حکومتی وکلاء نے دلائل میں سانحہ ماڈل کی انکوائری کیلئے قائم جوڈیشل ٹربیونل کی تشکیل کو ہی غیر آئینی قرار دے دیا

حکومتی وکلاء نے دلائل میں سانحہ ماڈل کی انکوائری کیلئے قائم جوڈیشل ٹربیونل ...

  

لاہور(نامہ نگار خصوصی )لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس محمد خالد محمود خان ،جسٹس محمد انوارالحق اورجسٹس عبدالسمیع خان پر مشتمل فل بنچ کے روبرو حکومتی وکلاء نے اپنے دلائل میں سانحہ ماڈل کی انکوائری کے لئے قائم کئے گئے جوڈیشل ٹربیونل کی تشکیل کو ہی غیر آئینی قرار دے دیا ۔وکلاء نے دلائل دیئے کہ ہوم سیکرٹری پنجاب کی جانب سے چیف جسٹس لاہورہائیکورٹ کو سانحہ ماڈل ٹاؤن کی جوڈیشل انکوائری کیلیے مراسلہ بھجوایاگیا ، چیف جسٹس ہائیکورٹ نے جوڈیشل انکوائری ٹربیونل کے لئے جج کا نام ہوم سیکرٹری کو بھجوانے کی بجائے خود ہی جوڈیشل انکوائری ٹربیونل کی منظوری دی،اس کے لئے متعلقہ جج سے مشاورت بھی نہیں کی گئی اوررجسٹرارہائیکورٹ نے نوٹیفکیشن جاری کردیاجس کی آئین انہیں اجازت نہیں دیتا۔ پنجاب حکومت کی طرف سے یہ دلائل خواجہ حارث احمد اور مصطفی رمدے ایڈووکیٹس کی طرف سے دیئے گئے ۔ خواجہ حارث نے مزید دلائل دیتے ہوئے کہا کہ آئین ، جج کا حلف ،کوڈ آف کنڈکٹ اورنیشنل جوڈیشل پالیسی کے تحت ہائیکورٹ کے جج سے نان جوڈیشل کام نہیں لیاجاسکتا، جوڈیشل انکوائری ٹربیونل کی حیثیت انتظامی ہے اور عدالت میں صرف تفتیشی افسر کی طرف سے کی جانے والی تفتیش کی اہمیت ہے جبکہ ہائیکورٹ کے جج کی سربراہی میں بننے والے جوڈیشل انکوائری ٹربیونل کی سفارشات کی کوئی آئینی اورقانونی حیثیت نہیں ہے۔ فاضل بنچ نے سانحہ ماڈل ٹاؤن جوڈیشل انکوائری کو منظرعام پر لانے کے اس کیس کی سماعت 14دسمبر تک ملتوی کرتے ہوئے حکومتی وکلاء سے مزید دلائل طلب کرلئے ہیں ۔

مزید :

علاقائی -