ہائیکورٹ نے پہلی سے دسویں جماعت تک کی غلطیوں سے بھرپور 41مضامین کی کتب کی چھپائی روکدی

ہائیکورٹ نے پہلی سے دسویں جماعت تک کی غلطیوں سے بھرپور 41مضامین کی کتب کی ...

لاہور(نامہ نگار خصوصی )چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ مسٹر جسٹس اعجاز الاحسن نے پہلی سے دسویں جماعت تک غلطیوں سے بھرپور 41مضامین کی کتب کی چھپائی کا عمل روک دیا،فاضل جج نے ریمارکس دیئے کہ غلط چھپنے والی کتب سے نوجوان نسل کو کس طرف دھکیلا جا رہا ہے، صاف دکھائی دے رہا ہے کہ پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ غیر ذمہ دارانہ طریقے سے چل رہا ہے۔عدالتی حکم کے باوجود پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ کے ایم ڈی نوازش علی اول جماعت سے دسویں جماعت تک چھپائی کے لئے بھجوائی جانے والی 41کتب کے مینو سکرپٹ ،پبلشرز سے کئے جانے والے معاہدوں کی تفصیلات اور مینو سکرپٹ کی حتمی منظوری کامکمل ریکارڈ عدالت میں پیش نہ کر سکے۔جس پر عدالت نے ریمارکس دیئے کہ نونہالوں کی تعلیم و تربیت کا بندوبست کرنے والا اہم حکومتی ادارہ جس انداز سے چلایا جا رہا اس پر عدالت کو تعجب ہے۔ عدالتی احکامات سے روگردانی اور کتب میں موجود غلطیوں کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جا سکتا۔درخواست گزاروں کے وکیل سعد رسول نے عدالت کو بتایا کہ پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ نے قانون کو نظر انداز کرتے ہوئے حتمی مینو سکرپٹ نظر ثانی کمیٹی کے روبرو پیش کرنے کی بجائے اول جماعت سے دسویں جماعت تک کی 41کتب کو چھپائی کے لئے بھجوا دیا۔انہوں نے بتایا کہ قانونی طریقہ کارنظر انداز کرنے پر آٹھویں جماعت کی جغرافیہ کی کتاب میں پاکستان کے چھ صوبے ظاہر کر دئیے گئے تھے،سرائیکستان اور ہزارہ کو صوبہ ظاہر کرنا چھوٹے بچوں کے ذہنوں میں پاکستان کی غلط تاریخ بٹھانے کے متراد اف اور آئین کے آرٹیکل ایک اور دو کی نفی ہے۔انہوں نے کہا کہ چھپائی کے لئے بھجوائی جانے والی فزکس،کیمسٹری ریاضی،،اور دیگر اہم علوم سے متعلقہ کتب میں قانونی طریقہ کار کے مطابق بڑی خامیوں کی اصلاح نہ کی گئی تو نونہال اور نوجوان طالبعلم پوری زندگی غلطی کو درست مانتے رہیں گے۔جس پر عدالت نے عدالتی احکامات نظر انداز کرنے اور طریقہ کار سے ہٹ کرپرائمری سے دسویں جماعت تک غلطیوں سے بھرپور 41مضامین کی کتب کی چھپائی کا عمل روک دیا۔عدالت نے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر اول جماعت سے دسویں جماعت تک چھپائی کے لئے بھجوائی جانے والی 41کتب کے مینو سکرپٹ کا ریکارڈ،پبلشرز سے کئے جانے والے معاہدوں کی تفصیلات اور مینو سکرپٹ کی حتمی منظوری کی دستاویزات عدالت میں پیش کرنے کا حکم دے دیا۔

مزید : صفحہ آخر