بی جے پی کے انتہا پسندوں نے شاہ رخ کے بعد عامر خان کو نشانے پر رکھ دیا

بی جے پی کے انتہا پسندوں نے شاہ رخ کے بعد عامر خان کو نشانے پر رکھ دیا

تجزیہ : قدرت اللہ چودھری

  شاہ رخ خان کا مسئلہ ابھی پوری طرح حل نہیں ہوا تھا کہ بی جے پی کے انتہا پسند ایک اور سپر سٹار کی جان کو اٹک گئے ہیں، اب کی بار عامر خان ان کے نشانے پر ہیں، جنہوں نے گزشتہ روز کہا تھا کہ وہ بھارت میں بڑھتی ہوئی انتہا پسندی کی وجہ سے پریشان ہیں ان کی اہلیہ تو باقاعدہ خوفزدہ ہیں اس لئے وہ سوچ رہے ہیں کہ ملک کو خیر باد کہہ دیں، اپنے وطن کو کوئی آسانی سے خیر باد نہیں کہتا اور جسے کروڑوں ہم وطنوں کی محبت حاصل ہو وہ تو ایسا سوچ بھی نہیں سکتا، عامر خان نے جوکچھ کہا وہ ان کے دلی کرب کا اظہار تھا جو وہ انتہا پسندی کی بڑھتی اور اٹھتی ہوئی لہر کی وجہ سے محسوس کرنے لگے ہیں ورنہ جس شخص کی فلم ’’پی کے‘‘ اس وقت بھی بزنس کے لحاظ سے ٹاپ پر ہو اور 114ملین امریکی ڈالر کا بزنس کرچکی ہو اس کا مقبول فن کار ایسا کیونکر سوچ سکتا ہے،انہوں نے ’’رنگ دے بسنتی‘‘ ’’تین بے وقوف‘‘ ’’لگان‘‘ ’’گجنی‘‘ اور میلہ جیسی فلموں میں بھی اداکاری کے زبردست جوہر دکھائے ہیں۔ لیکن جس ذہن نے ممبئی میں سدھیندراکلکرنی کے چہرے پر سیاہی ملی وہ اب عامر خان کے خلاف بھی کھل کر سامنے آگیا ہے۔ممبئی میں ان کے گھر کا گھیراؤ کیا گیا اور پٹنہ(بہار ) میں عامر خان کی فلموں کے پوسٹر جلا دیئے گئے، پٹنہ بہار کا دارالحکومت ہے اور یہاں سے ابھی بی جے پی کو شرمناک انتخابی شکست ہوئی ہے، یہاں لالو پرشاد یادیو کا طوطی بولتا ہے جو لوک سبھا کے انتخابات میں زیادہ کامیابی حاصل نہیں کرسکے تھے لیکن اب ریاستی انتخابات میں ان کی شاندار واپسی سے ثابت ہوگیا ہے کہ جو لوگ یہ کہتے ہیں ، درست ہی کہتے ہیں :

جب تک سموسے میں آلو رہے گا

پٹنہ بہار میں لالو رہے گا

بی جے پی کے انتہا پسند کارکن اسی بہار میں ہارکر عامر خان کے پوسٹر پھاڑ اور جلارہے ہیں ان کا جرم یہ ہے کہ وہ کہتے ہیں بڑھتی ہوئی انتہا پسندی اچھی نہیں ہے، تاہم حوصلہ افزا بات یہ ہے کہ عامر خان تنہا نہیں ہیں اور دہلی کے وزیراعلیٰ اروند کجری وال نے ان کی حمایت میں آواز بلند کی ہے۔ انہوں نے برملا کہا ’’عامر خان کی طرف سے کہا گیا ایک ایک لفظ سچ ہے، انہیں حق بات کہنے کی جرأت پر سلام پیش کرتا ہوں‘‘ ۔انہوں نے لگے ہاتھوں عامر خان کو یہ مشورہ بھی دے ڈالا ہے کہ وہ بھارتی اشتہاروں میں کام نہ کریں کانگرس کے رہنما راہول گاندھی نے بھی عامر خان کی حمایت کی ہے ۔

عامر خان کی فلم ’’پی کے‘‘ 2014ء میں ریلیز ہوئی تھی اور اب تک سب سے زیادہ بزنس کررہی ہے، دوسرے نمبر پر سلمان خان کی بجرنگی بھائی جان ہے جو 2015ء میں ریلیز ہوئی اور 95ملین ڈالر کا بزنس کرچکی ہے۔ جن انتہا پسندوں نے عامر خان کے پوسٹر جلائے ہیں انہوں نے ایک بار پھر بھارت کے سیکولرازم کے چہرے پر کالی سیاہی مل دی ہے، بھارت میں سرکاری ایوارڈ واپس کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ شاعر جنیت مہاپتر نے پدما شری ایوارڈ واپس کردیا ہے، اس سے پہلے متعدد بھارتی شاعر، ادیب اور فلمی صنعت سے تعلق رکھنے والے پروڈیوسر اپنے اعزاز واپس کرچکے ہیں، جو زیادہ تر ہندو ہیں، جس سے یہ مطلب اخذ کیا جاسکتا ہے کہ مجموعی طورپر ہندو بھی انتہا پسندی کے خلاف مسلمان فن کاروں کے ساتھ کھڑے ہیں۔

شاہ رخ خان نے بھارت میں عدم رواداری اور انتہا پسندی پر بات کی تو وشوا ہندو پریشد کے رہنما سادیہو پراجی نے انہیں پاکستان کا ایجنٹ قرار دے دیا، جماعت الدعوۃ کے رہنما حافظ محمد سعید نے اس پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے شاہ رخ خان کو مشورہ دیا تھا کہ وہ پاکستان آجائیں، اب یہ مشورہ جتنی بھی محبت سے دیا گیا ہو، اپنے اندر بعض ایسے پہلو بھی رکھتا ہے، جن کی حافظ صاحب کے لئے حمایت کرنا مشکل ہوگا، شاہ رخ کا میدان فلم ہے ، اور حافظ محمد سعید کا اس نگری میں کوئی گزر نہیں بلکہ وہ اسے مسلمانوں کے لئے بھی شجر ممنوعہ سمجھتے ہیں، اگرچہ بظاہر یہ ممکن تو نہیں لیکن پھر بھی فرض کریں شاہ رخ خان اگر پاکستان آتے ہیں تو اس امر کا امکان تو ہے کہ وہ لالی وڈ کی رونقوں میں اضافے کا باعث بن جائیں اور اجڑے ہوئے سینما گھر دوبارہ آباد ہو جائیں لیکن پھر شاہ رخ کا دفاع تو حافظ صاحب کے لئے بھی خاصا مشکل ہوجائے گا البتہ انہوں نے شاہ رخ کو پاکستان آنے کی دعوت دے کر بھارتیوں کے نہلے پر دہلا ضرور مار دیا تھا، اب دیکھتے ہیں کہ وہ عامر خان کو بھی ایسی کوئی پیشکش کرتے ہیں یا نہیں، یہ سپر سٹار اگر پاکستان آتے ہیں تو ممکن ہے جنید جمشید کی طرح تبلیغی جماعت سے متاثر ہوکر فلم نگری چھوڑ کر تبلیغ کا کام شروع کردیں۔ وہ ایسا نہ بھی کریں تو پاکستان آکر کشمیر میں ہندو فوجیوں کے مظالم اور ان کی ایمان افروز جدوجہد کو تو اپنی فلم کا موضوع بناسکتے ہیں۔

مزید : تجزیہ