احتساب کے اداروں کے قیام کا تجربہ کامیاب رہا ، صدر ممنون حسین

احتساب کے اداروں کے قیام کا تجربہ کامیاب رہا ، صدر ممنون حسین

  اسلام آباد(آن لائن)صدر مملکت ممنون حسین نے کہاہے کہ عوام کو فوری، مفت اور گھر کی دہلیز پر انصاف فراہم کرنے کے لیے احتساب کے اداروں کے قیام کا تجربہ کامیا ب رہا ہے۔ پاکستان میں اس سلسلے میں کئی نئے تجربات بھی ہوئے جن کے ذریعے عوامی مسائل کے حل میں آسانی پیدا ہوئی۔ ایشیائی ممالک پاکستان کے کامیاب تجربات سے استفادہ کرکے مفید نتائج حاصل کرسکتے ہیں۔ صدر مملکت نے یہ بات ایوانِ صدر میں 41 ویں ایشیائی اومبڈزمین کانفرنس کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اس موقع پر وفاقی محتسب سلمان فاروقی نے بھی خطاب کیا۔ کانفرنس میں ایشیائی ممالک کے محتسب صاحبان اور ممتاز شخصیات اور اعلیٰ حکام نے بھی شرکت کی۔ صدر مملکت اور وفاقی محتسب نے اس موقع پر اْردو میں خطاب کیا۔صدر مملکت نے کہا کہ پاکستانی تہذیب میں محتسب کا ادارہ نیا نہیں ہے۔ ہمارے ہاں یہ تصور صدیوں سے رائج رہا ہے لیکن جب اس روائتی ادارے کو باضابطہ ادارے کی شکل دی گئی تو اس کے بہت اچھے نتائج برآمدہوئے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں، فاٹا کے عوام ، ریٹائرڈ ملازمین اور بچوں کے مسائل کے حل کے لیے اسٹینڈنگ کمیٹیوں کے قیام کا تجربہ بھی کیا گیا ہے جو بہت کامیاب رہا ہے۔ صدر مملکت نے تجویز کیا کہ ایشیائی ممالک پاکستان کے ان کامیاب تجربات سے استفادہ کر کے اپنے ملکوں میں مفید نتائج حاصل کر سکتے ہیں۔ صدر مملکت ممنون حسین نے کہا کہ عوام اپنے مسائل کے حل کے لیے روایتی طور پر حکومتوں کی طرف دیکھتے ہیں۔ اس عمل کے دوران بعض اوقات کچھ مسائل بھی پیدا ہو جاتے ہیں اور ان مسائل سے نمٹنے کے لیے احتساب کا ادارہ بہت مفید ہے۔ صدر مملکت نے کہا کہ ایشیائی ممالک کے محتسب صاحبان کی کانفرنس کے دوران مندوبین کو تبادل خیال کا موقع ملے گا جس سے ایک دوسرے کے تجربات سے فائدہ اٹھانے اورکارکردگی کو بہتر بنانے کے مواقع ملیں گے۔ ایشیائی اومبڈزمین کے اختتامی اجلاس سے وفاقی محتسب سلمان فاروقی اور تھائی لینڈ کے محتسب پروفیسر دون سارے آن کو رانے بھی خطاب کیا۔

مزید : صفحہ اول