سیاست کو خدمت میں بدل دیا ، صوبے قریب سے قریب تر آجائینگے ، نواز شریف

سیاست کو خدمت میں بدل دیا ، صوبے قریب سے قریب تر آجائینگے ، نواز شریف

  

  جھنگ‘ گلگت (آئی این پی‘ آن لائن) وزیراعظم نوازشریف نے کہا ہے کہ وہ چاروں صوبوں کو قریب سے قریب تر لانے کیلئے کوششیں کر رہے ہیں۔ اس مقصد کیلئے منصوبے بنائے جا رہے ہیں جس سے دلوں کو قریب لانے میں مدد ملے گی‘ ہم نے شفافیت اور ایمانداری کو یقینی بنایا اور کمیشن اور کک بیکس کا خاتمہ کیا جس سے ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ اربوں روپے کی بچت ہوئی‘ اسی طرح تاریخ میں پہلی مرتبہ کسانوں کیلئے 341 ارب روپے کا امدادی پیکج دیا گیا۔ ہم نے سیاست کو خدمت میں بدل دیا ہے۔ وہ گلگت اور جھنگ میں اجتماعات سے خطاب کر رہے تھے۔ جھنگ میں کسان پیکج کے تحت چاول اور کپاس کے کاشتکارں کو معاوضوں کی ادائیگی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ کسانوں کیلئے 341 ارب کا پیکج ملکی تاریخ میں کسی حکومت نے نہیں دیا، دنیا میں فصلوں کی قیمتیں گرنے سے پاکستان میں بھی زرعی اجناس کی قیمتیں کم ہوئیں جس کی وجہ سے کسانوں کو مشکلات کاسامنا کرنا پڑا،نواز شریف مشکل میں کسی کا ساتھ نہیں چھوڑتا، مصیبت کی اس گھڑی میں کسانوں کے ساتھ ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ہمدردی نعروں اور محض زبانی نہیں بلکہ کچھ کرنے سے ہوتی ہے،جن علاقوں میں زلزلہ آیا وہاں امداد کرنے اور حوصلہ دینے میں دیر نہیں کی بلکہ گورنر‘ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا او ردیگر حکام کے ساتھ مشاورت کے بعد فوری طور پرامدادی کاموں کی منصوبہ بندی کی اور فوری عملدرآمد کو یقینی بنانے کی کوشش کی۔ جہاں جہاں زلزلہ آیا مشکلات آئیں وہاں وہاں گیا اور جانی و مالی مشکلات کاشکار ہونے والوں کی بحالی کیلئے ہر ممکن کوشش کی۔ ہم نے اپنا فرض سمجھتے ہوئے سب کی مدد کی کوشش کی ،فرائض کی ادائیگی میں کسی کو نہیں بھولے اس لیئے وہاں سے یہاں چلا آیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے سیاست کا انداز بدل دیا ہے ،ہماری سیاست اب خدمت میں بدل چکی ہے، ہم اقتدار کی نہیں اقدار کی سیاست کررہے ہیں،ہم نے تمام صوبوں میں کامیاب ہونے والی جماعتوں کا مینڈیٹ تسلیم کیا اور انہیں حکومت بنانے کی پیشکش کی۔نواز شریف نے کہاکہ ہم نے اپنی خدمات کا سلسلہ پنجاب تک محدود نہیں رکھا بلکہ سندھ ،بلوچستان اور خیبر پختونخوا سمیت پورے ملک میں اپنی خدمات جاری رکھی ہوئی ہے،ہم نے کسی مخصوص صوبے یا کسی جماعت کی پروا نہیں کی بلکہ ہمیں عوام کا مفاد دیکھنا ہے اپنی حکومت نہیں پاکستان کے بارے میں سوچنا ہے۔ میری دعا ہے کہ اللہ پاک سب کو خوشحال کرے اور سب بچے سکول جائیں۔ انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ آپ سے ہمدردی کا دعویٰ کرتے ہیں جبکہ کسانوں کے حقوق کے دعویداروں نے اس پیکج کو رکوانے کی کوشش کی حتیٰ کہ اسے عدالتوں میں لے جا کر پابندی کا شکار کرنے کی کوشش کی لیکن ہم ہائی کورٹ گئے اور اب پورے زورشور سے اس پیکج پر عملدرآمد ہو رہا ہے،سیکڑوں یا ہزاروں نہیں 12لاکھ 77ہزار کسانوں میں امددی رقوم تقسیم کررہے ہیں،گنے کی قیمت 180روپے فی من کی ادائیگی یقینی بنائے جانے کا فیصلہ کیا ہے،تمام صوبائی حکومتیں اس ہدایت کو یقینی بنانے کیلئے شکایتی مراکز بھی قائم کریں تاکہ قیمتوں کی مکمل ادائیگی کو یقینی بنایا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ لوڈشیڈنگ نے پچھلے 15سال سے ملک میں اذیت کا سامان کیا ہوا تھا لیکن اب لوڈ شیڈنگ کم ہو رہی ہے۔ دنیا میں تیل کی قیمتیں کم ہوئیں تو ہم نے اس کا فائدہ عام آدمی تک پہنچانے کیلئے پاکستان میں بھی قیمتوں میں کمی کی، ہم بجلی کے اربوں روپے کے منصوبے بنا رہے ہیں جہاں نہ صر ف بجلی کی ضروریات کو پورا کرنے کو یقینی بنایاجا رہا ہے بلکہ قیمتوں میں کمی کی بھی بھرپور کوششیں کی جا رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم نے ایمانداری اور شفافیت کو یقینی بنایااور کمیشن اور کک بیکس کا خاتمہ کیا تو اربوں روپے کی بچت ہوئی جو کہ پاکستانی تاریخ میں پہلی بارہوئی ہے۔انہوں نے کہا کسان سولر ٹیوب ویل بنائیں جس کیلئے حکومت انہیں بلا سود قرضے جاری کرے گی۔ وزیراعظم نے وزیراعلیٰ شہباز شریف اور وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا اس پیکج کی تیاری میں ساتھ دینے پر شکریہ ادا کیا۔منگل کے روز وزیر اعظم نواز شریف وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات پرویز رشید اور دیگر رہنماؤں کے ہمراہ گلگت بلتستان پہنچے جہاں نئے گورنرمیر غضفر کی حلف برداری کی تقریب میں شرکت کی ،وزیر اعظم نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میر غضفر کے گورنربننے پر دلی خوشی ہو رہی ہے ،نئے گورنر عوام کا درد دلوں میں محسوس کرتے ہیں امید ہے میر غضفر عوام کی فلاح و بہبود کیلئے بھر پور اقدامات کریں گے، انہوں نے کہا کہ پورے ملک میں دلوں کو ملانے والے منصوبے شروع کر دیئے گئے ہیں، موٹرویز اور سڑکوں کا جال بچھایا جارہا ہے ،چاروں صوبوں کے عوام کو قریب سے قریب تر کیا جارہا ہے،ماضی میں یہ فاصلے بہت زیادہ تھے اس لئے خطے کی ترقی سست روی کا شکار رہی ہے ،لوگوں چند کلو میٹر کے فاصلے کا سفر کئی کئی گھنٹوں میں کرتے ہیں لیکن ہم نے اقتدار سنبھالتے ہی سب سے پہلے عوام کے دلوں کو ملانے والے منصوبے شروع کئے ہیں ماضی کی نسبت اب فاصلے بہت کم ہوگئے ہیں،انفراسٹرکچر کے منصوبوں سے لوگ کو روز گار اور ایک دوسرے کے علاقوں میں تجارت کے کئی مواقع پیدا ہوں گے۔وزیر اعظم نے کہا کہ گلگت بلتستان کیلئے ماضی میں کوئی کام نہیں کیا گیا ،کاش ماضی میں کام ہوتے تو آج یہ خطے خوشحال ہوتا اور عوام بے روز گار نہیں ہوتے ،مجھے معلوم ہے کہ یہاں کے خطے کے لوگوں کو بہت سے مسائل درپیش ہیں ان مسائل کے حل پر خصوصی توجہ دے رہا ہوں اور بار بار یہاں آ کر مسائل حل کرنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ یہاں کے لوگوں پر اربوں روپے خرچ کررہے ہیں اسلئے یہاں خوشحالی ضرور آئے گی،وزیر اعظم نے نئے گورنر کوہدایت کی کہ خطے میں سیاحت کی فروخت کے لئے خصوصی توجہ دیں ،پاکستان بھر کے لوگ گلگت بلتستان کا رخ کررہے ہیں‘ سیاحوں کی مشکلات دور کی جائیں اور بہترین سیاحتی پروگرام تشکیل دیئے جائیں تا کہ آئندہ سیزن میں سیاحوں کی تعداد 20 لاکھ سے زائد ہو جائے۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں بھاشا ڈیم کی تعمیر کی جارہی ہے جو منگلا ڈیم سے بھی بڑا ڈیم ہے ،اس کی تعمیر سے نہ صرف گلگت بلتستان میں بجلی آئے گی بلکہ ملک کے دیگر حصے بھی مفید ہوں گے۔ ملک میں بجلی منصوبوں پر اربوں روپے خرچ کئے جارہے ہیں جو ہمارے دور اقتدار میں ہی مکمل ہو جائیں گے جس سے 10 ہزار سے زائد میگاواٹ بجلی سسٹم میں آجائے گی۔

مزید :

صفحہ اول -