سی سی ٹی وی کیمرے مجرم کا سراغ لگانے میں ناکام سد باب کیلئے جدید طریقہ تفشیش اپنانے کی ضرورت

سی سی ٹی وی کیمرے مجرم کا سراغ لگانے میں ناکام سد باب کیلئے جدید طریقہ تفشیش ...

لاہور(اپنے نامہ نگار سے)سی سی ٹی وی کیمرے ملزمان کی شناخت کے لیے سود مند نہیں ہوتے البتہ ملزمان ایسی جگہوں پر جہاں سی سی ٹی وی کیمرے نصب ہو تے ہیں وہاں وارادت کر نے سے کتراتے ہیں۔ ایک اعلیٰ پولیس افسرنے پاکستان سے گفتگو کر تے ہو ئے کہا کہ سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے واردات ہو نے کا پتہ تو چل جا تا ہے لیکن ملزمان کی شناخت کر نا بہت مشکل ہو تا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لاہور پو لیس سی سی ٹی کیمروں سے طوبیٰ قتل کے علاوہ کسی اہم کیس کے ملزم کوشناخت نہ کر سکی ہے ۔جس کی اہم مثالیں مبین ملک قتل کیس اور با غبانپورہ کے علاقہ میں سنبل زیادتی کیس ہیں جن کی سی سی ٹی وی فوٹیج ہو نے کے باوجود پولیس ابھی تک ملزمان کو گرفتار نہ کر سکی۔تفصیلا ت کے مطابق سی سی ٹی وی کیمروں سے ملزمان کو شناخت کرنا پولیس کے لیے بہت مشکل ہو تا ہے، مجروم سے ملتی جلتی شکلوں کے لو گ اکثر پولیس کا تشدد برداشت کر تے رہتے ہیں۔لاہور پولیس نے ماڈل طوبیٰ کے قاتلوں کو سی سی ٹی وی فوٹیج کے ذریعے تلاش کر نے کے علاوہ کسی بھی اہم کیس کے ملزمان کو سی سی ٹی وی فوٹیج کے ذریعے ٹریس نہیں کیا ہے جس کی اہم مثالیں با غبانپور ہ کے علاقہ میں2سال قبل 5 سالہ بچی سنبل کو اغواء کے بعد بد اخلاقی کا نشانہ بنانے والے ملزمان کو پولیس تاحال گرفتار نہیں کر سکی اور نہ ہی ملزمان کا سراغ لگایا جاسکا ہے جبکہ پولیس نے تمام سی سی ٹی وی فوٹیج فرانزک لیبارٹری بھجوا دی تھیں۔دوسرے واقع میں اداکارہ انجمن کے شوہر مبین ملک لاہور کے علاقے ڈیفنس میں گاڑی میں اپنی رہائش کی جانب جا رہے تھے کہ راستے میں گھات لگائے نامعلوم افراد نے ان پر فائرنگ کر دی جس سے مبین ملک اور ان کا ڈرائیور قتل ہو گئے تھے جبکہ ان کی بیٹی شدید زخمی ہو ئی تھی پولیس نے اس واقعہ کی بھی سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کر لی تھی تاہم پولیس اس کیس کے ملزمان کو بھی ابھی تک ٹریس نہ کر سکی ہے۔جس سے واضح ہو تا ہے کہ سی سی ٹی وی فوٹیج ملزمان کی شناخت کرنے میں کوئی خاض مدد گار ثابت نہیں ہو تی۔اس لئے جدید سائنسی طریقہ کار کو اپنانے کی ضرورت ہے۔

مزید : علاقائی