جمیل الدین عالی کی رحلت!

جمیل الدین عالی کی رحلت!

  

’’جیوے جیوے پاکستان‘‘ اور ’’اے وطن کے سجیلے جوانو‘‘ جیسے لازوال قومی نغموں کے خالق جمیل الدین عالی اس جہان فانی سے رخصت ہوگئے۔ انہوں نے طویل عمر پائی اور اس زندگی کا لمحہ لمحہ بھرپور انداز میں جئے۔ ویسے تو انہوں نے زندگی کے جس شعبے میں بھی قدم رکھا وہاں داستان چھوڑ گئے۔ تاہم کالم نگاری میں انہوں نے ایک نئی طرز فغاں ایجاد کی اور ایک ایسے اسلوب تحریر کو متعارف کرایا جو ان سے پہلے نہ تھا اور جس کی لفظیات بھی اُن کی اپنی تھیں شاید کوئی اسے اپنانے کیلئے بھی تیار نہ ہو کہ یہ اسلوب ان کے ساتھ ہی مخصوص ہوکر رہ گیا تھا۔ ان کے قومی و ملی نغمے آج بھی پاکستان کی فضاؤں میں رس گھولتے ہیں‘ انہوں نے خوبصورت شاعری بھی کی اور ’’دوہے‘‘ پر خصوصی توجہ کی لیکن وفاقی اردو یونیورسٹی کا قیام ایک ایسا کارنامہ ہے جس کے حوالے سے ان کی یاد ہمیشہ آتی رہے گی۔ ایسی یونیورسٹی کا خواب تو سب سے پہلے بابائے اردو مولوی عبدالحق نے دیکھا تھا‘ وہ اس کیلئے کوششیں بھی کرتے رہے لیکن ہر کسی کی کوشش ضروری نہیں کامیاب بھی ہو۔ مولوی عبدالحق اپنے خواب کی تعبیر نہ دیکھ سکے‘ لیکن یہ سعادت جمیل الدین عالی کے حصے میں آئی اور وہ جنرل پرویز مشرف کے عہد میں وفاقی اردو یونیورسٹی بنوانے میں کامیاب ہوگئے‘ جو اب اپنا کردار ادا تو کر رہی ہے لیکن اس میں بہت کچھ اصلاح اور بہتری کی ضرورت ہے۔ کہنے کو تو یہ اردو یونیورسٹی ہے لیکن اس میں سب کچھ اردو نہیں ہے۔ امید ہے محبان اردو اس کام کو آگے بڑھائیں گے اور جمیل الدین عالی کے بعد اپنے حصے کی شمع جلائیں گے۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے اور پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے۔

مزید :

اداریہ -