پیپلز پارٹی نے خود کو زندہ رکھنے کیلئے فرینڈلی اپوزیشن کی پالیسی تبدیل کرلی

پیپلز پارٹی نے خود کو زندہ رکھنے کیلئے فرینڈلی اپوزیشن کی پالیسی تبدیل کرلی

لاہور(جاوید اقبال ) پاکستان پیپلز پارٹی نے خود کو زندہ رکھنے کیلئے فرینڈلی اپوزیشن کی پالیسی میں ترمیم کرلی ہے، بلاول بھٹو زرداری کارڈ سود مند ثابت نہ ہونے پر حکومت کے خلاف بھرپور تنقید سے عوام کی ہمدردیاں اور اپنا وجود ثابت کرنے کی حکمت عملی تیار کی گئی ہے جس کا باضابطہ اعلان دبئی میں قیام پذیر پیپلز پارٹی کے شریک چیئر مین آصف علی زرداری کریں گے۔مگر اس سے قبل قومی اسمبلی میں پیپلز پارٹی کے اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے اس امر کا کھل کر اظہار کر دیا ہے جبکہ پارٹی کے نوجوان چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بھی حکومت کے خلاف مورچہ پنجاب میں لگانے کا عندیہ دے دیا ہے جن کی تنقید کا نشانہ پنجاب حکومت ہو گی ۔ بلاول بھٹو زرداری نے پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلہ میں دھاندلی کا پنجاب حکومت پر الزام عائد کر کے آغاز کر دیا ہے جس کا جواب (ن) لیگ کی مرکزی یا پنجاب قیادت نے دینے کی بجائے سندھ کے ضلع ٹھٹھہ کے ضلعی صدر سے پریس کانفرنس کر کے دلا دیا ہے کہ سندھ میں بھی بلدیاتی انتخابات میں بھرپور دھاندلی ہوئی ہے۔ اس سے صا ف ظاہر ہو گیا ہے کہ پیپلز پارٹی نے فرینڈلی اپوزیشن اور مفاہمتی سیاست کا فارمولا ترک کیا تو (ن) لیگ بھی پیپلز پارٹی کو اینٹ کا جواب پتھر سے دینے کے لیے تیار ہے اور آئندہ دنوں میں مزید تیزی آنے کا قوی امکان ہے ۔ اب یہ بات طے شدہ ہے کہ مسلم لیگ (ن) کو قومی اسمبلی سمیت پورے ملک میں تحریک انصاف کے ساتھ ساتھ پیپلز پارٹی کے تنقیدی نشتروں کا جواب دینے کے لیے تیار رہنا ہو گا ۔اس حوالے سے پیپلز پارٹی سمیت دیگر سیاسی جماعتوں کے "سیانوں "کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی کی قیادت کو یہ بات سمجھ آ گئی ہے کہ پنجاب سمیت پورے ملک میں پارٹی کو زندہ رکھنے کے لیے انہیں حکومت کو بھرپور تنقید کا نشانہ بنانا ہو گا اور اس کے ساتھ ساتھ ایشوز کی سیاست کرنا ہو گی اور حکومت کی ہر لوز بال اور فاؤل پر بیانات پر مبنی چھکا لگانا ہو گا ۔اس حوالے سے آصف علی زرداری نے قومی اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر سمیت اپنی پارٹی کے اہم رہنماؤں کو دبئی میں 30نومبر کو طلب کر رکھا ہے جہاں وہ انہیں نئی گائیڈ لائن کے ساتھ ساتھ پاکستان میں آئندہ دنوں سامنے آنے والے نئے سیاسی حالات اور نئے سیاسی منظر نامے کے مطابق ہدایات جاری کریں گے اور اس کا قوی امکان ہے کہ ان کی نئی گائیڈ لائن حکومت کو آڑے ہاتھوں لینے پر مبنی ہو گی جس کے دو مقصد بتائے جا رہے ہیں۔ پہلا حکومت کی غلط پالیسیوں پر تنقید کرنا اور عوام میں جگہ بنانے کے ساتھ ساتھ ان کی ہمدردیاں بھی حاصل کرنا اور دوسرا بڑا مقصد تحریک انصاف کو ملک کی دوسری بڑی پارٹی بننے کا راستہ روک کر پیپلز پارٹی کوسامنے لانا ہے ۔لیکن اگر یہ دو بڑے مقصد ہیں تو موجودہ حالات میں پیپلز پارٹی ان میں کامیاب ہوتی نظر نہیں آتی اس کے لئے انہیں سخت فیصلے کرنے ہوں گے اور پارٹی میں ناراض رہنماؤں اور کارکنوں کے تحفظات دور کرنے ہوں گے اور کسی مقام پر انہیں حکومت کے سامنے بھرپور انداز میں آنے کے لیے سندھ حکومت کی قربانی دینا پڑے تو اس سے بھی گریز نہ کرنا ہو گا مگر اس کے ابھی حالات موجود نہیں ہیں کیونکہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت بحرانوں سے نکل کر ایک مضبوط ،مستحکم ،لوڈ شیڈنگ اور دہشتگردی سے پاک خوشحال پاکستان کے لیے رواں دواں ہے اور اس کے لیے مسلم لیگ (ن) کی مرکزی قیادت اور پنجاب کی قیادت دن رات ایک کیے ہوئے ہیں۔

مزید : صفحہ اول