ماں کے سامنے بیٹا قتل کر کے ملزم مدعی بن بیٹھا بوڑھی خاتون انصاف کیلئے دربدر

ماں کے سامنے بیٹا قتل کر کے ملزم مدعی بن بیٹھا بوڑھی خاتون انصاف کیلئے دربدر

  

 لاہور(اپنے نامہ نگار سے) بیٹے کو ماں کے سامنے قتل کرنے والاملزم خود مدعی بن بیٹھا ۔بوڑھی ماں انصاف کے لئے دربدر ہوگئی ،قاتل ملی بھگت سے ضمانتیں کروا کر مظلوم ماں کے سامنے پھرنے لگے ۔بھلوال کی فضیلت بی بی انصاف کی اپیل لئے لاہور آئی جی آفس پہنچ گئی ۔وزیر اعلیٰ پنجاب اور چیف جسٹس پاکستان سے قاتلوں کے خلاف کارروائی کے لئے از خود نوٹس لینے کی اپیل۔تفصیلات کے مطابق چک نمبر 9شمالی ڈاک خانہ خاص بھلوال کی رہائشی فضیلت بی بی اپنے جواں سالہ بیٹے محمد رمضان کے ساتھ گاؤں میں رہائش پذیر تھی ،خاتون کے مطابق اس نے اپنے بیٹے کی شادی سرگودھا کی رہائشی عائشہ بی بی سے کردی مگر شادی کے چند روز بعد ہی عائشہ بی بی گھریلو حالات غربت سے پریشان ہو کر اپنے میکے سرگودھا واپس چلی گئی ۔بوڑھی فضیلت بی بی نے بتایا کہ اس نے اپنے رشتہ داروں کی مدد سے بیٹے کے سسرال والوں کوسمجھایا کہ میرا بیٹا اپنا گھر آباد کرنے کے لئے جو کر سکتا ہے کرے گا جس پر بیٹے کے سسرالیوں نے فضیلت بی بی سے بیٹے کو اکیلے سسرال بھیجنے کا مطالبہ کر دیا مگر فضیلت بی بی اپنے جواں سالہ بیٹے کو لئے اس کے سسرال پہنچ گئی جہاں اس نے عائشہ کے والدین سے ملاقات کر کے ان سے ان کی بیٹی کو الگ گھر میں رکھنے اور کسی بھی صورت بیٹے کا گھر آباد کرنے کا کہنے کا فیصلہ کیا ۔ عائشہ کے گھر والے صلح کی بجائے محمد رمضان سے لڑائی جھگڑے پر اترآئے اور عائشہ کا چچا حیدر اپنے رشتہ داروں اور ساتھیوں عبدالجبار ،محمد اصغر ،ذولقرنین ،محمد نواز ،وقار ،ذولفقار اور محمد صدیق کے ہمراہ ڈنڈوں اور آتشین اسلحہ کے ساتھ حملہ آورہوگیا اور اس کو ڈنڈے مار مار کر شدید زخمی کر دیا اور ساتھ ہی فضیلت بی بی کو بھی گالیاں دینا شروع کر دیں اور تشدد کیا اور کہا ہماری بچی کو گھر لیجانے کا نتیجہ دیکھ لو۔ اسی اثناء میں ملزمان ہوائی فائرنگ کرتے رہے جبکہ ثقلین اور عثمان نے محمد رمضان کے سر پرسٹل کے بٹ مارے ۔ فضیلت بی بی کے مطابق وہ ان کو روکتی رہی جبکہ موقع پر سسرالی رشتہ دار عابد حسین اور بابر حسین نے میرے بیٹے کو ا ن ظالموں کے قبضے سے نکالا اور اس کو ہسپتال میں پہنچایا ۔فضیلت بی بی کے مطابق جب محمد رمضان ہسپتال پہنچا تو اس کی حالت انتہائی تشویش ناک تھی جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم تو ڑگیا اور فضیلت بی بی بھی بیہوش ہو گئی ۔ملزمان نے موقع سے فائد اٹھاتے ہوئے مورخہ 21.7.2015کو قاتل عبدالجبار نے اپنی ہی مدعیت میں تھانہ کڑانہ ضلع سرگودھا میں میرے بیٹے کے قتل کی ایف آئی آر درج کروادی جب مجھے ہوش آیا تو معاملہ ہی اور نکلا میں نے پولیس کی منت سماجت کی تو پولیس اہلکاروں نے بتایا کہ اب ایف آئی آرکاٹی جاچکی ہے مگر انصاف کے تقاضے پورے کئے جائیں گے اور ملزمان کو سزائے دلوا کر ہی دم لیں گے مگر اگلے ہی ماہ ملزمان پولیس اور عبدالجبار سے ساز باز کر کے ضمانتوں پر باہر آگئے ۔فضیلت بی بی کے مطابق اب تمام ملزمان مجھے کیس کی پیروی سے منع کر رہے ہیں اس موقع پر فضیلت بی بی کا کہنا تھا کہ میں غریب اور لاچار ہوں مجھ پر رحم کیا جائے اور میری قانونی امداد کی جائے میری وزیر اعلیٰ پنجاب ،وزیر اعظم پاکستان ،چیف جسٹس پاکستان اور چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ سے اپیل ہے کہ ملزمان کو فوری گرفتار کر کے میرے بیٹے کے قتل کا بدلہ لیا جائے اور مجھے انصاف فراہم کیا جائے ۔

مزید :

علاقائی -