سعودی کابینہ نے خالی پلاٹس پر سالانہ 2.5 فیصد ٹیکس عائد کردیا

سعودی کابینہ نے خالی پلاٹس پر سالانہ 2.5 فیصد ٹیکس عائد کردیا

  

جدہ (محمد اکرم اسد/ بیورو چیف) سعودی کابینہ نے خالی پلاٹس پر سالانہ 2.5 فیصد ٹیکس عائد کردیا۔ کابینہ نے مزکورہ فیصلہ ریاض کے قصریمامہ میں سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں کیا گیا۔ ٹیکس عام رہائش یا تجارتی رہائش کے لئے مختص ہر قسم کے پلاٹس پر لاگو ہوگا۔ پلاٹ کسی ایک شخص کا ہو یا کسی ادارے کا ہو یا اس میں متعدد افراد شریک ہوں، خالی پلاٹس پر وصول کئے جانے والے ٹیکس اور قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں پر عائد کئے جانے والا جرمانہ سعودی مالیاتی ایجنسی (ساما) کے اکاؤنٹ میں جمع ہوگا، اس رقم سے رہائشی منصوبے نافذ کئے جائیں گے اور رہائشی مراکز کے لئے درکار رفاہ عامہ کے وسائل مہیا کئے جائیں گے۔ وزارت آبادکاری متعلقہ اداروں کے ساتھ رابطہ کرکے لائحہ عمل تیار کرے گی۔ سعودی کابینہ قانون کے اجراء کی تاریخ سے 180 دن کے اندر اندر اسے منظوری دے کر جاری کردے گی۔ عملدرآمد کاری گزٹ میں اشاعت کی تاریخ سے 180 دن بعد ہوگا۔ ماہرین اقتصاد نے اسے پلاٹس کے نرخوں میں کمی کا پیش خیمہ قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان مکانات کی قیمتیں اور کرائے کم ہوں گے۔ ماہرین اقتصاد نے یہ بھی کہا کہ خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے یہ فیصلہ کرکے جائیدادوں پر اجارہ داری کو لگام لگائی ہے۔ اس سے زمینوں کی قیمتیں بلا شبہ گریں گی۔ انہوں نے اس یقین کا اظہار بھی کیا کہ خالی پلاٹس پر ٹیکس مقرر کئے جانے کی وجہ سے ایک طرف تو مالکان اپنے پلاٹس پر مکانات بنانے کا اہتمام کریں گے ، دوسری جانب عام شہریوں کو اس میں سرمایہ لگانے کا رجحان ابھرے گا۔ کابینہ کے فیصلے کا خیرمقدم کرنے والون میں ریاض ایوان تجارت میں غیر مقتولہ جائیدادوں کی کمیٹی کے ڈپٹی چیئرمین انجینئر محمد الخلیل، کے ایف یو پی میں فروغ افرادی قوت کے ادارے کے پروفیسر ڈاکٹر عبدالوہاب القحطان، امام محمد سعود اسلامی یونیورسٹی میں اقتصاد کے پروفیسر ڈاکٹر عبدالرحمان سلطان اور اقتصادی امور کے ماہر صافی عبدالحمید العمری شامل ہیں۔

مزید :

صفحہ آخر -