وزیر اعلیٰ کے صوابدیدی اختیارات کے تحت ان کی الاٹمنٹوں کا ریکارڈ 2دسمبرکو طلب

وزیر اعلیٰ کے صوابدیدی اختیارات کے تحت ان کی الاٹمنٹوں کا ریکارڈ 2دسمبرکو طلب

لاہور(نامہ نگار خصوصی )لاہورہائی کورٹ نے چیف سیکرٹری ، سابق ایڈیشنل سیکرٹری اور ایڈیشنل سیکرٹری ویلفیئرکے خلاف توہین عدالت کی درخواست پر پنجاب کی سرکاری رہائش گاہوں اور وزیر اعلیٰ کے صوابدیدی اختیارات کے تحت ان کی الاٹمنٹوں کا ریکارڈ 2دسمبرکو طلب کر لیا۔ جسٹس محمدخالدمحمودخان نے ڈپٹی رجسٹرار ہائیکورٹ محمد اکمل خان سمیت دیگرکی جانب سے چیف سیکرٹری خضرحیات گوندل ، سابق ایڈیشنل سیکرٹری مبشررضا اور ایڈیشنل سیکرٹری ویلفیئرخالدمحمودکے خلاف توہین عدالت کی درخواست کی سماعت کی۔ درخواست میں موقف اختیارکیاگیاکہ اس وقت تین ہزار چھ سونوے سرکاری رہائش گاہیں ہیں لیکن عدالتی حکم کے باوجود ہائیکورٹ ملازمین کوسرکاری رہائش گاہیں الاٹ نہیں کی جارہیں۔ وکلا ء4 کا کہنا تھاکہ وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے صوابدیدی اختیارات استعمال کرتے ہوئے دوسو سے زائد افراد کو میرٹ سے ہٹ کر رہائش گاہیں الاٹ کی ہیں۔ سرکاری وکیل نے موقف اختیار کیا کہ تمام رہائش گاہیں میرٹ پرالاٹ کی گئی ہیں۔ طلب کرنے کے باوجود سرکاری رہائش گاہوں کا ریکارڈ پیش نہ کرنے پر عدالت نے برہمی کااظہارکرتے ہوئے سماعت 2دسمبر تک ملتوی کردی اوروزیراعلیٰ کے صوابدیدی اختیارات کے تحت الاٹ کردہ رہائش گاہوں سمیت تمام ریکارڈطلب کر لیاہے۔

مزید : علاقائی