ڈی پورٹ ہونے والوں کا مسئلہ طے!

ڈی پورٹ ہونے والوں کا مسئلہ طے!

  

پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان یورپی ممالک سے ڈی پورٹ کر کے پاکستان بھیجے جانے والے افراد کے بارے میں معاملات طے پا گئے اور وزیر داخلہ کی ہدایت پر جو معاہدہ معطل کیا گیا اسے بحال کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان نے گزشتہ دِنوں یورپی یونین کے ساتھ غیر قانونی طور پر گئے افراد کو واپس بھیجنے کے مسئلے پر سخت نوٹس لیا اور معاہدہ معطل کرتے ہوئے مطالبہ کیا تھا کہ پہلے ایسے لوگوں کی باقاعدہ تحقیق کی جائے کہ ان کی قومیت پاکستانی بھی ہے یا نہیں، اور یہ تصدیق پاکستانی حکام سے رابطے کے بعد کی جائے۔وزیر داخلہ کے اس دو ٹوک موقف کے بعد یورپی یونین میں کھلبلی مچی اور یورپی یونین کے مائیگریشن کمشنر خود اسلام آباد آئے اور وزیر داخلہ سے تفصیلی تبادلہ خیال کے بعد یقین دلایا کہ مستقبل میں اسی طریق کار پر عمل ہو گا۔ یوں پاکستان کے موقف کو تسلیم کر لیا گیا اور جائز طور پر سخت رویہ اختیار کرنے کا پھل بھی مل گیا۔ وزیر داخلہ کی طرف سے یہ فیصلہ اس بنا پر کیا گیا کہ یورپ کے ممالک کی طرف سے بلا تحقیق لوگوں کو ڈی پورٹ کر کے پاکستان بھیج دیا جاتا ان کی شہریت بھی مشکوک ہوتی ان میں کئی مبینہ دہشت گرد بھی ہوتے تھے، جبکہ انسانی سمگلنگ میں ملوث افراد کو بھی عام شہریوں کی طرح واپس بھیج دیا جاتا۔وزیر داخلہ نے اب یہ طریق کار وضع کر دیا ہے کہ جو لوگ بیرونی ممالک سے غیر قانونی داخلے کے الزام میں واپس بھیجے جائیں اور طریق کار کے مطابق تصدیق بھی ہو جائے تو ایسے حضرات کی آمد پر ایف آئی اے ان سے ایئر پورٹ پر ہی تفتیش کا پہلا مرحلہ طے کر لے ، چنانچہ اس پر عمل درآمد ہوا اور بے نظیر انٹرنیشنل ایئر پورٹ اسلام آباد آنے والے افراد میں سے انسانی سمگلنگ میں ملوث اور مبینہ دہشت گرد بھی گرفتار کئے گئے۔ وزیر داخلہ کے اس فیصلے اور اس کے بہتر نتائج کی تعریف کی جانا چاہئے کہ اصولی موقف پر مضبوطی سے قائم رہیں تو نتائج بھی بہتر نکلتے ہیں۔

مزید :

اداریہ -