور مسافروں میں سے کوئی بھی زندہ نہ بچا۔۔۔ دوسرا واقعہ 13اور14نومبر 2015ء کو پیرس میں سات دھماکوں کا ہے جس میں 130فرانسیسی مارے گئے اور368 زخمی ہوئے۔ پیرس کا یہ واقعہ، ہوائی حادثے کا گویا تتمہ (Supplement) تھا جس کی وضاحت ہم آگے چل کر کریں گے۔۔۔بظاہر یہ فضائی کریش کچھ ایسا انہونا ہوائی حادثہ نہیں تھا۔ جب سے شہری ہوا بازی (سول ایوی ایشن) کا آغاز ہوا ہے، اس سے ملتے جلتے اور اس سے کہیں زیادہ تباہ کن حادثات رونما ہو چکے ہیں۔ یہ حادثہ بھی ایسے ہی گزر جاتا اگر داعش اس کی ذمہ داری قبول نہ کرتی۔ داعش (ISIS) نے حادثے کے اگلے ہی روز مصر میں اپنے ہیڈکوارٹر (قاہرہ) سے ایک سنسنی خیز بیان جاری کیا اور ساری دنیا کو یہ کہہ کر ورطہ ء حیرت میں ڈال دیا کہ یہ حادثہ اس نے کروایا ہے اور وہ آئندہ بھی ایسے ہی حادثات کا ارتکاب کرتی رہے گی!۔۔۔ اور ساتھ ہی (شائد) اس صدی کی سب سے بڑی یہ خبر بھی بریک کی کہ دھماکہ ایک سوڈاکین (Soda Can) کی مدد سے کیا گیا ہے۔ سوڈا کین وہی کین (ڈبہ) ہے جس کو ہم پیپسی (Pepsi)، 7اَپ (7up) اور فانٹا (Fanta) وغیرہ کی صورت میں خرید کر نوش جاں کرتے رہتے ہیں۔اس میں پانی (سوڈا) کا وزن صرف چوتھائی لیٹر ہوتا ہے جو درمیانے درجے کے ایک گلاس کے حجم کے برابر ہوتا ہے۔ تاہم اس سے پیاس بجھ جاتی ہے۔

داعش نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ہی اس فضائی حادثے کو ماسٹر مائنڈ کیا ہے۔ تفصیل یہ دی کہ پہلے ایک سوڈا کین کا پیندا کاٹ کر خالی کیا، پھر اس میں بارود بھرا اور کین کے پیندے کو ایسی صفائی سے دوبارہ بند کر دیا کہ کسی کو بھی معلوم نہیں ہو سکتا تھا کہ یہ کین (Can) مشکوک ہے۔ اس کین کو ایکسپلوڈ (Explode) کرنے کے دو طریقے تھے۔ ایک یہ کہ کوئی شخص جہاز کے اندر ہی بیٹھا ہو اور جب جی چاہے ریموٹ کا بٹن دبائے، بدنہ ء جہاز (Body of the Plane) میں دھماکہ ہو اور جہاز فضا ہی میں ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے!۔۔۔ داعش کے ہیڈکوارٹر نے نہ صرف حادثے میں استعمال کئے جانے والے سوڈا کین (Soda Can) کی تصویر شائع کی بلکہ ساتھ ہی ایک فیوز اور ڈٹیونیٹر کی تصویر بھی شامل کر دی کہ ان کو کہاں کہاں رکھ کر کین میں بھرے بارودی مواد کو Explode کیا گیا تھا۔۔۔۔ دوسرا طریقہ اس کین کو بھک سے اڑانے کا یہ ہو سکتا ہے کہ کین (Can) میں ایک چھو ٹاسا ٹائمر (Timer) لگا دیا جائے جو وقت مقررہ پر خود بخود اس کو دھماکے سے اُڑا دے۔ یہ طریقہ بہت محفوظ سمجھا جاتا ہے۔ کسی خودکش بمبار کو تیار کرنے اور جہاز میں بٹھانے کی ضرورت نہیں رہتی ۔ یہ سب کام ایک ننھا سا (Timer) کر دیتا ہے۔اب تک اس جہاز کے ملبے سے جو شواہد ملے ہیں، وہ اسی طرف اشارہ کر رہے ہیں کہ اس کین کو ’’ٹائمر‘‘ سے بلاسٹ کیا گیا۔

یہاں دو سوال پیدا ہوتے ہیں۔۔۔ (1) کیا کسی جہاز کو فضا میں بھک سے اُڑانا ایسا ہی آسان ہوتا ہے؟۔۔۔ (2) کیا ایسا ممکن ہے کہ سوڈا واٹر کے چھوٹے سے ایک ڈبے (Can) سے اتنا بڑا نقصان کر دیا جائے۔۔۔ میں دوسرے سوال کا جواب پہلے قارئین کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔۔۔جو لوگ دنیا بھر میں بم سازی کے کام پر مامور کئے جاتے ہیں یا بم ڈسپوزل سکواڈ کا حصہ بنائے جاتے ہیں، ان کی متفقہ رائے یہ ہے کہ ایسا کرنا ممکن ہے۔۔۔ داعش کا یہ دعویٰ کہ اس کے کسی وِنگ (Wing) نے یہ کام انجام دیا ہے، بالکل قابلِ یقین اور ممکن الوقوع ہے۔ بظاہر تو یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ داعش نے خواہ مخواہ اپنا رعب جمانے، دنیا کو خائف کرنے اور دہشت پھیلانے کے لئے یہ سٹوری گھڑی ہے۔ لیکن گارجین اور نیویارک ٹائمز نامی اخبارات نے اپنے ذرائع سے جو معلومات اکٹھی کی ہیں، ان کا لب لباب یہ ہے کہ : ’’یہ تصاویر جو داعش نے آن ائر کی ہیں، یہ نئی نہیں ہیں اور کسی بھی تجربہ کار بم ساز کے لئے یہ بم بنا لینا قطعاً کوئی مشکل نہیں۔۔۔ تصویر میں جو تاریں (Wire) نظر آ رہی ہیں وہ بلاسٹنگ کیپ (Blasting Cap) کی رابطہ برقی تاریں ہو سکتی ہیں۔ اس ڈبے (CAN) کے اندر ایک تو چھوٹے سائز کی بیٹریاں ہو سکتی ہیں اور دوسرے وہ الیکٹرانک سنسر اور آلات ہو سکتے ہیں جو کیپ تک چارج پہنچانے کی خاطر بنائے گئے ہوں گے، پھر یہ کیپ اس بارودی مواد (Explosives) کو بھک سے اڑانے کا فنکشن کرے گی جس سے دھماکہ ہو جائے گا۔۔۔ اس کین میں استعمال کیا گیا بارودی مواد سیال نہیں، ٹھوس ہو سکتا ہے۔۔۔‘‘

ہوائی جہاز کے اس حادثے کی ابھی تحقیقات ہو رہی ہیں۔۔۔ یہ تحقیق ایک نہایت پیچیدہ اور وقت طلب کام ہے جس پر تقریباً دو ماہ لگ سکتے ہیں۔ ڈسپوزل سکواڈ کے ایک آفیسر نے یہ رائے دی ہے کہ اگر کین میں ٹھوس بارودی مواد کو ٹھونس ٹھونس کر بھرا جائے تو یہ ایک قابل لحاظ Indigeneous Explosive Deviceبن سکتا ہے جو کسی بھی جیٹ ہوائی جہاز کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ یہ بات بھی قارئین کے ذہن میں ہونی چاہیے کہ نارمل ہینڈ گرنیڈ (دستی بم) میں جتنا بارود استعمال ہوتا ہے، اس سے زیادہ مقدار اس کین (Can) میں سما سکتی ہے۔۔۔جس جہاز کو حادثہ پیش آیا وہ فرانسیسی ساختہ A321 قسم کا جہاز تھا جس کا فلائٹ سیفٹی ریکارڈ بہت شاندار بتایا جاتا ہے۔کوئی قاری اگر اس حادثے کی ٹیکنیکل تفصیلات جاننے کا خواہاں ہو تو وہ انٹرنیٹ پر جاکر سب کچھ معلوم کر سکتا ہے۔ آج تک شہری ہوا بازی (Civil Aviation) کے باب میں جتنے بھی حادثے ہوئے ہیں، ان میں اس قسم کا دیسی (Indigenous) بم، شاذ ہی کبھی استعمال کیا گیا ہو۔۔۔ طیارہ سازی کی صنعت نسبتاً ایک کم عمر صنعت ہے۔ دسمبر 1903ء میں پہلا ہوائی جہاز رائٹ برادران نے امریکہ میں اُڑایا تھا۔ اس کے بعد کی ہوا بازی کی تاریخ بڑی تیزی سے مرتب ہوئی اور طیاروں کا فوجی اور سول استعمال اپنے عروج کی طرف گامزن ہونے لگا۔

میرے کئی عزیز آرمی ملٹری ایوی ایشن (ہیلی کاپٹر وغیرہ) کی یونٹوں میں Serveکر رہے ہیں، کئی بین الاقوامی پروازوں پر آتے جاتے ہیں۔ بوئنگ اور ائر بس اڑانے کا سالہا سال کا تجربہ ان کی پشت پر ہے۔ میرا ایک نواسہ حال ہی میں والٹن ائرپورٹ کے فلائنگ کلب میں بطور انسٹرکٹر Select ہو کر زیر تربیت پائلٹوں کو پڑھا (اور سکھا) رہا ہے۔ مَیں خود ستائی نہیں کر رہا یہ بتانے کی کوشش کر رہا ہوں کہ جو کچھ آپ پڑھ رہے ہیں وہ بہت حد تک مصدقہ ہے۔ مَیں نے ان سب سے بات کی اور پوچھا کہ اس فضائی حادثے کا سبب کیا یہی سوڈا کین ہے؟

ان عزیزوں اور دوستوں سے جو معلومات حاصل ہوئیں ان کی بعض تفصیلات ٹیکنیکل نوعیت کی ہیں اور جب تک آپ ہوا بازی کی ابجد سے واقف نہ ہوں، ان کی سمجھ مشکل سے آتی ہے۔۔۔ میرا پہلا سوال ہوا بازوں سے یہ تھا کہ اگرکسی سوڈا کین سے کسی جہاز کو اس آسانی سے، دوران پرواز دھماکے سے اُڑایا جا سکتا ہے تو کیا مستقبل میں اسی ’’طرزِ دہشت گردی‘‘ کو عام نہیں کیا جا سکتا؟ ان کا جواب تھا کہ کیا جا سکتا ہے۔۔۔ دوسرا سوال یہ تھا کہ کیا اس ایکشن کے خلاف کوئی احتیاطی تدابیر کارگر ہو سکتی ہیں؟ ان کا جواب تھا کہ کوئی بھی احتیاطی تدبیر100فیصد کارگر نہیں ہو سکتی۔۔۔ تیسرا سوال یہ تھا کہ کیا امریکہ، یورپ اور باقی ساری دنیا میں صنعتِ ہوا بازی کا مستقل داؤ پر لگا نظر نہیں آتا؟۔۔۔ ان کا جواب تھا کہ بالکل ساری دنیا میں ائر ٹریفک کا نظام برگ آوارہ کی طرح بکھر کر رہ جانے کا اندیشہ سامنے نظر آ رہا ہے۔ اس میں دیر ہو سکتی ہے لیکن اس خوف کو یکسر ختم نہیں کیا جا سکتا ۔۔۔۔ نو گیارہ کے حادثے کے بعد امریکہ میں ہوائی سفر کا ٹریفک 60فیصد تک کم ہو گیا تھا۔۔۔یہ جِن عالمی دہشت گردی کا وہ جِن ہے جو شرم الشیخ سے پیٹرزبرگ جاتے ہوئے دورانِ پرواز فضا ہی میں سوڈاکین سے نکل کر A321کے ساتھ زمین پر آ چکا ہے ۔۔۔اور اب واپس نہیں جا سکتا!(جاری ہے)

مزید : کالم