گندم مصنوعات کی برآمد میں رکاوٹیں، فلور ملوں کی تالہ بندی کیلئے 2دسمبر کو اجلاس بلا لیا گیا

گندم مصنوعات کی برآمد میں رکاوٹیں، فلور ملوں کی تالہ بندی کیلئے 2دسمبر کو ...

لاہور ( اسد اقبال)پاکستان فلور ملز ایسو سی ایشن نے فلور ملنگ سیکٹر کو در پیش مسائل کے حل اور محکمہ خوراک کے حکام کی طرف سے گندم مصنوعات کی برآمد میں رکاوٹیں ڈالنے کو نوکر شاہی کا شاخسانہ قرار دیا ہے اورفلور ملوں کی تالہ بندی کے لیے 2دسمبر کو اجلا س بلا لیا ہے جس کے لیے پنجاب سمیت ملک بھر کے فلو ر ملز مالکان سے رابطوں کا سلسلہ شروع کر دیاگیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ وفاقی حکو مت نے رواں سال 12لاکھ ٹن گندم برآمد کر نے کی اجازت دی تھی تاہم پنجاب اور سندھ کی حکو متیں برآمد ی ہدف پورا کر نے کی بجائے اپنی نالائقی پر پر دہ ڈالتی رہیں اور گندم مصنوعات کی برآمد پر پابندی عائد کر دی۔ جس کے پیش نظر پاکستان فلور ملز نے مجبور ہو کر فلو ر ملیں بند کر نے کا فیصلہ کیا ہے اور اگر حکو مت نے داد رسی نہ کی تو ملک بھر کی فلور ملیں بند کر نے کے لیے 2دسمبر کو حتمی فیصلے کا اعلان کر لیا جائے گا ۔ پاکستان فلور ملز ایسو سی ایشن کے مر کزی رہنماؤ ں عاصم رضا ، میاں ریاض او ر افتخار مٹو نے کہا ہے کہ پاکستان میں گندم کی فی ٹن قیمت 310ڈالر سے زیا دہ ہے جبکہ دنیا بھر میں فی ٹن گندم کی قیمت 210ڈالر ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک میں اس وقت بھی گندم گو داموں میں سر پلس ہے جبکہ گندم کی نئی فصل بھی بمپر کراپ دے گی جس کے باعث محکمہ خوراک کو چائیے کہ گندم برآمد کر نے کے لیے پی ایم اے کے مو قف کی تائید کر ے اور زمینی راستے سے فائن آٹا ، سو جی اور میدہ ربیٹ کے ساتھ برآمد کر نے کی اجازت دے ۔ انہوں نے کہا کہ 2دسمبر کو ملک بھر کے فلور ملز مالکان فیصلہ کر یں گے کہ اگر حکو مت نے ہمارا مو قف تسلیم نہ کیا تو ایسو سی ایشن کے پلیٹ فارم سے فلور ملو ں کی تالہ بندی کے لیے فیصلہ کیا جائے گا ۔

مزید : صفحہ آخر